دیسی مولوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانے زمانے کی بات ہے پرانے وقتوں میں جید علماءکے نام کے ساتھ مولوی لکھا ہوتا تھا۔ جس طرح فی زمانہ سر، مسٹر، باس کا لقب ہو۔ پھر آہستہ آہستہ یہ لفظ مولوی مہذب گالی کے طور پر سامنے آیا آج کل جسے بے عزت کرنا ہو کوئی لمبی چوڑی گالیاں نہ دیں بلکہ مولوی کہ دیں بس مولوی نام ہی کافی ہے۔ یقین جانیں آپ پر بدزبانی، گالی، غیر مہذب، اور اس سے ملتے جلتے کوئی سے الفاظ بھی نہیں بولے جائیں گے بلکہ لبرل کہلائیں گے۔ اور یقیں جانیں ہم لبرل بنتے بنتے کوئی انوکھی چیز ہی بن گئے ہیں جس کے سامنے کسی کی کوئی اوقات نہیں بس میں ہی میں۔

بچپن میں بڑے بزرگ کہانیاں سناتے تھے کہ ایک کنویں میں ایک مادہ مینڈک رہتی تھی۔ اس کا بچہ کہیں اتفاق سے کنویں سے باہر نکلا سیروتفریح کے بعد اپنی ماں کے پاس گیا اور اسے بتایا ہم بس کنویں میں ہی رہتے ہیں جبکہ دنیا میں اور بھی مخلوقات ہم سے بڑی ہے۔ اس مادہ مینڈک نے اپنے اندر ہوا بھرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی؟ بچے نے کہا اس سے بھی بڑی۔ اس کی ماں نے مزید پھولتے ہوئے پھر پوچھا کیا اتنی بڑی؟ بچے نے کہا نہیں اس سے بھی بڑی۔

اس کی ماں نے مزید اپنے جسم کو پھلایا تاکہ پوچھ سکے اور پھولاتی چلی گئی حتہ کہ اس کا جسم پھٹ گیا اور وہ مر گئی۔ ہمارا حال بھی اس مینڈک سے کم نہیں ہم بھی کسی کے وجود کو برداشت نہیں کرتے اور اپنے وجود کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم جس لہجے، جس حرکت، جس کام کو نا پسند کر تے ہیں اس میں ملوث بھی ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ہر کوئی ہماری رائے کا احترام کرے اور خود کسی کی رائے کا احترام نہیں کرتے ہم چاہتے ہیں دین دار لوگ ایسے تبلیغ کریں کسی کی دل آزاری نہ ہو جبکہ ہمارا ان سے رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔

ہم بہت نازک مزاج ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں دوسرا فریق بے عزتی پروف ہو اس پر کسی قسم کا اثر نہ ہو۔ ہمارے معاشرے میں سب مولوی (مہذب گالی ) ہیں۔ اب جائزہ لیتے ہیں معاشرے کا۔ تاجر، وکیل، وڈیرہ، کسان، مزدور، ڈاکٹر، ٹیچر، رائیٹر، سیاست دان، یہ سب دیسی مولویوں کی اقسام ہیں جو اپنے اپنے وجود میں خدا بنے بیٹھے ہیں یہ لوگ ذخیرہ اندوزی کے بہت مخالف ہوتے ہیں اور اپنی استظاعت کے مطابق ذخیرہ اندوزی بھی کرتے ہیں۔

اجارہ داری کے خلاف بھی ہوتے ہیں اور اجارہ داری قائم بھی کرتے ہیں۔ مزدور کے حق میں دلیلیں بھی دیتے ہیں اور اس کی مزدوری بھی کھا جاتے ہیں۔ اپنی مزدوری بھی صحیح طرح نہیں کرتے اور اجرت بھی زیادہ مانگتے ہیں۔ ہم کمپنی کی طرف سے رشوت کے طور پر بیرونی ممالک کے تفریحی ویزے اور کمپنی کا مال زائد بیچنے پرحج اور عمرے بھی کرتے ہیں اور اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے مریضوں کو اضافی لیبارٹری ٹیسٹ اور ادویات بھی بیچتے ہیں۔

ہم ظالم کا ساتھ دیتے ہیں اپنے اثرو رسوخ تھانے، کوٹ، کچہری ہر جگہ استعمال کرتے ہیں۔ کسی اسپتال میں کوئی واقف ہو تو سفارش سے دوسرے مریضوں کا حق پامال کرتے ہوئے اپناچیک اپ بھی کرواتے ہیں۔ علاقہ میں جو چوری اور ڈکیتی ہو اس کا کھرا وڈیرے، جاگیر دار، اور چودہری تک جاتا ہے اور ہم انہین لوگوں پر فخر کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں بطور لبرل ہر جگہ مولوی ٹانگ اڑاتا نظر آتا ہے اور بطور مولوی ہر جگہ لبرل ٹانگ اڑاتا نظر آتا ہے۔

مولوی کو لبرل فوبیا اور لبرل کو مولوی فوبیا ہے۔ ہمارے ہاں اس طالب علم کو اچھے نمبر دیے جائیں گے جو ٹیوشن بھی اسی ٹیچر سے پڑھے گا۔ ہم بطور والدین بھی اساتذہ کو اپنے بچے کو نقل کروانے پر آمادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم جہاں ہمیں چند سکے مل جائیں اس کے حق میں لکھ کر حق ادا کرتے ہیں۔ ہم معاشرے کے رویے پر سراپا ماتم کیے ہوتے ہیں مگر ”زمیں جنبش نہ جنبش گل محمد“ کے مصداق تمام دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں مگر اس نظام کو زندہ بھی رکھنا چایتے ہیں۔

انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کرتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو بہت زہین سمجھتے ہیں یہی ہماری بیوقوفی ہے۔ جو لیڈر چاہے دینی لیڈر ہو یا سیاسی ہمیں جس طرح استعمال کرنا چاہے کر سکتے ہیں اور استعمال کر بھی رہے ہیں۔ ہم تحقیق نہیں کرتے کہ ہم کو سب پتا ہے۔ ہم بے حد اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں ہم ہر ایک فیلڈ اور شخصیت پر تنقید کرتے ہیں جبکہ تنقید برداشت کا مادہ ہم میں نہیں پایا جاتا۔ کیوں کہ ہم منہ زبانی مسلمان ہیں اور جدی پشتی مسلمان ہیں۔

ہم کسی فریق کے لیے جج اور اپنے لیے بہترین وکیل۔ نبی مکر م نے فرمایا تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں لوگ ہمیں عزت دیں ہمیں تمام انسانوں کو عزت دینا ہو گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ بے لوث ہمارے کام آئیں تو ہمیں بھی بے لوث ان کے کام آنا ہوگا۔ بے زوقی چھوڑ کر بازوق بننا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں ہیں لوگ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں تو ہمیں بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرنا ہو گا۔ اس حدیث مبارک کو اپنی زندگی کے شب وروز پر اپلائی کرتے جائیں وہ دن دور نہیں ایک انقلاب برپا ہو جائے گا ہر طرف امن بھائی چارے کی فضا قائم ہوجائے گی۔ اس فضا کو قائم کرنے کے لیے ہر فرد کو اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا کیوں کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *