ہمارے ثقافتی ذہنی ڈھانچے کو درپیش ایک نیا چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیومنزم اورعقلیت پسندی کے آمیزے سے جس روشن خیالی نے یورپی نشاۃ ثانیہ کو متشکل کیا تھا وہ گویا انسانی تاریخ کے نئے عہد کا آغاز تھا جس سے انسان نے ثقافت کے زرعی دور سے مشینی دور کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے اپنے دیومالائی، مذہبی اور صوفیانہ ذہنی ساختیے کو سائنسی ساختیے سے بدل دیا تھا۔ اس ”نئے عہد کا پہلا مرحلہ“ نشاۃ ثانیہ کے تحت مغرب کی نئی صورت گری سے لے کر دوسری عالمی جنگ میں اس کی تباہی تک پھیلا ہوا تھا۔

اس تباہی سے جس معاصر مغرب کے نئے ذہنی ساختیے کی تشکیل ہوئی وہ تاریخی سطح پر دنیا کی عظیم الشان کایاکلپ کرنے والی اسی روشن خیالی کا مخالف ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے آغاز ہونے والے ”نئے عہد کے دوسرے مرحلے“ کا نیا ذہنی ساختیہ کلیت پسندی کی حامل نظریہ سازی کی بجائے جزوی اختصاصیت پسندی پر قائم ہوا جو مغرب کے ہمہ جہت ذہنی تغیرات کے اگلے مراحل کانمائندہ تھا۔ گزشتہ نصف صدی سے اس نئے مرحلے کی نمائندگی تجزیاتی تنقیدی زاویہ ہائے نظر کی یہی اختصاصیت پسند نئی جزوی جہات کررہی ہے جسے مجموعی طور پر تھیوری پسندپوسٹ ماڈرن فکری رویہ کہا جاسکتا ہے۔

اپنی کسی ”نشاۃ ثانیہ“ یا اپنے کسی تاریخی و سماجی مطالبے کے بغیر ”نئے عہدکے پہلے مرحلے“ سے ہمارا ٹاکرا مغرب کے نوآبادیاتی قبضے کے باعث ہوا تھاجوبمشکل ایک صدی پرمحیط تھا۔ ابھی ہم جدید ہی نہیں ہو پائے تھے کہ تاریخ (یا شاید ہمارے جلد بازنقادوں ) نے ہمیں مابعد جدیدیت کی صورت حال میں دھکیل دیا۔ قیام پاکستان کے بعد کے سیاسی سماجی حالات کے باعث یہاں کے جاگیردارانہ مذہبی معروض پر سے نوآبادیاتی جدیدیت کا رنگ و روغن بھی اکھڑنے لگا۔

تعقل پسندی کی کمزور لہر پر لگاتار سیاسی، سماجی اور فکری حملوں کی شدت میں اضافہ ہوتاچلا گیا۔ یہ افغان جہادی ذہنیت پر طالبانی اور مارشل لائی جبر کے دن تھے جب ہمارے ہاں پوسٹ ماڈرن تھیوری کے مباحث مقبول ہونے لگے تھے۔ ہماری نوآبادیاتی سماجی صورت حال ہی ایسی تھی کہ مغرب کے برعکس ہمارے ہاں مارکسیت و جدیدیت ایک دوسرے کے متخالف کھڑی ہوگئی تھیں۔ یہ نئے عہد کے فکری منظر نامے کی دین تھی۔ یوں جدیدیت ہمارے ہاں رائٹ ونگ کا اظہار بنی اوراسی کے تسلسل میں کچھ ایسا ہی مابعد جدیدیت کے حوالے سے ہوا۔ آج اس کا چرچا رائٹ ونگ کے جدید حلقوں میں زیادہ ہے جبکہ ترقی پسند لیفٹ ونگ اس کی مزاحمت کررہا ہے۔

ایک عوام دوست تاریخی تناظر کی حامل اردو کوبھی نوآبادیاتی کارپردازوں نے دائیں بازو کے سنگھاسن پر بٹھادیا اور جب یہ پاکستان میں مقتدرہ کی زبان کے بطورریاستی طاقت کے مراکز کی نمائندہ بنی تو جاگیردارانہ مائنڈ سیٹ نے اس کے عوام پسندکردارکے آگے بند باندھنا شرو ع کر دیے۔ جامعات کا غالب کرداربھی اسی ضمن میں تشکیل دیا گیا۔ نتیجتاًچند مثالوں کو چھوڑ کرغالب سطح پر ادب و فن کے بالمقابل تعلیمی و نصابی حوالے سے اردو اور اس کے نمائندگان ایک خاص طرح کی پسماندگی کا شکار ہوتے چلے گئے۔

مارکسیت اور ترقی پسندی تو جامعات و نصابات میں کفروالحاد کے طور پر پیش کی جاتی رہی اور ادبی فکروفن کو ”شریف اور پرہیزگار“ اساتذہ کی گود میں دے دیا گیا۔ لیکن روسی اشتراکیت کے خاتمے کے بعد جب پوسٹ ماڈرن از م کومارکسیت سمیت انٹری کا گرین سگنل دیا گیا تو اسے جامعات کے ”محفوظ اور کنٹرولڈ“ کلچر کے تحت نصابات کا حصہ بنا دیا گیا۔ لیکن اس کی تشریحات کی ”باغیانہ“ کوششوں اور اطلاقی صورتوں کی ”مجرمانہ“ کاوشوں پر فرشتوں کے ذریعے کڑی نظر رکھی جانے لگی تاکہ ”پڑھے لکھے“ اساتذہ کواس کی سماجی اورنصابی ”حدود و قیود“ کا پابند رکھا جاسکے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً دو دہائیوں کی ہائیر ایجوکیشن کے بعد بھی بغل میں ڈگریاں دبائے جامعات سے نکلنے والے سکالرپوسٹ ماڈرن شعور تو ایک طرف تحقیق و تعقل نامی شے سے بھی ناواقف نظر آتے ہیں۔ آج ہمارے اجتماعی شعور اور سماجی صورت حال پر ان دو دہائیوں کی اس اعلٰی ترجامعاتی سرگرمی کا کوئی اثر ہی دکھائی نہیں دیتا۔ جنرل ضیاء کے جدیدیت مخالف سفرسے جب ہمارے ہاں جدیدیت ہی نہ بچ پائی تو مابعد جدیدیت نے کیا بچنا تھا۔

جب جنرل ایوب کے دور میں مارکسی شعور سے خالی جدیدیت درآمد کرکے اسے جنرل ضیاء کی اسلامائزیشن کی نذر کر دینا تھاتو پھر مابعد جدیدیت تک بات کیسے پہنچ سکتی تھی۔ جنرل ضیاء، افغان جہاد اور طالبان کے مائنڈ سیٹ کی پروردہ نوجوان نسل کوجدیدیت کی مبادیات سے بھی کوسوں دور رکھا گیا۔ تعلیمی ادارے تک رجعت پسندی کا گڑھ بنے رہے۔ ایسے میں تھیوری پسندمابعد جدید فکران کے لئے سوائے کنفیوژن کے کچھ اور نہ کر سکی۔ کیونکہ شعور کے اس جبر کا کیا کیا جائے کہ رائٹ ونگ ذہنی ساختیہ مارکسیت پسند جدیدیت کے عمل سے گزرے بغیر تھیوری کے حامل مابعد جدید فکر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا۔

نظریہ انسان، خدا اور کائنات کو ایک وحدت میں دیکھتا ہے۔ جدید تاریخ میں نظریے کا کردار بنیادی رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ تک تمام تر ترقی نظریہ سازی کی بنیاد پر ہی ہوئی۔ مگر اب ا سے تھیوری پسندوں کی طرف سے مہا بیانیے اور جبروتشدد کے الزامات کا سامنا ہے۔ یورپ میں سارتر آخری فلسفی تھاجس نے زندگی کو کلیت میں دیکھا۔ ہمارے ہاں خواندگی، صنعت، اربنائزیشن اور سرمایہ داریت کی کم ترین شرح کے باعث تھیوری کی وکالت اور اس کے لئے جواز کی تلاش کس قدر معنی خیز ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو ہمارے سیاسی سماجی دانشوروں کی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ ہم ابھی تک نظریے کے تاریخی مرحلے پر ہوتے ہوئے مذہبی بیانیے کی قدیم سماجیات کا حصہ ہیں جدیدوسماجی و علمی ترقی ابھی اس سطح پر پہنچ ہی نہیں پائی کہ سپیشلائزیشن اور جزوی مطالعات رواج پاتے۔ بیسویں صدی میں مارکسیت دوسرے مقبول عالمی بیانیے کے طور پر رائج رہی۔ بطور چیلنج یہ سرمایہ دار یورپ کے سر پر بھوت بن کر سوار رہی تو محکوم ممالک میں اس کے برعکس امید کی ایک کرن بنی رہی۔ تھیوری پسند پوسٹ ماڈرنسٹ ان دونوں کو مہا بیانیے قرار یتے ہوئے ان کی مخالفت کھڑے ہوئے۔ مذہب کو تو یورپ تین سو سال قبل خیر آباد کہہ چکا تھا اس کا اصل مسئلہ مارکسیت تھا اور وہ بھی اشتراکیت کی سیاسی لہر کے ساتھ۔

مادیت پسند تعقل دراصل اسطورہ اور عقیدے پرتشکیل کردہ شعور سے اگلا مرحلہ ہے۔ یہ ارسطوئی طرز فکرکا رد ہے جو قرون وسطٰی کے جاگیردارنہ زرعی نظام کی فکری بنیاد رہا۔ راجر بیکن نے اسے الٹا کرسائنسی طرز فکر کی بنیاد رکھی جسے مارکس نے جدلیاتی مادیت کے ذریعے اگلے ذہنی مرحلوں میں داخل کردیا۔ لہٰذا سماجی زندگی کی قدری بنیادوں کی تشکیل بھی انسانی عقل کے مرہون منت ہوئی تواس کا مظہرمتون قرار پائے اور انسان کی فکری ذہنی سرگرمی کا مرکز بنے۔

اب متون کی ہیئت و ساخت کے مطالعہ سے ان کی تشکیل نو اورتعبیر نو زبان وثقافت کی نئی فکری دریافتوں کے حوالے سے جدید تر بشری علوم کے تحت کی جانے لگی۔ یہ نئے زاویے کریٹیکل کلچرل تھیوریز کہلائے۔ تھیوری دراصل نظریے کے برعکس طریقہ کار ہے جو ایک لیبارٹری کے عمل کی طرح مخصوص زاویے سے اپنے اطلاقات کے ذریعے کسی بھی متن سے سائنسی انداز کے نتائج حاصل کر سکتی ہے۔ گویا یہ متن کو سماج، ذہن اور سسٹم مان کر اس کے تجزیے کا نیا ادرا ک ہے۔ جس میں تخلیق کارمصنف کی موت، قاری کی بنیاد پر مطالعاتی فہم، معنی کی کثرت و التوا، متن سے باہر متن کی صورتیں جیسے نکات اپنے سماجی سیاسی تناظر میں بہت گہرے انکشافات کی اساس رکھتے ہیں۔

آج اشتراکی زوال کے بعدیورپ میں ”سسٹم“ کے استحکام کے خلاف کوئی چیلنج نہیں رہ گیا۔ لیکن بیسویں صدی کے سسٹم مخالف تجربات کے بعد وہاں ریڈیکل تبدیلی کا لفظ ہی خوف کی علامت بن گیا۔ ایسے میں پوسٹ ماڈرن تجزیہ کاروں کے پاس ایک ہی راستہ تھاکہ وہ تھیوری کے ذریعے اپنے سبجیکٹ یعنی سسٹم کو متن مان کر مختلف تجزیاتی آلات کے ذریعے اس کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کریں۔ تھیوری پسند پوسٹ ماڈرنسٹوں میں بھی مارکسی شعور بنیادی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔

لہٰذا پوسٹ ماڈرن مارکسی مفکرین کے ہاں زبان کوئی مجرد شے نہیں بلکہ ایک انسانی سماجی عمل ہے جبکہ سماج اور کائنات بھی متن کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے وہ تھیوری برائے تھیوری کی بجائے تھیوری برائے زندگی کے قائل دکھائی دیتے ہیں اورمتن محض کی بنیاد پر ہیئت پسندی، مابعد جدیدیت، ساختیات، پس ساختیات، اسلوب وغیرہ کی مباحث کو نفسیات، مارکسیت، نوآبادیات، تانیثیت جیسے تناظرات اور سیاق میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ تھیوری کو ثقافتی تنقیدی تھیوری قرار دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں میڈیا کی طرح تعلیمی عمل جتنا بھی کنٹرولڈ کیوں نہ ہو بہرحال وہ ذہنوں میں شعور کی ایک فائل ضرور کریئیٹ کر دیتا ہے جو کسی بھی مناسب ماحول میں ایکٹیویٹ ہو سکتی ہے۔ آج جو طلبہ ہماری نشاۃ ثانیہ و جدیدیت کے شعوری ثمرات کے بنا ہی مابعد جدیدفکرکا سامنا کررہے ہیں ان سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ اگر وہ اپنے مطالعے کو اپنے معروض پر اپلائی کرتے ہوئے کسی تجزئے کی طرف بڑھتے ہیں تو پھر ان کا شعور آٹومیٹک پروسز میں بھی جاسکتا ہے۔

لبرل ہیومنزم، ساختیات، پس ساختیات، رد تشکیلات، مابعد جدیدیت، فرائیڈ اور تحلیل نفسی، تانیثیت، مارکسیت، نوتاریخیت، ثقافتی مادیت، مابعدنوآبادیاتی تنقید، بیانیات اورماحولیاتی تنقید جیسے ”خطرناک“ لیکن ہمعصر فہم کے حامل موضوعات نئے معاصر فکر کی مبادیات کے طور پر یقینا نوجوانوں کے شعور کا حصہ بنیں گے اوریوں کلاسیکی مارکسیوں کے برعکس نئے شعور کی خارج سے حملہ آوری کی بجائے داخل سے توڑپھوڑ کے ایک خاموش عمل کی تشکیل کریں گے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جس کے خوف سے اس نئے شعور کی ذمہ داری لینے کی بجائے اسے لفظیاتی واصطلاحاتی گورکھ دھندے میں الجھا کر علم پر اجارہ داری اوربے شعوری کی حاکمیت کو اصطلاحات کے جبر اور مرعوبیت پسند تحریر کے تشدد سے غالب کیا جارہا ہے۔ بزعم خوداپنے آپ کو سماج کی لاٹھی سے بچا نے اورشعور کاسانپ مار نے میں کامیاب رہ کر شعور کا عمل کیسے روکاجا سکتاہے۔ ایسے میں معاشرے، تاریخ اورمذہب جیسی ناگزیرساختوں کو رد تشکیل تک کے اطلاقی عمل سے پرکھے بنا کیسے رہا جاسکے گا اور یہ ممکن ہی کیسے ہے کہ ہمارا تمام تر ثقافتی ذہنی ڈھانچہ چیلنج ہوئے بغیر رہ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر روش ندیم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *