عمران خان 22 سال کی جدوجہد کے بعد حکومت میں آئے مگر ناکام رہے: چوہدری نثار
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 22 سال کی جدوجہد کے بعد برسراقتدار آئے مگر ناکام رہے۔ ملک چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق چوہدری نثار نے آبائی گاوں چکری حلقہ این اے 59 میں سابق یو سی چیئرمینوں، کونسلروں اور حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے مجھے عہدوں کی آفر ہوتی رہتی ہے۔ آئندہ چھ ماہ پاکستانی عوام کے لئے اور مشکل ہیں۔ میں نہ صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھا رہا ہوں اور نہ ہی حکومت کا حصہ بن رہا ہوں۔ جب بھی فیصلہ کیا ضمیر اور خمیر کے مطابق کروں گا۔ میرے بارے میں خبریں بے بنیاد ہیں۔ اس میں کوئی صداقت نہیں کہ میں پنجاب اسمبلی کا حصہ بننے لگا ہوں۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ شہبازشریف نے نوازشریف منانے کی کافی کوشش کی لیکن سابق وزیراعظم چوہدری نثار کو پارٹی میں واپس لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند مہینوں سے نواز شریف اور چودھری نثار کے مشترکہ دوست بدگمانیاں دور کرنے میں سرگرم تھے اور انہوں نے نواز شریف کو پیغام پہنچایا کہ چودھری نثار نے نہ تو نئی پارٹی بنائی اور نہ ہی وہ کسی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں جبکہ چودھری نثار کی واپسی سے پارٹی مزید مضبوط ہو گی۔
چودھری نثار کے قریبی ذرائع کے مطابق چودھری نثار نے کبھی ذاتی طور پر ن لیگ میں واپس آنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ اس حوالے سے جب رانا ثنااللہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا چودھری نثار کی شمولیت کے حوالے سے پارٹی اجلاس کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ چوہدری نثار نے عام انتخابات سے قبل ن لیگ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے باعث وہ انتخابات میں آزاد حیثیت سے کھڑے ہوئے لیکن انہیں قومی اسمبلی کے حلقے میں شکست کا سامنا رہا جبکہ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر وہ کامیاب ہوئے تاہم انہوں نے تاحال اس نشست کا حلف بھی نہیں لیا ہے۔


