کتابوں کی دکانیں اور ہمارا معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک ہمارے معاشرے میں جب بھی بات کریں تو ہر کوئی ہر وقت مائل بہ گلہ ہی ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگ ہیں جو کہ اس ہر طرف رواں اخلاقی پستی کے بارے میں سوچتے اور سمجھتے بھی ہیں کہ یہ ہے تو کیوں ہے اور دنیا کے باقی معاشرہ یا بڑے شہروں میں زندگی کیسی ہے؟

جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا شوق جو کہ بعد از میرا مضمون اور پھر زندگی کی غالباً واحد نہ سہی مرکزی دلچسپی بنا۔ وہ یہی مضمون یا عنوان تھا کہ سماج اور معاشرہ ہے کیا اور کہا کیا چیزیں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اب ایک جنوبی ایشیائی شہری اور ایک پاکستانی کے طور پر جو کہ محض اتفاق سے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مقیم رہا۔ مجھے پاکستان کے شہروں کے پھلوں میں نہ صرف دلچسپی رہی ہے بلکہ میں لاہور، ملتان، اسلام آباد اور کراچی میں اس کا چشم دید گواہ بھی رہا۔

میں ہر حساس انسان کی طرح اپنے ملک کی تہذیبی اور فکری گراوٹ کی نمایاں علامات سے پریشان ہوتا ہوں اور جیسا کہ پہلے عرض کی ایک طالب علم کے طور پر زندگی اور معاشرہ کے یہ اپنے سی کوشش بھی کرتا رہتا ہوں کہ اس تکلیف دہ شے کے عام لگوں کے جیون پر آنے والے اثرات کو سمجھ سکوں اور پھر شاید کوئی قابل عمل حل بھی نکا ل سکوں۔

زندگی اور پھر سماج ایک بہت پھیلا ہوا موضوع ہے۔ آیا کہ اس کالم میں صرف ایک شاخ کا ہلکا سا ذکر کروں گا۔ وہ ہے۔ آج کے عام شہری کا عام کباب سے رشتہ۔ اب آپ پوچھتے کہ عام کتاب کیا ہوتی ہے۔ صاحب وہ کتاب جس کو پڑھنے کی آپ کو جمہوری نہ ہو۔

سوال یہ ہے کہ معاشرہ میں کتاب کی محبت کتاب کی اہمیت اور عام کتاب کی عزت اور لکھنے والے کی عزت کیا اور کتنی ہے؟

ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ یہ پتہ کریں کہ لاہور میں جی ہاں لاہور میں جس کو پاکستان میں کالجوں یا یونیورسٹیوں کا شہر کہاجاتا ہے۔

اس وقت لاہور میں 25 کے قریب یونیورسٹیز ہیں۔ بہر حال 25 یا 27 کم و بیش یونی ورسٹیز ہیں تو ادبی و فکشن و شاعری کی کتابوں کی باقاعدہ دکانیں کتنی ہیں یا پھر یہ بھی کہ شہر میں کپڑوں کی دکانیں اور کتابوں کی دکانیں کا کیا تناسب ہے۔

یہ لائبریریز کتنی ہیں؟ کسی معیار کی ہیں؟ تا کہ اندازہ تو ہو کہ لاکھوں طلبہ کی موجودگی میں جی ہیں اگر 27 یونیورسٹیز ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سے زیادہ یونیورسٹیز کے سب کیمپس بھی ہیں۔ مثلاً ملتان کی بہاؤ الدین ذکریا اور سرگودھا کی یونیورسٹی آف سرگودھا۔ اور گجرات کی یونیورسٹی آف گجرات ان کو شامل کر لیں تو قریب 30 کے لگ بھگ اب اگر اوسط ہزار بھی طلباء ہو تو کیوں کہ کچھ میں 15 ہزار تک ہیں کچھ میں چند ہزار تک تو صاحب دو لاکھ تقریبا حاضر ڈیوٹی طالب علم ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں فارغ التحصیل بھی لاہور میں مقیم ہیں۔

اب آئیے دوسری طرف شہر جس میں باقاعدہ کتابوں کی دکانیں کتنی ہیں۔ شہر میں جیسا کہ چند مشہور دکانیں گلبرگ میں دو تین مال روڈ پر، دو تین بس جناب یہی کچھ۔ لاکھوں پڑھے لکھے لوگوں کے شہر میں پانچ چھے باقاعدہ دکانیں۔

اس سے کیا پتہ لگتا ہے؟ یہی کہ یا تو لوگوں میں پڑھنے کا رحجان نہیں یا یہ کہ دستیابی نہیں ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ ٹیکسٹ بکس کے علاوہ ناول، شاعری، نثر اور بین القومی ترجمہ جات وغیرہ کی کتب کی طلب ہی نہیں ہے یا ہے تو بہت کم۔ اس کی وجہ یا وجوہات اور اثرات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ شاید اس طرح ہم معاشرہ میں عدم برداشت کی وجوہات اور پھر ان کا حل ڈھونڈنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔

ہمارے معاشرے میں کتابوں کی بہت کم سیل کی بات تو کچھ لوگوں کے نزدیک علم اور احساس اور تخلیق کی دنیا کی وسیع و عریض دنیا کا اندازہ وہ شخص کر ہی نہیں سکتا جو کہ ظاہری چمک سے مرغوب یا بہل جاتا ہے۔ اور یقینی طور پر کتاب بینی کا شوق بھی پیدا ہوتے ہوتے ہوتا ہے۔

باقی سامنے کی بات یہ ہے کہ کتاب بینی یا کتاب یہ تو ایک علامت یا استعارہ ہے۔ جس سے معاشرہ کے رحجان یا رحجانات کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔ ایک زندہ متحرک معاشرہ میں برداشت اور نئے خیالات کی آمد نہایت ضروری شے ہے۔

اب آخر میں صرف چند سطریں اس پر کہ یہ رحجان بھی کتب کی سیل میں کمی یا کتاب بینی میں کمی کیا اب ہوئی ہے یا پرانی ہے

مجھے ایک معروف ناول نگار نے جو کہ عمدہ تحریر کے حوالے سے مشہور ہیں، اس کا جواب یہ دیا کہ میں پچاس سالوں سے کتابوں کی تحریر اور فروخت کے کام سے منسلک ہوں۔ حال شروع سے ہی ایسا ہے بلکہ اب تو ایک چھاپہ خانہ والوں نے دو تین رائٹرز کو کافی ریلٹی دی ہے۔ پہلی دفعہ دو یا تین مثلاً بنائی ہیں۔ کوئی لکھاری صرف تحریر کی وجہ سے خوشحال ہوا ہے۔ باقی صورتحال شروع سے ہی ایسی ہے۔ یعنی بقول فیض “ہر چند کہ تھوڑی کم ہے لیکن ہے تو سہی”

آئیے کتب کی محبت کی روشنی کو مل جل کر بڑھاتے ہیں تا کہ آنے والے کل میں ایک برداشت رکھنے والا دوسرے کی بات کھلے دل سے سننے والا معاشرہ اور شہری ہمارے اردگرد بھی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *