سندھ کا آئی جی وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقتور؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کرائم رپورٹر کی حیثیت میں ہمارے مشاہدات شاید دوسروں کے نقطہ نظر سے مختلف ہوتے ہیں۔ میں ایک دہائی سے سندھ میں پولیس اور جرائم کی صورت حال کے معاملات دیکھ رہا ہوں۔ ایک ورکنگ جرنلسٹ ہونے کی حیثیت میں میرا نقطہ نظر یہی ہے کہ سندھ کے لئے شاید دوسرے صوبوں سے الگ کسی قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔

سید کلیم امام آئی جی سندھ ہیں۔ سندھ کی حکمران جماعت کا الزام ہے کہ یہ وفاقی حکومت کے منظور نظر افسران میں شمار ہوتے ہیں۔ کلیم امام کو سندھ سے قبل تحریک انصاف کی حکومت نے آئی جی پنجاب تعینات کیا تھا۔ جہاں مشہور زمانہ اوکاڑہ مانیکا کیس ہوا۔ جس میں سیاسی دباؤ پر ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل کا تبادلہ کیا گیا۔ کلیم امام پر سپریم کورٹ نے چارج لگایا کہ انہوں نے سیاسی مداخلت پر یہ تبادلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی کلیم امام کی جمع کردہ رپورٹ میں جھوٹ سے کام لیا گیا اور وہ پنجاب حکومت کو پچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں آئی جی کلیم امام کی پیش کردہ رپورٹ کو جھوٹ قرار دیا۔ جس پر آئی جی کلیم امام کوغیرمشروط معافی مانگنی پڑی۔ چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے تناظر میں سندھ حکومت کے الزامات کو تقویت ملتی ہے اور بہرحال کلیم امام کی دیانت داری اور پولیس میں سیاسی مداخلت ہونے پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے آئی جی کلیم امام کو سندھ میں تعینات کردیا اور یہ بطور آئی جی سندھ کام کرنے لگے۔ آئی جی تو سندھ پولیس کے ہیں لیکن دلچسپی کی بات یہ ہے کہ سندھ کے اضلاع کے بجائے زیادہ تر اسلام آباد کے دورے کرتے ہیں۔

آئی جی سندھ پر پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے الزام لگایا کہ یہ وفاقی جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ نے چند ماہ قبل انکی کارکردی پر باز پرس کی تو یہ ناراض ہوگئے اور میڈیا میں حکومتی سرزنش کو اختلافات کا نام دے دیا۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کلیم امام آئی جی سندھ کے عہدے کے ئے غیر موزوں ہیں۔ یہ صوبے میں امن و امان قائم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے دور میں ارشاد رانجھانی قتل کیس ہوا۔ جسے پولیس ہینڈل نہیں کر پائی۔ دعا منگی اور بسمہ کے اغوا کے واقعات ہوئے۔ جو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا ہوئیں۔ ان کے دور میں کئی شہری پولیس کی غفلت اور عدم تربیت کی وجہ سے مقابلوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے آئی جی پیشہ ورانہ امور کے بجائے مسلسل نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست سفارت کاروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں جو ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے آئی جی پر پیپلزپارٹی حکومت کا یہ بھی الزام ہے کہ وہ صوبے میں اپوزیشن جماعتوں کے افراد سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ سندھ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کراچی میں موٹرسائیکل اور کار چھیننے۔ چوریوں اور ا سٹریٹ کرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی جی سندھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بجائے خلاف ضابطہ سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہیں۔

سندھ حکومت کے الزامات کی آئی جی سندھ کے ترجمان کی جانب سے تردید کی گئی ہے۔ آئی جی سندھ نے گزشتہ منگل کو جاری تقریب میں دعوی کیا کہ ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ وہ اتنی آسانی سے نہیں جائیں گے۔ وہ اگر چلے بھی گئے تو سوا لاکھ کے ہوں گے گویا آئی جی صاحب خود کو ہاتھی سمجھ رہے ہیں اور تبادلے کو موت؟ مرا ہوا ہاتھی ہی سوا لاکھ کا ہوتا ہے یہ بات وہ کسے بتانا چاہتے ہیں۔ اس میں ابہام پایا جاتا ہے۔

سندھ حکومت کے الزامات حقائق کے خلاف ہیں یا مطابق، اس بحث سے قطع نظر، اس ماحول میں کیا ایک آئی جی کو عہدے پر رہنا چاہیے؟ کیا اس نہج کے اختلافات کے بعد صوبے میں پولیس کا نظام اپنے ڈھانچے کےمطابق کام کرسکے گا؟ اس محاز آرائی سے پولیس۔ عوام۔ سسٹم سب کا نقصان ہوگا۔ پنجاب میں ایک اشارے پر آئی جی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اسلام آباد کے آئی جی کو مبینہ طور پر ایک واٹس ایپ میسج پر ہٹا دیا جاتا ہے مگر سندھ میں آئی جی کی تعیناتی کے مشورے اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی دفتروں میں ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سندھ کے وزیراعلی سے آئی جی کی تبدیلی کا وعدہ کرتے ہیں اور اپنی پارٹی راہنماؤں اور حلیفوں سے ملاقات کے بعد فیصلے سے یوٹرن لے لیتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے آئی جی سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے اشارہ دیا تو کلیم امام کا بیان آیا کہ انہیں کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ یہ کافی تشویش ناک صورت حال ہے کہ ایک صوبے کا وہ آئی جی جس کی رپورٹ کو سپریم کورٹ جھوٹ قرار دے چکی ہے۔ وہ سویلین اداروں سے اتنا طاقت ور اور بااختیار ہے۔ یہ سب اس پی ٹی آئی حکومت کے تحت ہو رہا ہے جو پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔

ان معاملات کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ حالات ایک ایسی نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سندھ حکومت اب کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کو شاید ایسا آئی جی قبول نہیں جو ان کے مطابق ایک اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کررہا ہو۔ ایسی صورت حال میں مناسب ہو گا کہ آئی جی کلیم امام صاحب اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور چارج چھوڑ کر رخصت ہو جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نوید کمال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *