وزیر اعظم کی تنخواہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک غریب ملک کے وزیر اعظم کی تنخواہ دو لاکھ سے آٹھ لاکھ کر دی گئی۔ اس خبر پر ہمارے سمیت عوام کی اکثریت نے بھڑاس نکال کر اپنا کتھارسس کیا۔ آج کئی دن بعد وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان نیند سے جاگے اور بیان دیا کہ وزیر اعظم کی تنخواہ نہیں بڑھی اور میڈیا پر ہونے والا پراپوگینڈا افسوسناک ہے۔ وزیر اعظم نے بچت مہم سب سے پہلے اپنے اوپر لاگو کی ہوئی ہے۔ اس سے چند دن پہلے سرمایہ داروں کے وفد سے وزیر اعظم شکوہ کر چکے تھے کہ ان کے اچھے اقدامات کو وہ میڈیا اور عوام میں پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ وزیر اعظم اس پر سرمایہ داروں اور صنعت کاروں سے سخت شاکی نظر آئے۔

اب اس کا ایک پہلو اور بھی ہے یہ وہی تیکنیک ہے جو ان کی میڈیا ٹیم اپوزیشن کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے کلثوم نواز کی بیماری کے مذاق اڑانے سے لے کر نواز شریف کی لندن میں شاہانہ کھانا کھاتے کی تصویریں یہ وہ کلچر ہے جو عمران خان کے زیر سایہ پروان چڑھا۔

لیکن کوئی عمران خان کو یہ بتانے کا تیار نہیں کہ آپ کے مثبت اقدامات کی تشہیر صنعت کاروں کا کام نہیں یہ ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو آپ نے اپوزیشن کے پیچھے لگائے ہوئے ہیں۔

عمران خان کو ایک فری مشورہ ہے عوام کی رسائی اس طرز زندگی تک نہیں جو عمران گزارتا ہے لیکن عوام کا روزانہ واسطہ ان بادشاہوں سے روز پڑتا ہے جو عوام کے خون پسینے کی کمائی سے تنخواہ لے کر انہی کو ذلیل کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک شاہانہ لائف سٹائل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

آخر عمران خان کو کیا خوف ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی مراعات ختم کر دے کوئی علاج نہیں وہ انہی سرکاری ہسپتالوں سے علاج کروائیں جہاں عام پاکستانی علاج کرواتے ہیں۔ ان کے ٹی اے ڈی اے بند کر کے ریلوے میں سفر کروائے۔ ان کے ایکڑوں پر مشتمل رہائش گاہیں نجی شعبے کو ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کے لیے دے جو انہیں فری فلیٹ بنا کر دیں۔ اس طرح حکومت کو ایک پیسہ خرچ کیے بغیر سرکاری رہائش گاہیں مل جائیں گی اور حاصل ہونے والا پیسہ صرف قرض اتارنے یا بجلی کے منصوبوں پر لگایا جائے۔

عمران خان کو ایک بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ جس انقلاب کا وہ وعدہ کر کے آئے ہیں وہ گھسے پٹے پرانے طریقوں سے حاصل نہیں ہو گا اس کے لئے کوئی نئی اپروچ اپنانی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *