منظور پشتین کیا کرے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک طرف تبدیلی کے خمار میں گم ہمارے نوجوان گالیوں کے ذریعے فیسبک پر علمی مباحثے جیت رہے ہیں تو دوسری طرف ایک نوجوان نے ملک کے بام و در ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی اس کی تصویر نے اپنے گردوپیش میں بے پناہ تحرک پیدا کیا ہے۔ زنجیر سے بندھے ہاتھ، چہرے پر صدیوں کا درد، آنکھوں سے جھانکتا کرب اور ان سب کے بیچ موجود دلوں کو تڑپانے والی مسکراہٹ۔ یہ 25 سالہ نوجوان کسی سیاسی سلسلے کا گدی نشین نہیں، کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کبھی سرگرم نہیں رہا، کسی حادثے کی پیداوار نہیں۔

اپنے بل بوتے پر درجنوں سیاسی جماعتوں کے بیچ سے اپنے لئے راستہ نکالا ہے۔ ایک ایسی تحریک پیدا کی ہے جس پر پوری دنیا کی نظر ہے۔ اس کی گرفتاری دنیا میں شاید صرف پاکستان کی میڈیا پر خبر نہیں بنی، باقی ساری دنیا میں اس کا نام گھونجا ہے۔ اس کو اپنے لئے خطرہ سمجھنے والی سیاسی جماعتوں کی قیادت مجبور ہے کہ اس کی گرفتاری کی مذمت کرے۔

منظور پشتین پختون نوجوانوں کے دل کی آواز بن چکا ہے اور جو بندہ دلوں میں بس جائے اُس سے طاقت کے زور پر نمٹنا آسان نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منظور پشتین اب کیا کرے؟ اس کے اعصاب مضبوط ثابت ہوئے ہیں۔ عدالت پیشی کے وقت جب گاڑی احاطہ عدالت میں داخل ہوئی تو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے منظور گاڑی سے باہر کسی فکرمند نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے ’نہ مڑہ زۂ خہ خوشحال ئم‘ ( نا یار، میں بہت خوش ہوں ) ۔

ایسے بندے کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ منظور کو کچھ بڑا کرنا چاہیے۔ کیا؟ فوج مخالف نعروں سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ملک کے ہر کونے سے باشعور طبقات نے منظور کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے لئے گیت لکھے گئے ہیں۔ منظور کو فی الفور اپنی تحریک سے پنجاب سے نفرت کا عنصر ختم کرنا چاہیے۔ پاکستانی ریاست سے اپنی غیر مشروط وابستگی کا اعلان کرنا چاہیے۔ اپنی تحریک کو تشدد سے دور رکھنا منظور کا کمال ہے اس کو ہر صورت برقرار رکھنا ہوگا۔

اپنی تحریک کو وسعت دے کر پاکستان کے تمام مظلوموں کی بات کرنی چاہیے۔ یہاں صرف پختون نہیں بلکہ ہر جگہ بے کس لوگوں کے حقوق صلب ہیں۔ سب کے حقوق کی بلا تفریق بات کرکے منظور اپنی تحریک میں مزید جان پیدا کر سکتا ہے۔ افغانستان میں اپنے ہمدردوں سے بات کرنی چاہیے کہ اچھا ہے افغانستان اپنے اور بہت سے مسائل پر توجہ دے۔ ان کے ٹویٹس اور اجتماعات لوگوں کو منظور پر تنقید کا جواز پیدا کر رہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پاکستان کے حکمرانوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس انڈین مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔

پی ٹی ایم پر پاکستانی میڈیا پر پابندی ہے لیکن منظور اور پی ٹی ایم پر کوئی قدغن نہیں کہ وہ پاکستانی صحافیوں سے بات کرے۔ منظور کی آواز اگر پاکستان کے تمام پسے ہوئے طبقات کے لئے اٹھتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے لئے اسے سیکورٹی خطرہ قرار دینا مشکل ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *