لڈو پیٹھیاں والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ اچانک ہماری سماعتوں سے مختلف اشیائے خورونوش فروخت کرنے والوں کی صدائیں ٹکراتی ہیں۔ مختلف اشیا فروخت کرنے والے ہمارے محسن ہیں کہ وہ ہمیں دن میں متعدد بار یاد کراتے ہیں کہ ہم نے ابھی تک فلاں فلاں چیز نہیں خریدی یعنی وہ اپنی پُرخلوص لاؤڈ اسپیکری آوازوں سے ہمیں نہ صرف خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں بلکہ ہمیں لوئے لوئے بھانڈہ بھرنے کی ترغیب بھی دیتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کی صداؤں میں سے ایک صدا فضاؤں میں ارتعاش پیدا کرتی ہوئی یہ آتی ہے۔ صدا تو پنجابی میں ابھرتی ہے لیکن ہم اسے اپنی قومی زبان میں ڈھال کر آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔

 ”بارہ مصالحے ڈال کے، آلو بخارے والی چٹنی ڈال کے، گرم گرم لڈو پیٹھیاں والے جو فیصلہ کر چکے ہیں وہ آ جائیں اور جو ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے وہ فیصلہ کرکے فوراً سے پہلے پہنچ جائیں۔ آپ جانتے ہیں کہ لڈو پیٹھیاں والا آپ کی گلی میں جوگی کی طرح آتا ہے۔ آپ کی زبان نے بڑی بڑی مشہور جگہوں کے لڈوؤں کا سواد لوٹا ہو گا“ پر اک واری ساڈے لڈو بھی کھا کے دیکھو ”(لیکن ایک بار ہمارے لڈو بھی کھا کے دیکھو) سارا سال منہ میں سواد رہے گا (سارا سال منہ میں ذائقہ رہے گا) ہم آپ کو بھول جائیں گے لیکن آپ ہمیں ہمارے لڈوؤں اور ان کے ذائقے کو یاد رکھیں گے۔ سواد نہ آئے تو پیسے واپس، یہ تو اجتماعی دعوت کا اعلان ہوتا ہے لیکن لڈوؤں والا جوگی بہت جلد اپنے اصل ہدف کو دکان یعنی بچہ پارٹی سے مخاطب ہوئے کہتا ہے۔

 ”اؤ بچہ! اپنے مائی باپ سے پیسے لے آ اور ڈونگا بھر کے لے جا۔ بچے بجلی کی طرح آ۔ بچے بجلی کی طرح آ۔ تیرے والدین تجھ سے جوگی کے لڈو لے کر چکھ لیں گے تو آئندہ تجھے ان سے پیسے مانگنا نہیں پڑیں گے۔ جوگی جانتا ہے کہ خوشحال والدین اپنے بچوں کو سیب کھلانے کے چکر میں ہوتے ہیں لیکن جوگی یہ بھی جانتا ہے کہ بچے کبھی والدین کے جھانسے میں نہیں آتے اور ان کا دم جوگی کے لڈوؤں پر ہی نکلتا ہے۔ ویسے بھی یہ زندگی چند روزہ ہے، کچھ کھالے، موج اُڑا لے۔

او گلی والیو! یقین نہیں آتا تو پچھلی گلی والوں سے پوچھ آؤ اور پچھلی گلی والے اس سے بھی پچھلی گلی والوں سے پوچھ لیں اگر یقین آ جائے تو پھر میرے پاس آؤ اور لڈو لے کر جاؤ۔ ہماری گلی میں جب لڈو پیٹھیاں والا جوگی آتا ہے تو ہمیں اس کے بیانیے میں ہماری ایک محترم سیاسی پارٹی پی ٹی آئی کے منشور کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے، پی ٹی آئی کے برسر اقتدار آنے سے قبل ان کے جلسوں میں جو صدائیں بلند ہوتی تھیں، وہ ہماری سماعتوں کو اتنی فرحت و مسرت بخشتی تھیں کہ ہم سمجھتے تھے کہ اب جوگیوں کی حکومت آنے والی ہے اور غریبوں کے تمام دلدر دور ہو جائیں گے۔

اس کی وجہ یہ تھی پی ٹی آئی کے جوگیوں نے ببانگِ دہل اعلان کر دیا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے عوام کے پیسے اور ان کی چمڑی سے اپنے محلات کھڑے کیے ہیں۔ گزشتہ حکومت کی کاروباری ہوا وحرص، ان کی غلط پالیسیوں اور غلط بخشیوں نے ملک پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے جوگی اپنے لاؤڈ اسپیکری اعلانات میں فرمایا کرتے تھے کہ اب ہمارے بارہ مصالحے والے لڈوؤں کا ذائقہ چکھیے۔ آپ کو ایسا مزہ آئے گا کہ آپ اپنی انگلیاں انگوٹھے چاٹتے رہ جائیں گے۔

 اس میں کیا شک ہے کہ ان جوگیوں کے تیار کردہ لڈو پیٹھیاں اتنے مزے دار ہیں کہ ہر کس و ناکس کہہ رہا ہے واہ مزہ آ گیا، ایسے آلو بخارے و الی چٹنی تو کبھی پی پی پی یا ن لیگ اپنی اپنی باریوں میں بھی تیار نہ کرسکی۔ صرف ایک فرق ہے کہ موجودہ جوگیوں کے لڈو ذائقہ دار ہیں لیکن مہنگے ہیں۔ ویسے بھی پی ٹی آئی کے جوگی اپنی تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ بندے کو ہمیشہ اپنی سوچ بلند رکھنی چاہیے وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اونچا سوچتی ہیں اور اپنا مقصد بلند رکھتی ہیں۔

 آج کسی بھی چیز کا نرخ پوچھیں تو بندہ اس کی آسمان سے باتیں کرتی قیمت سن کر ہکا بکا نہیں رہتا بلکہ سات آسمانوں تک سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہماری گلی میں قدم رنجہ فرمانے والا جوگی جب یہ کہتا ہے کہ او گلی والیو! یقین نہیں آتا تو پچھلی گلی والوں اور اس سے پچھلی گلی والوں سے پوچھ لو تو ہمیں پی ٹی آئی کے جوگیوں کی کنٹینر مارکہ تقریروں کی صدائیں یاد آتی ہیں کہ اگر پاکستانی عوام کو یقین نہیں آتا تو وہ ”کے پی کے“ (خیبرپختونخواہ) کے عوام سے پوچھ لیں۔

 پی ٹی آئی کے جوگیوں نے پاکستانی عوام کو اوپر اٹھانا ہے یعنی سطح زمین سے بلند کرنا ہے واقعی کسی وقت ہمیں جوگیوں کی باتوں پر اتنا یقین آ جاتا ہے کہ ہم کہیں بھی کھڑے ہوں ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سطح زمین سے بلند ہیں۔ اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ پیٹ میں آٹا نہ ہو تو ہوا سی بھرجاتی ہے اور بندہ ہلکا پھلکا ہو کر سطح زمین سے بلند ہونے لگتا ہے۔

Latest posts by پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *