آسان لکھنا آخر اتنا مشکل کیوں؟

آمنے سامنے بات کرتے ہیں تو برابری کی سطح پر انسانوں کی طرح مگر جونہی لکھنے بیٹھتے ہیں، ایک دم کسی چبوترے پر چڑھ کھڑے ہوتے ہیں اور عوام الناس سے خطاب کا لب و لہجہ نہ جانے کہاں سے سرچڑھ کر بولنا شروع کردیتا ہے۔ کہنے والے اور پڑھنے اور سننے والوں کے بیچ ایک فاصلہ ساآجاتا ہے۔ سننے والے یاتو مرعوب ہوکر مرید ہوجاتے ہیں اور زور زور سے واہ واہ شاید اس لیے کرتے ہیں کہ بات کے سر کے اوپر یا پیروں کے نیچے سے گزر جانے کا راز برسرِعام ہوکر انہیں کم علم ثابت نہ کردے یا پھر احساسِ کمتری کا شکار ہوئے بغیر ہی اپنے کاموں پر واپس ہولیتے ہیں ؛ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ”بی بلی! چوہا لنڈ وراہی بھلا“

Read more