پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں مفاہمت کی اطلاعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”لندن پلان“ سبوتاژ کرنے کی پیش بندی کے لئے اسٹیبلشمنٹ متحرک ہوگئی ہے جس نے وزیراعظم عمران خان اور آصف زرداری کے درمیان ”خاموش مفاہمت“ کروا دی ہے، اور اس طرح پہلے معرکے میں پیپلز پارٹی کو ”تسخیر“ کرکے کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے مابین اس سلسلے میں ساری پیغام رسانی اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے خود کی، اور اس مقصد کے لئے کسی سیاسی شخصیت کو وسیلہ نہیں بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات میں پیش رفت روک دی جائے گی اور ان کیسز میں کسی بھی قسم کی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو مزید ریلیف دینے جانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ خورشید شاہ جیسے پارٹی کے جو رہنما جیل میں ہیں، انہیں بھی جلد رہائی مل جائے گی جبکہ اس کے بدلے میں پیپلز پارٹی سے ”کپتان“ کے ساتھ تعاون مانگا گیا ہے۔

پی پی پی کی قیادت سے تقاضا کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مرکز اور پنجاب میں کوئی تحریک عدم اعتماد لائی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کا ساتھ نہ دے، اور ایسی کسی بھی تحریک سمیت ”کپتان“ کی حکومت گرانے کی کوئی بھی کوشش کی جائے تو پیپلز پارٹی اس کا حصہ نہ بن کر، اسے ناکام بنانے میں بالواسطہ پی ٹی آئی حکومت کی مدد کرے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسی ”خاموش مفاہمت“ کے نتیجے میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے مراد علی شاہ کو وزیراعظم کے حالیہ دورہ کراچی میں ان کا استقبال کرنے اور ملاقات کرنے کی خفیہ ہدایات جاری کیں، اور انہی خصوصی ہدایات کی روشنی میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات نہائت خوشگوار رہی۔

ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے ”نوُن لیگ“ کے مبینہ ”لندن پلان“ کے تحت پنجاب میں ”تبدیلی“ کی کسی ممکنہ کوشش کو ناکام بنانے کی غرض سے پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کا ”فارورڈ بلاک“ بنوانے کی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ (ن) کے 20 ارکان بنی گالہ جاکر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری جنہیں اب تک وزیراعظم عمران خان عوامی جلسوں، حتیٰ کہ اندرون سندھ عوامی اجتماعات میں کبھی ”کرپشن کنگ“ کہتے رہے ہیں تو کبھی چالیس چوروں کا ”علی بابا“ کہہ کے پکارتے رہے ہیں، اسی آصف زرداری کے ساتھ ”کپتان“ کی خاموش مفاہمت اور پنجاب میں ”نوُن لیگ“ کی پارلیمانی پارٹی میں نقب لگانے کی کوششیں ”لندن پلان“ پر عملدرآمد کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے حکومتی پیش بندی کا حصہ ہیں، جن کے لئے ”تبدیلی خان“ کو بھی ”چوروں ڈاکوؤں“ کے ساتھ در پردہ ہاتھ ملا کر اپنے بیانیہ کی قربانی دیتے ہوئے بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

اسی دوران ”نوُن لیگ“ نے بھی ”کپتان“ کی حکومت گرانے کے لئے ”چوہدریوں“ کے ذریعے زرداری کے ساتھ رابطہ کیا ہے جس میں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ”تبدیلی“ کے نتیجے میں وفاق میں ”کپتان“ کے پاؤں اکھڑ جائیں گے اور اس طرح ”نیازی“ کی حکومت سے نجات حاصل کرنے کا یہ سنہری موقع ہے، لہٰذا ”قاف لیگ“ کی زیر قیادت پنجاب میں تبدیلی کی کوشش میں پیپلز پارٹی ساتھ دے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) جو مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے، اس کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو بھیجے گئے پیغام میں ”چوہدریوں“ نے کہا ہے ہم پنجاب اسمبلی میں 4 آزاد ارکان اور سپاہ صحابہ کے ایک رکن کو ”توڑ“ لیں گے، 10 ارکان ہمارے اپنے ہیں، اگر پیپلز پارٹی بھی اپنے 6 ایم پی ایز دے دے تو مجموعی طور پر ہمارے 21 اراکین مسلم لیگ (ن) کے پلڑے میں وزن ڈال کر پنجاب میں آسانی سے پی ٹی آئی کی حکومت گرا سکتے ہیں جبکہ ”نون لیگ“ وزارت اعلیٰ بھی ہمیں دے رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کے مجوزہ فارمولے میں سپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدہ اور چند وزارتیں ”نوُن لیگ“ کو دی جائیں گی۔

ادھر آصف زرداری نے بلوچستان حکومت گرانے کے اپوزیشن کے پلان میں ”تعاون“ کے لئے حامی نہیں بھری، جو گزشتہ دور حکومت میں مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر بلوچستان میں ”نُون لیگ“ کی حکومت گرا کر ”ڈلیور“ کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) کے قائد مولانا فضلُ الرحمن نے ہفتہ بھر قبل ہی کراچی کے ضیاءالدین ہسپتال میں آصف زرداری کے ساتھ خفیہ ملاقات میں بلوچستان حکومت گرانے کا پلان ڈسکس کیا تھا جو اس سے ایک روز قبل وہ خصوصی طور پر لاہور آکر ”چوہدریوں“ سے ملاقات میں ڈسکس کر کے گئے تھے۔

سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ 12 مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے الیکش سے پہلے پہلے ملکی سیاسی منظر نامے پر کسی بڑی تبدیلی اور اس ضمن میں اپوزیشن قوتوں کی کوششیں ناکام بنانے کے حوالے سے لندن اور راولپنڈی اپنے اہداف کے حصول کے لئے پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *