بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستحق لوگ بھی نکالے گئے: حکومت کا اعتراف
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنے والے سرکاری افسروں اور جعلی افراد کے ساتھ ساتھ حقیقی مستحق افراد کی بڑی تعداد کو بھی فہرست سے نکال دیا گیا۔ اس بات کا اعتراف وفاقی وزیروزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شکایات موصول ہونے کے بعد انہیں بحال بھی کر دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن نے نقطہ اعتراض اٹھایا کہ حکومت کی جانب سے بی آئی ایس پی پروگرام سے نکالے گئے افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ جس پر وضاحت دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اعتراف کیا کہ بی آئی ایس پی سے کئی نام ایسے نکالے گئے جو واقعی مستحق ہیں۔
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی سے غلط نکالے جانے والے افراد کی شکایات آ رہی ہیں۔ اب تک غلط نکالے جانے والے 265 افراد کی شکایات آ چکی ہیں جن میں سے 100 درخواستوں کو چیک کر کے بحال کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے گزشتہ ماہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے احساس پروگرام ثانیہ نشتر نے بی آئی ایس پی سے 8 لاکھ 20 ہزار افراد کو نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب غیر مستحق افراد ہیں جو غیر قانونی طریقے سے وظیفہ حاصل کر رہے تھے۔

