آسان لکھنا آخر اتنا مشکل کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آمنے سامنے بات کرتے ہیں تو برابری کی سطح پر انسانوں کی طرح مگر جونہی لکھنے بیٹھتے ہیں، ایک دم کسی چبوترے پر چڑھ کھڑے ہوتے ہیں اور عوام الناس سے خطاب کا لب و لہجہ نہ جانے کہاں سے سرچڑھ کر بولنا شروع کردیتا ہے۔ کہنے والے اور پڑھنے اور سننے والوں کے بیچ ایک فاصلہ ساآجاتا ہے۔ سننے والے یاتو مرعوب ہوکر مرید ہوجاتے ہیں اور زور زور سے واہ واہ شاید اس لیے کرتے ہیں کہ بات کے سر کے اوپر یا پیروں کے نیچے سے گزر جانے کا راز برسرِعام ہوکر انہیں کم علم ثابت نہ کردے یا پھر احساسِ کمتری کا شکار ہوئے بغیر ہی اپنے کاموں پر واپس ہولیتے ہیں ؛ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ”بی بلی! چوہا لنڈ وراہی بھلا“

بولنے والا چند مریدین سمیٹ کرخود کو دوسروں سے برتر کوئی بالائی مخلوق تصور کرنے لگتا ہے یا عام لفظوں میں یوں کہیں کہ خود کو دانش وروں کی صف میں گننا شروع کردیتا ہے۔ یہ احساس تھوڑا شدید ہوتا ہے تو پھر مرحلہ شروع آتا ہے دانش گردی کا جس کی زد میں جو جو، جب جب آئے تو جانو کہ سب محتاج و سخی ایک ہوئے۔

جس کو بات کہنے کا ڈھنگ آجاتا ہے وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ ”بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی“ یاپھر یہ کہ:

اک اک سوچ کی حیراں مورت۔ ۔ گرچہ قلم کی نوک سے ٹپکے
کتنے ترانے کتنے فسانے
لاکھ مسائل
دل میں رہی سب دل کی حکایت
بیس برس کی خواہشِ پیہم
سوچتے دن اور جاگتی راتیں
ان کا حاصل
ایک یہی اظہار کی حسرت! (مجد امجد)

ہماری غالب اکثریت کو یوں تو زبانی گفتگو یا بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا مگر یہ معاملہ کئی سو گنا مزید تب بگڑتا ہے جب مکالمہ قارئین سے ہورہا ہو۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ اس معاملے کی جڑیں اس دور میں ہیں جہاں پڑھے لکھے کم کم اور ان پڑھ بے شمار ہوتے تھے اور جو پڑھے لکھے تھے ان میں بھی اکثریت ان لکھ والوں کی تھی۔ پڑھے لکھے چونکہ خواص میں شمار کرلیے جاتے تھے تو شاید لکھ کربات کرنے میں ان پر اس بات کا بے بہا دباؤ رہتا تھا کہ جو لکھیں وہ بات کہیں اتنی عام نہ ہو کہ ہر ایرے غیرے کی سمجھ میں ہی آجائے۔

یہ پریشر، یہ دباؤ لکھنے والوں پر نسل در نسل، سینہ بہ سینہ آج تک چلا آرہا ہے اور اس کے شکار کسی طور، کسی بھی موقع پر عوام میں گُھل مل جانے کو بالکل تیار نہیں۔

طبقاتی معاشرے میں ان دانشوروں نے لکھنے والوں میں اپنا ایک خود ساختہ طبقہء اشرافیہ بنارکھا ہے۔ جس میں اپنے مقام، مرتبے اور مفادات کے لئے وہ ہر اس حدتک جانے کے لئے ہر دم تیار نظر آتے ہیں جس تک ہماری ملکی اسٹیبلشمنٹ صبح، دوپہر، شام جاتی رہتی ہے۔

ہمارے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ دوست نے طبقاتی تقسیم اور کلاس تبدیل کرنے کی جد وجہد کے عمل کو بڑی عام فہم خوبصورتی سے سمجھایا تھا۔ اس نے بتایا کہ اونچائی پر ایک سٹیج ہے جس پر اشرافیہ ہے۔ ایک لکڑی کی سیڑھی پر چھینا جھپٹی کا عالم ہے۔ کلاس تبدیل کرنے کے خواہاں اپنی ہی کلاس سے نبردآزما لڑتے مرتے، اوپر والے سٹیج تک پہنچنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔

نیچے والے ٹانگیں کھیچ رہے ہیں۔ برابر والے دھکے مکے سے گرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو کوئی سٹیج کو ابھی چھوتا ہی ہے کہ سٹیج کے اوپر والے یہ ارادہ کیے بیٹھے ہیں کہ نیچے سے کسی نئے کو اوپر کسی صورت نہیں آنے دینا۔ وہ ٹھڈوں، لاتوں، گھونسوں سے واپس نیچے گرا دیتے ہیں اور ہزاروں میں سے کوئی ایک جواِن کی تمام سختیوں کو جھیل کر بھی سٹیج پر چڑھ آتا ہے تو اس کو وہاں قبولیت کی پہلی شرط ہی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں کھڑے ہو جاؤ ڈنڈے، جوتے کس لو اور ہمارے ساتھ لگ جاؤ ”یہ نیچے والوں سے کوئی اوپر نہ آنے پائے“۔

اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، ماضی حال کو پھرولیں تو یہ اوپر بیان کردہ عمل آپ کو قطعی اجنبی نہیں لگے گا۔ ہم سب اس کے چشم دیدگواہ بھی ہیں اور اس کا شکار بھی!
فنونِ لطیفہ یا پھر زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو یہ اشرافیہ موجود ہے اور آپ کو ٹکرنے اور پاش پاش کرنے کے لئے ”ہرگھڑی تیار کامران“ بھی!

اوپر والے اوپر ہیں بس یہی ان کا کل میرٹ ہے۔ نیچے والوں میں لعل و گوہر بھرے پڑے ہیں جن سے اوپر والے خوفزدہ ہیں۔ تمام تر نالائقیوں کے باوجود حاصل تسلط کے کھو جانے کا خوف۔ نقل کے مقابل اصل کے آجانے کا خوف۔ ان لوگوں کا خوف جو بات کریں تو سیدھی لوگوں کے دل پر جالگے کجا یہ کہ ان کو صرف مرعوب کرے۔ خطرہ تو سچا ہے، اسی لیے تکلیف بھی بجا اور سمجھ میں آنے والی ہے۔

ادبی اسٹیبلشمنٹ کے سارے پینترے ایک طرف اور زمانے کی چال ایک طرف۔ جیسے بہتے دریا کے بہاؤ آپ کی خواہش کے تابع نہیں، ایسے ہی زبان و بیاں کا بہاؤ زمان و مکاں کے ایک بہتے دریا ساہے۔ اس پر آپ کے اصول لاگو ہوں یہ خواہش اور کوشش تو ہوسکتی ہے، ہو نہیں سکتا۔ ہر تخلیقی اظہار ما ئع کی طرح ہوتا ہے، پانی کی طرح اپنے راستے خود بنا لیتا ہے اور روکنے والے بس دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں اور جو اس کی راہ میں آتے ہیں ؛ بہہ جاتے ہیں۔ جو اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں غیر متعلق ہوجاتے ہیں۔ یہی خوف ان کے رد عمل کی بنیاد بنتا ہے۔

میری نانی اماں مرحومہ کہا کرتی تھیں کہ ”جب تمہیں لگے کہ یہ زمانے کو کیا ہوتا جارہا ہے؟ تو سمجھ لو تم اتنے بوڑھے ہوگئے ہو کہ پیچھے رہ گئے ہو۔ کیونکہ زمانے کو کبھی کچھ نہیں ہوا اور نہ کبھی کچھ ہوگا“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سجاد انور منصوری کی دیگر تحریریں

سجاد انور منصوری

سجاد انور منصوری ابلاغیات کے شعبے سے وابستہ ہیں، پڑھاتے بھی ہیں اور مختصر نویسی میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔

sajjad-anwar-mansoori has 2 posts and counting.See all posts by sajjad-anwar-mansoori

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *