”زندگی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمہیں زندگی کیسی لگتی ہے؟

یہ کیسا عجیب سوال ہے۔

اس میں عجیب ہی کیا ہے؟

تم جب آنکھیں بند کرو تو زندگی کی کیسی شکل تمہارے ذہن میں ابھرتی ہے

زندگی!

اس کی آنکھیں کسی وحشی قاتل کی طرح خون ٹپکاتی ہیں۔ غصے کی حالت میں گالیاں بکتے اس مرد جیسی جس کی نظر میں اس کی بیوی کی اوقات کسی راہ پڑے پتھر سے زیادہ نہیں ہوتی، جس کو کبھی بھی ٹھوکر مار کر اپنی مردانگی اور طاقت کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اس کے پتھریلے نوکیلے گال اور کھردری جلد، جس کو چھوتے ہی جسم پر خراشیں اور زخم ابھرنے لگتے ہیں۔ اس کے زہریلے ہونٹ جس کی تاثیر سانپ کے زہر کی سی کیفیت رکھتی ہے۔ یہ جہاں چھوے ُ وہاں سے گوشت کو پگھلا دیتی ہے۔ یہ روح میں وحشتیں، تنہائیاں اتار دیتی ہے۔

اس سے منسلک اپنوں کو کھو دینے کے عذاب سے کیا کوئی انسان کبھی محفوظ بھی رہا ہے؟

اس کے ملگجھے بال اس کی کراہت میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس کے بدصورت ہاتھ پاؤں جو اپنے ہی زہر سے نیلے ہو چکے ہیں۔

اس میں ایسی کیا دلکشی ہے، جو لوگ جیے جانے کے لیے مرے جاتے ہیں۔

مجھے تو موت اس سے ہمیشہ کہیں زیادہ دلفریب لگی ہے۔ اس میں کم از کم جدائی کا تعلقات کے ٹوٹنے کا تو خوف موجود نہیں ہوتا۔

میرے خیالات تو ویسے تم جیسے نہیں۔

کیا مطلب؟

میں جب زندگی کو سوچتا ہوں تو ایسی دلفریب حسینہ کی شکل میرے ذہن میں اترتی ہے جس کی ایک مسکراہٹ جسم اور روح کو خوشبوؤں سے معطر کر دیتی ہے۔

اس کی دلفریب آنکھیں ہر قسم کے دکھ اور صدمات کو بھلاکر مست کر دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔ اس کے نرم و ملائم گال جن پر ہونٹ رکھتے ہی وجود صندل ہو جاتا ہے۔ جس کے رس کو اپنے اندر اتار کر جسم ہر طرح کی وحشت سے آزاد پر سکون اور مطمئن ہو جاتا ہے۔

اس کے جسم کی گرمائش ماں کی آغوش جیسی ہے، جو روح کو اپنے اندر سمیٹ کر ہر دکھ سے ماورا کر دیتی ہے۔

اس کی ریشمی، خوشبودار زلفیں جن کی چھاؤں میں چاند کی چاندنی جیسی ٹھنڈک ہے۔

یہ میری شبیہہ ہے۔

میں زندگی کے بارے میں سوچوں تو خوشبووُں اور رنگوں سے بھرپور احساس میرے دل کے ہر کونے کو روشنیوں سے بھر دیتا ہے۔

میری زندگی تو ایسی ہی دلفریب ہے۔ نجانے تم نے کس کا نام زندگی رکھا ہوا ہے۔

کاش کے سب کے حصے میں ایک جیسی ہی زندگی آ سکتی۔ خدا سے بڑا انصاف کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ مگر اس کی تقسیم کے پیمانے مجھے ہمیشہ ہی مایوس کر دیتے ہیں۔ فرق تمہارے سامنے ہے ایک یہ زندگی ہے جو میرے حصے میں آئی اور ایک وہ جسے تم برت رہے ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *