دل سے جو بات نکلتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی بڑی خوشی ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اورپاکستانی قوم اخوت اور وحدت کی راہ پر چل پڑی ہے اور منزل ہے کہ بس آیا ہی چاہتی ہے۔ ہماری خوشیاں سانجھی ہورہی ہیں ہمارے غم ایک ہوا ہی چاہتے ہیں۔ اب نا انصافیوں کاخاتمہ بہت قریب ہے، ظالم کا گھر جلنے میں ہوسکتا ہے کچھ دیر باقی ہو مگر غریب کا چولہا اب جلا کہ تب جلا۔ تعلیم کا زیورلوہے سے سستا ہونے ہی والا ہے وہ کھیت قصہء پارینہ ہوچکے جن میں فقط بھوک اُگا کرتی تھی۔

اب صحنوں میں پتھر اُگانے کی ضرورت نہیں کہ سروں کے سودے کب کے ختم ہوچکے۔ راوی بس چین ہی چین لکھنے ہی والا ہے، جنت کا دروازہ بس ادھر کھلا یا اُدھر کھلا۔ اور پھر سب سے بڑھ کر خدا کے سب سے قریبی اور سگے رشتے دار تو ہم ہی ہیں۔ وہ ہمیں خوار اور زبوں حال کیسے ہونے دے گا پھر یہ مملکتِ خدا داد بھی تو اُسی کی عطا ہے تو اِس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے۔ اکہتر میں حفاظت کیوں نہیں ہوئی؟ ہوسکتا ہے خدا کسی زیادہ اہم کام میں مصروف ہو۔

اور ویسے بھی اگرموجودہ پاکستانیوں کی آنکھ سے دیکھو تومشرقی پاکستان زمینی، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے کبھی ہمارے ساتھ تھا ہی نہیں پتہ نہیں قائدِ اعظم نے کیوں اس کو اپنے ساتھ ملا لیاتھا (شاید ان پر کوئی دباؤہوگا برٹش آرمی کا کہ ہماری آرمی تو اس وقت تھی نہیں ) ۔ اس کو کل نہیں تو آج الگ ہو ہی جاناتھا خس کم پاکستان پاک۔ ان کے تو پیسے کی اوقات بھی ٹکے کی ہے (اچھا! کیا کہا روپے سے زیادہ ہوگیا ہے! اوہ معاف کرنا) ۔

خیر چھوڑیں اس فضول بحث کو ہماری ترقی کی رفتار دیکھیں لگتا ہے ہم بہت جلد اگر امریکہ کو نہیں تو جاپان کو پیچھے چھوڑ ہی دیں گے۔ ملکہء برطانیہ راوی کے کنارے (راوی تو ابھی بہہ رہا ہے نا؟ ) محل بنا کریہاں بس جائیں گی اور بادشاہت چارلس کے حوالے کر دیں گی۔ ابھرتے ہوئے مسلم خلیفہ طیب اردگان کے سب سے چہیتے ہم ہی تو ہیں۔ ایران ہمارا برادر ملک ہے وہ مانے یا نہ مانے۔ افغانستان سے ہمارے تعلقات خراب ہو ہی نہیں سکتے تھوڑے سے افغان اگر ہم نے امریکہ کے لیے ماردیے یا مروادیے تو کیا ہوا اتنے سارے روس کے ہاتھوں سے بچائے بھی تو تھے۔ سعودی عرب اور ہم میں تو ویسے بھی بس عربی کا ہی فرق رہ گیا ہے اور وہ شاید ہمیشہ رہے۔ جہاں تک سعودی عرب میں پاکستانیوں سے سلوک کا معاملہ ہے تو دیکھو بھائی وہ پاکستانیوں کا اپنا بیرونی معاملہ ہے اس سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں۔

اتنی آس اور امیدوں کے بندھ جانے کے بعد اچانک کوئی فیصلہ، کوئی واقعہ، کوئی سیاسی زیادتی، کوئی بین الصوبائی معاملہ ہماری اصلیت ہمارے سامنے لے آتا ہے اور ہم پورے طمطراق سے اپنے سارے کپڑے اتار کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اپنی اپنی تعصب کی عینکیں پہن لیتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے بے بنیاد تفاخر کی سیاہی میں نہ صرف اپنے قلم بلکہ ساتھ ساتھ اپنی زبانیں بھی ڈبو لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد کالے نظریات، کالے خیالات، کالے دلائل اورکالے تخلیقی کرتوتوں کا ایک طوفان اُمنڈآتا ہے۔

پہلے یہ طوفان چند محافل تک محدود رہتا تھا اب سوشل میڈیا کی مہربانی سے یہ کالک گھر گھر پہنچ رہی ہے اور چمک رہی ہے۔ پہلے یہ تعصبی سوچ زبان اور علاقے کی مرہونِ منت تھی اب کیونکہ ہر شے بڑی تیزی سے ترقی کررہی ہے تو اس میں بھی محکماتی تعصب بڑی آن بان اور شان کے ساتھ در آیا ہے۔ عدالت ہو، فوج ہو، ساستدان ہوں، پولیس ہو یا صحافی ہوں ان محکموں سے وابستہ افراد اپنے محکمے پر تنقید برداشت کر ہی نہیں سکتے اور اپنی بساط بھر طاقت اورسامنے والے کی بساط بھر کمزوری کے لحاظ سے اس کا جواب دیتے ہیں جو دشنام طرازی اور بدگوئی سے لے کرلاٹھی گولی تک جاسکتا ہے۔

ان کے زعم کا یہ عالم ہے کہ آپ ان محکموں کے نمائندوں سے الگ الگ بات کر کے دیکھ لیں ان کے نزدیک ان کے محکمے سے زیادہ مقدس گائے تو ہندوستان میں بھی نہیں اور ان سے زیادہ دودھ کا دھلا کوئی زمانے میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ پتہ نہیں پاکستان میں برائی ہے کس میں۔ ایک واقعہ، صرف ایک واقعہ پوری قوم کو تالیاں پیٹ پیٹ کر لڑنے اور لچّی اور عامیانہ قسم کی طعنہ زنی پر لگا دیتا ہے۔

سیاسی محاذوں پر ہم اس حد تک جانبدار ہیں کہ اپنے لیڈر کی سورج کے برابر برائی بھی ہم کو نظر نہیں آتی اور دوسرے کے لیڈر کی رائی بھی نظر انداز کرنے کے روادار نہیں۔ ایسا لگتا ہے ہم بات شروع ہی یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ سامنے والے کو نیچا کس طرح دکھانا ہے۔ پتہ نہیں ہم سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا کب سیکھیں گے اور معاملات کو صحیح اور غلط کی کسوٹی پر کب پرکھیں گے۔ ہمارے اندر تنقیدی اور تجزیاتی سوچ کس طرح بیدار ہوگی جو ہماری بصیرت کی گواہی دے۔

کسی کے بھی حق میں بولنے سے پہلے کاش ہم یہ سوچ لیں کہ ہم کو مرنے کے بعدیہ منہ سیاستدانوں، عدلیہ، پولیس، صحافی یا افواجِ پاکستان کو نہیں خدا کو دکھانا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی کہے کہ پاکستان میں کسی طاقتور کی دم پر پاؤں رکھنے کے بعدآپ شاید خدا کو منہ دکھانے کے قابل تو رہ جاؤ مگر کسی انسان کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے۔ تو یقین جانیے یہ بالکل صحیح ہے۔

(اگر اس تحریر سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہوتو بہت معذرت)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جنید اختر کی دیگر تحریریں

One thought on “دل سے جو بات نکلتی ہے

  • 01/02/2020 at 3:05 pm
    Permalink

    Thoughtfully written👍the sorry state of our Nation we see now😥 but I have to be optimistic as the times never remain the same, hope for the best for Pakistan, Ameen b

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *