حکومت اور ق لیگ کے مابین اختلافات سنجیدہ ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوہدری برادران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات نئی کمیٹی کے سامنے نہیں رکھیں گے۔ اگر حکومت کا یہی رویہ رہا تو ہمارے راستے جدا ہو سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹریو دیتے ہوئے سینئر صحافی عمران یعقوب خان کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی کمیٹی کو نہیں مانتے۔

انکے مطابق چوہدری برادران نے حکومت کو یہ واضع کر دیا ہے کہ پہلے جو معاملات پہلی کمیٹی کی ساتھ پچھلے دو ماہ سے چل رہے تھے پہلے ان وعدوں کو پورا کیا جائے اور پھر بعد میں کوئی نئی کمیٹی بنائی جائے۔ انکا مزید کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ پرانے مطالبات کو نئی کمیٹی کے سامنے نہیں رکھیں گے ،اگر حکومت نے ایسا ہی رویہ رکھا تو ان کے اور حکومت کے راستے جدا ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ نئی کمیٹی سے متعلق اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ اتحادیوں سے مذاکرات کیلئے اب حکومت کی نئی کمیٹی سامنے آگئی ہے، ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے اور دوسری کمیٹی ڈالی جاتی ہے۔ ہم نے بھی ایک کمیٹی ڈالی ہے جو ابھی نکلی نہیں۔ حکومت نے پہلے ایک کمیٹی بنائی جس کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہو رہے تھے، ہمیں حکومت کی نئی مذاکراتی کمیٹی کی سمجھ نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ ہم جس کے ساتھ چلتے ہیں نیک نیتی کے ساتھ چلتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ صبر کے ساتھ چلیں ، ہم انتظار اور بہتری کی پالیسی پر چل رہے ہیں، ہم طے شدہ چیزوں کی یقین دہانی کرواتے رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے اتحادیوں کیے گئے وعدوں کو پورا کرے۔ اتحادیوں کو سوتن نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے نئی کمیٹی بارے بابا بلھے شاہ کا شعر سنایا، اگلی توں نہ پچھلی توں ، میں صدقے جانواں وچلی توں۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے تین کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ایم کیوایم اور جی ڈی اے سے رابطے کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی، کمیٹی میں اسد عمر، عمران خان اسماعیل، شمیم نقوی اور حلیم عادل شامل ہیں۔ ق لیگ سے رابطے کیلئے چوہدری سرور کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ بی اے پی، بی این پی اور جے ڈبلیو پی سے رابطے کیلئے تین رکنی کمیٹی میں قاسم سوری اور میرخان جمالی شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *