عالمی ڈَر اور امن کی خواہش


چوری، دھوکا دہی، جھوٹ، غلط بیانی کے ساتھ ساتھ جرم وسزا کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے، جتنی صدق، ایمانداری، دیانتداری اور مثبت روایات کی۔ گویا قدرت نے شروع ہی سے تمام مثبت چیزوں کی اضداد بنائی ہوئی ہیں، تاکہ اس مثبت امر کی قدر ہو سکے۔ ہم میں سے کئی راوی صرف مثبت روایات کا پرچار کرتے ہوئے منفی چیزوں کے ذکر تک کی دلشکنی کرتے ہیں اور اس طرزِ فکر کی حمایت کرتے ہیں، کہ ایسی منفی روایات کا ذکر ان کی ترویج کا باعث بنے گا، لہاذا ان کا ذکر تک نہ کیا جائے، جبکہ دوسرا حلقہ اس خیال کا ہے کہ منفی روایات کے ذکر کی زیادتی ہی ان پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوگی اور جب تک برائی کا ذکر اور اس کی نشاندہی نہیں ہوگی، تب تک وہ برائی دور نہیں ہوسکتی!

ایسے مصنف، مثبت روایات کا برائے نام بھی ذکر نہیں کیا کرتے۔ جبکہ بہت کم تعداد میں ایسے قلمکار و رقمکار ہیں جو، اِن دونوں کا ذکر مناسب اور متناسب انداز میں کرتے ہیں۔ ویسے اچھائی اور برائی کا جتنا تناسب معاشرے میں موجود ہے، اس کو دیکھتے ہوئے اچھے لوگوں اور اچھائی کو اقلیّت میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ویسے بھی جھوٹ میں پھیلنے اور دور تک پہنچنے کی بے انتہا طاقت ہوتی ہے، گو دیرپائی ناں بھی ہو، کیونکہ دیرپائی تو سچ ہی کا خاصہ ہے۔

البتہ ارسطو کا یہ قول کتنا بھرپور ہے کہ ’جب تک سچ اپنی چپل ڈھونڈھ کے پہنتا ہے، تب تک جھوٹ آدھی دنیا گھوم کر واپس آجاتا ہے۔ ‘ کئی بار سچ بروقت اور فوری طور پر ظاہر بھی ہوجاتا ہے، مگر تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے۔ یہ بات سمجھ سے قطعاً باہر ہے، کہ سچ، اپنی چپل ایسی جگہ کیوں نہیں رکھتا، جہاں سے اسے ڈھونڈھنے میں وقت ناں لگے۔

دنیا کے ہر سچّے انسان کو اس کے جیتے جی پتھر ہی لگے ہیں، اس کے پیغام اور نظریوں کو غلط ہی سمجھا گیا ہے، اور اسے بعد ازمرگ عظمتوں کے تاج پہنائے گئے ہیں۔ چاہے وہ انسانِ کامل ﷺ سے لے کر ابراہیمؑ، لوطؑ، عیسیٰؑ، موسیٰؑ سمیت دیگر نبی ہوں، یا گوتم بدھ سے لے کر تبریزیؒ، رومی ؒ، شاہ لطیفؒ اور لال شہباز قلندرؒ، سرمد شہیدؒ اور صوفی شاہ عنایت شہیدؒ جیسے تصوّف کے عظیم علمبردار، فیثاغورث سے لے کر گیلیلیو تک کے عظیم سائنسدان ہوں، یا ارسطو سے افلاطون، اور سقراط سے بقراط تک، علم و دانش کے سبق دینے والے اور دنیا کو تبدیل کرنے والے با توقیر لوگ، ان کی زندگیوں میں ان پر سنگ باری ہی ہوئی ہے اور ان کے طبعی طور پر بچھڑنے کے بعد دنیا نے ان کی قبروں پر مقبرے بھی تعمیر کروائے ہیں اور ان کے گن بھی گائے ہیں، گویا ’مردہ پرستی‘ کا الزام صرف ہمارے خطے کے لوگوں پر لگانا صحیح نہیں ہے، بلکہ دنیا کے ہر خطّے کے افراد ’ماضی کے مزاروں‘ ہی کی عظمت کے گن گانے والے ہیں۔

ہم طائرانہ نگاہ سے تو مشرق و مغرب کے رویّوں کو بہت ہی آسانی کے ساتھ الگ کر لیتے ہیں، مگر یہ بات مدلل انداز میں سمجھائی جا سکتی ہے، کہ جس طرح سے رونا، ہنسنا، مسکرانا، تکلیف اور خوشی، دونوں کا اظہار کرنا، دنیا بھر کے لوگوں میں ایک سا ہے، بلکل اسی طرح ’ڈر‘ کا عنصر بھی دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے افراد میں یکساں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس ڈر کے سرچشمے، اسباب، اظہار کے طریقے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے قرینے ہرجگہ الگ الگ ہیں۔ توہمّات دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک اور ان کے جدید ترین شہروں، اور ان میں بَسنے والے انتہائی ترقی پسند لوگوں کے دلوں میں بھی موجود ہیں۔

اگر دنیا بھر میں یہ سروے کیا جائے، کہ دنیا کے وجود سے لے کر آج تک، کون سی چیز دنیا میں سب سے زیادہ بِک رہی ہے، تو اس کا ایک غیرجانبدارانہ اور صحیح ترین جواب ”ڈَر“ ہی ہوگا، جو دنیا میں سب سے زیادہ بِک رہا ہے۔ چھوٹے موٹے ہتھیاروں سے لے کر ایٹم بم تک، خاردار تاروں سے لے کر، فولاد سے بنی ہوئی بڑی بڑی دیواروں تک، سی سی ٹی وی کیمروں سے لے کر، زنجیروں، رکاوٹی گیٹس (بیئررس) ، سونگھنے والے کتّوں اور بلٹ پروف گاڑیوں تک، سب ڈرہی ہے، جو بِک رہا ہے۔

آج کل پین (قلم) اور چشموں تک میں خفیہ جاسوسی کیمرے عام ہو چکے ہیں، جن کی مدد سے ہم کسی کی بھی حرکات و گفتگو کو با آسانی رکارڈ کر سکتے ہیں اور ہم میں سے بیشتر اس قسم کے آلوں سے اس قسم کا کام کثرت سے لے رہے ہیں۔ عجیب اور کسی حد تک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دنیا کے بیشتر ڈرنے والوں کو یہ تک نہیں پتہ کہ وہ ڈر کس چیز سے رہے ہیں۔ کسی کو اپنی اہمیت کھوجانے کاڈر لاحق، تو کسی کو اپنی بے قدری کا۔ بلندی پر بیٹھے کو پستی کا تصّور سَونے نہیں دیتا تو پستی رسید کو یہ ڈر کھائے رکھتا ہے کہ کیا وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا؟ سوار کو یہ ڈر کھا رہا ہے کہ اگر اس کی سواری چھن گئی تو وہ بھی پیدل چلنے لگے گا، اور پیادے کو تھکن کا ڈر لاحق ہے کہ وہ اگر تھک گیا تو اس کی جگہ سفر کون کرے گا؟

دنیا کی چند اقوام اور ممالک کو ڈر بیچنے میں خاصی مہارت حاصل ہے۔ وہ اپنی منفی سے منفی ترین ”پراڈکٹ“ کو عمدہ انداز میں، با آسانی فروخت کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ جہاں اس کی مارکٹ موجود نہ ہو، وہ وہاں اپنی پراڈکٹ کے لئے مارکٹ بھی خود پیدا کر لیتا ہے، اور پھر وہاں اپنی پراڈکٹ کو بڑی کامیابی کے ساتھ بیچتا ہے۔ دنیا کے وہ ممالک، جو ہتھیار بناتے ہیں، وہ پہلے انہیں بیچنے کے لئے بازار گرم کرتے ہیں۔ دنیا کی مختلف اقوام کو لڑوا کر، جھگڑوں کے میدان (کنفلکٹ زونس) پیدا کرتے ہیں، نتیجتاً چھوٹے چھوٹے تنازعے جنم لیتے ہیں، جو بڑھ کر خانہ جنگی اورپھر بین الاقوامی جنگوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور وہ ہتھیار ساز ملک اپنی سازش (بزنس اسٹریٹیجی) کے تحت اقوام کو آپس میں لڑا کر اپنے ہتھیار فروخت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

یہ بات کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا میں اس وقت جنگوں میں ملوّث ملکوں سے یہ دریافت کیا جائے کہ وہ کس وجہ سے اپنے دشمن سے لڑ رہے ہیں، تو ان میں سے بیشتر، وجہ بتانے سے قاصر ہوں گے۔ یعنی دنیا بھر میں جو آگ جل رہی ہے، وہ بلا وجہ (یا یوں کہا جائے کہ بغیر کسی مضبوط وجہ کے ) جَل رہی ہے، جس میں نہ جلنے والے کو پتہ ہے کہ وہ کیوں جل رہا ہے، اور نہ جلانے والے کو پتہ ہے کہ اس نے آگ کیوں لگائی ہے!

کیونکہ ہر جنگ کا کلیدی محرک غصّہ ہی ہوا کرتا ہے اور غصّہ حماقت سے شروع ہو کر ندامت پہ ختم ہوتا ہے۔ دنیا میں آج تک کوئی جھگڑا یا جنگ ایسی نہیں لگی، جو جنگ ہی سے ختم ہوئی ہو۔ دنیا کی ہر جنگ کے بعد فریقین میں مذاکرات ہی ہوئے ہیں، جس کے بعد صلح کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے اور پھر امن برپا ہوا ہے۔ اگر جنگ ہی کے بعد امن برپا ہونا ہے، تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ تنازع شروع ہونے سے قبل ہی وہ مذاکرات ہوں، جو جنگ میں کئی جانوں کے ضایع ہو جانے کے بعد ہوتے ہیں۔ اگر امن کا درس دینے والی ایسی آواز دنیا کے کسی بھی کونے سے اٹھتی بھی ہے، تو اسے دَبانے کے لیے وہ قّوتیں سرگرم ہو جاتی ہیں، جن کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کی فروخت کے لیے وہ بازار گرم کیا گیا ہوتا ہے۔

ایسے میں کتنی بے سود لگتی ہے یہ دعا کہ ’میرا ملک امن کا گہوارہ رہے‘ یا ’عالم کا قریہ قریہ جھومتا جگمگاتا رہے۔ ‘ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دنیا کے امن پسند باشندے امن کی خواہش کرنا چھوڑ دیں، انسانیت کے عزم کی پرچار کرنا ترک کردیں اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کی یہ دعا دہرانا چھوڑ دیں کہ:

میری سندھڑی پر بھی سائیں! رحمت ہو ہربار

دوست! مرے دلدار! عالم سَب آباد کرو!

(آمین)

Facebook Comments HS