بہانے باز
ہر کلاس یا کم از کم پورے اسکول میں ایک دو ایسے اسٹوڈنٹس ضرور ہوتے ہیں جو پڑھائی سے حتی الامکان پرہیز کرتے ہیں۔ پڑھائی اور کام سے نظر چرانے کے نتیجے میں کم و بیش ہر ٹیچر سے جھاڑ پھٹکار سنتے ہیں۔ لیکن یہی اسٹوڈنٹس جب اسکول سے باہر ہوں تو اپنے برے گریڈز کی ذمہ داری ٹیچرز پر ڈالتے ہیں کہ نہ جانے ٹیچرز کو ہم سے کیا دشمنی ہے جو ہمیں فیل کر دیتے ہیں۔ ایسے اسٹوڈنٹس ہر معاملے سے بچنے کے لیے چند مجرب الاثر بہانے تیار رکھتے ہیں تاکہ ہر سوال کا تسلی بخش جواب دے سکیں۔
کراچی کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ حکومت اور کراچی کی شہری حکومت وہی مذکورہ اسٹوڈنٹس ہیں۔
ان دو اسٹوڈنٹس میں سے سندھ حکومت ہر بار کام نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں مختلف بہانے سناتی ہے جیسا کہ وفاق کی جانب سے پیسے نہ ملنا، وفاق کی جانب سے صوبائی معاملات میں دخل اندازی وغیرہ۔
اس کے علاوہ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے لیے ایک طریقہ اور ہے جو سندھ حکومت بہت عرصے سے کامیابی سے استعمال کر رہی ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی آپ کی توجہ کام نہ ہونے کی طرف دلائے یا اس بارے میں سوال کرے تو آپ اس اعتراض کو سرے سے ماننے سے ہی انکار کر دیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے، سوال کرنے والوں کو اندازہ نہیں کہ کراچی میں کتنے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جگہ جگہ دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں بلکہ بہت سے شیروں کو مار مار کے بکری بنا دیا گیا ہے۔
ایک مجرب الاثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ہر سوال یا کسی منصوبے میں ہیر پھیر کی نشاندہی کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا جائے۔ یہ طریقہ اکثر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ نہایت سستا اور آزمودہ ہے۔
کراچی کی شہری حکومت کچھ زیادہ ہی نالائق اسٹوڈنٹ ہے، بالکل اسٹوڈنٹ کی طرح جس کے پاس ہمیشہ کاپی گھر رہ جانے کا بہانہ ہوتا ہے، اسی طرح ان کی جانب سے بھی ہمیشہ اختیارات کی کمی کا بہانہ سامنے آتا ہے۔ البتہ اختیارات نہ ہونے کے باوجود کرسی پر ایلفی لگا کے بیٹھے رہنے کا کوئی معقول بہانہ نہیں ان کے پاس۔ باتیں یہ بھی خوب بناتے ہیں کہ کاپی گھر نہ رہ گئی ہوتی تو ٹاپ پوزیشن اپنی ہی تھی۔
سندھ حکومت کے ترجمان اور وزراء کے بیانات سنیں تو انسان خود کو انتہائی بے خبر اور لاعلم محسوس کرتا ہے کہ ہم اب تک کراچی کی ان سڑکوں اور علاقوں کا دیدار نہیں کرسکے جہاں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔
ویسے بھی اس حکومت کے وزراء، وزیر کم اور بھٹو کے مزار کے مجاور زیادہ لگتے ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے، بھٹو نامہ کی گردان جاری رہتی ہے۔
خیر۔ ایسا کرنا بھی ان کی مجبوری ہے کیونکہ لے دے کے اب ان کے پاس دو عدد لاشیں ہی بچی ہیں جن کے تابوتوں پر پوری حکومت اور پارٹی کی چھت ایستادہ ہے۔ ایسا نہ کرنا تو چلتے دھندے پر لات مارنے کے مترادف ہے۔
بھٹو گیری سے بچ جانے والا ان کا وقت زرداری اینڈ کمپنی کو بے قصور بلکہ قریب قریب ولی ثابت کرنے میں صرف ہوجاتا ہے۔
باقی رہا کراچی تو وہاں راوی پچھلے کئی برسوں سے چین ہی چین لکھ رہا ہے، وہ بھی دیواروں پر۔
لوگ تو ایسے ہی شور مچاتے رہتے ہیں کہ یہاں یہ مسئلہ ہے، یہاں وہ مسئلہ ہے۔
لوگ تو بیوقوف ہیں۔
بھلا کراچی میں اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو بھٹو یہاں اتنا خوش ہوتا؟
کراچی میں تو ویسے تمام ہی سڑکیں کوالٹی کی کنٹرول لائن کراس کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں کہ جہاں سے گزرتے ہوئے بھٹو کی خوشی کا کچھ زیادہ ہی احساس ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے میں بھٹو صرف خوش ہی نہیں بلکہ خوشی سے قلابازیاں لگا رہا ہے۔


