اظہر جعفری: میں نے اس کو دیکھا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ خوابوں کے بے آبا د جزیروں اور ناتمام امیدوں کی دنیا کا باشندہ تھا اس کی تلا ش ایک ایسی منزل کی تمنا تھی جہاں زندگی خوشیوں کے باغ میں نمو پذیر ہو۔ اس کا یہ سفر کم بیش تین عشروں پر محیط ہے اور اس تیس سالہ سفر میں اس نے اپنے ملک پاکستان کی سیاست کے کئی نشیب وفراز کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھا۔ اور اپنے انداز سے عکس بند کیا ہے۔ عوام کاغیظ و غضب، محروم اور بے سہارا عوام کے اشک اور قدرت کے بدلتے ہوئے رنگ، اس نے ایک مصور کی طرح اپنی تصاویر میں منعکس کئے ہیں۔

میںنے اظہر حسین جعفری کو ہمیشہ ٹھٹرتے موسموں، تپتی دوپہروں اور ہنگامی صورتِ حال میں کیمرا کندھے پر لٹکائے ہوئے شاہراہ زندگی پر گام زن دیکھا ہے۔

طویل قامت، بڑی بڑی غلافی آنکھیں اور لہراتے ہوئے بال۔ میں جب بھی انہیں دیکھتا تو پکارتا ’شاہ جی ایدھر آﺅ تے کو ئی نویں خبر سناﺅ‘ شاہ جی آتے، چائے کے دور چلتے اور پھر گویا دبستان کھل جاتا۔ بہت کم صحافت اور سیاست کی باتیں ہوا کرتی تھیں اکثر و بیشتر میوزک، فلموں اور شخصیات کے بارے میں ہی تبادلہ خیال ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے ان سے کہا ”شاہ جی آپ اپنی آپ بیتی ریکارڈ کرائیں۔ وہ مسکرائے اور بولے۔ ”خیال تو اچھا ہے مگر کئی دوست ناراض ہوں گے اور میں خواہ مخواہ کسی کی تعریفیں نہیں کر سکتا۔ “

اظہر حسین جعفری نے ماہانہ تنخواہ کے لئے کبھی کام نہیں کیا۔ اپنے خوابوں کی تکمیل اور شوق کے لیے کام کیا۔ کام کرنے والے اداروں کے رحم و کر م پر ہوتے ہیں مگر اظہر حسین جعفری ایک ایسے نابغہ روزگار تھے جن کے لئے ادارے ہمیشہ اپنے دروازے کشادہ رکھتے تھے۔ ”ڈان“ پاکستان کا ایک معتبر انگریزی روزنامہ ہے۔ رات گئے ڈان کے آفس میں ایڈیٹر اور کاپی پیسٹر منتظر ہوتے تھے کہ اظہر حسین جعفری کی آج کی تصویر آئے تو اخبار کی کاپیاں پریس جا سکیں۔ وہ تصویر آتی اور ظفر اقبال مرزا (زم صاحب) اس تصویر کو بغور دیکھ کراس کے نیچے ایک کیپشن لگاتے، گویا اس تصویر کی معنویت یا پیغام کو ایک لائن میں اجاگر کرتے تھے۔ تصویر کی پوشیدہ خبر نمایاں ہو جاتی تھی۔

شدید گرمی میں ایک پیاسی چڑیا پانی کے نلکے سے ٹپکنے والے قطروں کو اپنی چونچ سے اٹھا رہی ہے۔ پتوں پر جمی ہوئی اوس، ایک احتجاجی جلوس اور سڑک کے کنارے کھڑا ایک حیران بچہ، بے چھت کے سکول میں زیر تعلیم بچے، اپنی گاڑی میں کھڑی ہاتھ ہلاتے ہوئے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور اس کی گاڑی کے ساتھ دوڑتے ہو ئے لوگ جن میں اپنی بیساکھی کے ساتھ ایک معذور شخص بھی شامل ہے، غرض کیمرے کی آنکھ سے شہر کو دیکھو۔۔۔ ان گنت تصویریں جن میں ہماری سیاسی اور سماجی تاریخ کے نقوش عکس در عکس نمایاں ہوئے۔

اظہر حسین جعفری کے خاص دوستوں میں بہت سے افراد شامل تھے، جعفری صاحب پکے لاہوریے تھے۔ اور لاہور آوارگی ان کے رگ و پے میں شامل تھی۔ انہوں نے کبھی اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ مسکراتے اور شگوفے چھوڑتے ہوئے فوٹو گرافر راحت ڈارسے ان کا پکا یارانہ تھا۔

اظہر حسین جعفری سیاسی اشرافیہ کے کبھی قریب نہیں پھٹکے حالانکہ انہیں ایسے کئی مواقع ملے کہ وہ کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم سے کو ئی ذاتی مفاد وغیرہ لے لیتے لیکن ایک ملنگ اور مست آدمی ان دنیاوی بکھیڑوں سے یکسر آزاد تھا۔ کئی سیاستدانوں نے انہیں اپنا ذاتی فوٹوگرافر بنانے کی کو شش کی تھی لیکن انہیں ’درباری ‘ بننا ہرگز گوارا نہیں تھا۔

مجھے اور میرے ایک دوست حفیظ ظفر کو فلموں اور موسیقی کا بے حد شوق ہے۔ جعفری صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تھی تو ان کے لبوں پر کوئی نہ کوئی گیت مچل رہا ہوتا تھا۔ اوروہ گنگناتے ہوئے پوچھتے تھے کہ ’دس ہاں ایہہ کس فلم دا گانا اے ‘میں اپنی بساط کے مطابق بتا دیتا تھا اور پھر رات گئے فلموں اور گیتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا

اظہر حسین جعفری انتہائی دردمند انسان تھے۔ کوئی بھی کسی کام کے لیے ان کے پاس آتا تو فوراً اٹھ کر چل پڑتے تھے۔ کسی کی مالی امداد کرنا ہوتی تو ایک ہاتھ دے اور دوسرے کو خبر نہ ہو کے مصداق کر دیا کرتے تھے

جی کا روگ تو انہیں کوئی نہ تھا البتہ دل کا روگ وہ چپکے چپکے پال رہے تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ اپنی صحت کا خیال رکھا کریں تو کہنے لگے ’زندگی لمبی نہیں، بڑی ہونی چاہیے۔ بڑی اور لمبی زندگی کا فرق تو انہوں نے ایک فلاسفر کی طرح سمجھایا میں نے جب انہیں اپنی کتاب” جالب بیتی“ دی تو انہوں نے فوراً کہا کہ حبیب جالب جیسے لوگوں نے بڑی زندگی گزاری ہے۔

اظہر حسین جعفری نے کبھی سوقیانہ گفتگو نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ رات میں سجنے والی پارٹیوں میں شریک ہوتا تھا۔ (بھائی طاہر اصغر، ہمارے عزیز دوست اظہر جعفری پر یہ تہمت مناسب نہیں۔ وہ معصوم انسان دن کی روشنی میں چہکتا اور رات کے اندھیرے میں جگمگاتا تھا۔ درویش نے رات گئے کی مجلسوں میں ان کی صحبت سے بہت فیض اٹھایا۔ انہیں ریا کاری سے سخت نفور تھا۔ و- مسعود) کوئی تعصب نہیں تھا۔ ان نامور لوگوں کی محفلوں میں اس کا آنا جانا تھا جو گوہر نایاب تھے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی آپ بیتی نہ لکھ سکا۔ سوچتا ہوں کہ ایک شخص اپنی وراثت میں سو ملاقاتیں، ہزاروں تصویریں اور اپنا کیمرا اپنے بیٹے عون جعفری کو دے کر چلا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے ہم عصر اوران کے بعد آنے والے ان کی وراثت کے امین ہیں۔ ان کے بیٹے عون جعفری نے انتہائی مشکل حالت میں اپنا کام انجام دینا سدیکھا۔ لاہور میں ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں تصاویر بناتے ہوئے وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔ تب میں نے سوچا تھا کہ وہ اظہر حسین جعفری کے جذبے کے ساتھ کام کر رہا ہے وہ ان کے مشن کو آگے بڑھائے گا اور کسی دن ان جیسی تصویر بھی بنائے گا ۔

اظہر حسین جعفری ایک سیمابی طبعیت کا مالک انسان تھا خوب سے خوب تر کی جستجو اس کا شیوہ تھا۔ وہ کسی طور بھی ’واہ واہ‘ پر کان نہ دھرتا تھا۔ تصویر اور تصور کا خاص امتزاج اس کا خاص اسلوب اور پہچان تھی۔ بس ایک زاویہ نگاہ تھا جو ایک منفرد عکاس کی تصویر سے ہویدا تھا ۔

اس کی شخصیت میں قوس قزح کے رنگ بکھرے ہو ئے تھے۔ وہ ہرگز ناراض انسان نہیں تھا۔ صلح جوئی اور محبت اس کے خمیر کا حصہ تھی۔ میں اوراق ماضی کی ورق گردانی کرتے ہو ئے اظہر حسین جعفری کی باتیں یاد کرتا ہوں۔ اس کے بارے میں اکثر سوچتا ہوں۔ وہ ایک شاندار انسان تھا آج بھی میری نظریں پریس کلب کے میں دروازے کی طرف اٹھتی ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ جعفری صاحب کشاں کشاں چلے آرہے ہیں اور میں بلندآوازسے پکاروں گا جعفری صاحب آ جاﺅ، چائے کا ایک کپ ہو جائے اور پھر ہم دونوں کلب کے پارک میں ایک بنچ پر بیٹھ جاتے اور پھر گیتوں اور ان کے مکھڑوں اور انتروں کی باتیں شروع ہو جاتیں ۔

ان کی برسی آئی اور چپکے سے گزر گئی۔ بڑے انسانوں اور دوستوں کی یادیں تو ہمیشہ دل میں رہتی ہیں مگر ایک دن ان کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس کے کام کے بارے گفتگو کرنے کے لئے بھی یاد رکھنا چاہیے۔ ہم کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ بڑے انسان ایک تجارتی جنس ہیں جنہیں بازار میں بیچنے کا حیلہ کیا جائے۔ ہم انہیں ایک بڑے خیال اور بڑے نام کی طرح کیوں نہیں سوچتے اور اس کے کام کو کیوں نہیں دیکھتے۔ اظہر حسین جعفری ایک بے نیاز آدمی تھا۔ اسے کسی کتاب اور تقریب کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی جگہ اس کی تصویریں لگائیں، کچھ شمعیں روشن کریں اور اس کے پسندیدہ گیت گنگائیں۔ میری خوش قسمتی ہے کہ

میں نے اس کو دیکھا ہے

اُجلی اُجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *