سی پیک کی امریکہ بہت بڑی قیمت مانگ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز کی سیاسی کشتی ہے کہ کسی سمت کی جانب جو کہ مثبت ہو جاتے ہوئے سرے سے محسوس ہی نہیں ہو رہی۔ حالانکہ اس کی ضرورت بہت رفتار سے عوام کی زندگی پر پڑتے معاشی اثرات کے سبب سے بہت شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام ہے کہ تھمنے میں ہی نہیں آ رہا اور معاملہ ایک ایسی ضد کی جانب بڑھ چکا ہے کہ جس کی زبردست معاشی قیمت وطن عزیز کو چکانی پڑ رہی ہے۔ اور معاشی قیمت سماجی رنگ ڈھنگ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جبکہ بین الاقوامی معاملات میں بھی آپ کی گفتگو، اپنے نقطہ نظر کو بیان کرنے کی صلاحیت پر زبردست طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔

لمحہ موجود میں پاکستان کی معیشت میں سی پیک ایک اہم ترین کردار کے طور پر موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت میں جب اس معاشی معاہدے کی جانب ابھی بڑھنا ہی شروع ہوئے تھے تو وطن عزیز میں یہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ امریکہ اس پاکستانی اقدام کو سرے سے نا پسند کر رہا ہے۔ معاملہ یہ نہیں تھا کہ پاکستان کوئی ضد کی بنیاد پر ڈٹ گیا تھا کہ ہر صورت میں سی پیک کا معاہدہ کرنا ہے بلکہ حقیقی صورتحال یہ تھی کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کو صرف امریکی دباؤ کی بنیاد پر مسترد کر دینا یا حیلے بہانوں سے کام لینا پاکستان کے حوالے سے دانشمندی کا کام نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی آج ہے۔

بہرحال اس دانشمندی اور وطن عزیز کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لئے ڈٹ جانے کی قیمت مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت ادا کرنا پڑی۔ اور اب تک ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ پاکستان میں سیاسی منظر نامہ بدلا تو صدر ٹرمپ نے عمران خان نے اپنی ملاقات کے موقع پر عوامی سطح پر بھی یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ماضی کی پاکستانی حکومت ان سے تعاون اس طرح کا نہیں کر رہی تھی جیسے وہ چاہتے تھے۔ مگر اب ان کی توقعات پر پورا اترا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی کی حکومت سے معاملات صرف افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے ہی اختلافات کا شکار نہیں تھے بلکہ سی پیک کا معاملہ ان دونوں امور سے زیادہ اختلاف کا باعث بنا تھا۔ بہرحال پاکستان میں حالات نے پلٹا کھا لیا۔ ٹرمپ کی پسندیدہ حکومت پاکستان میں برسر اقتدار آگئی۔ سی پیک کے حوالے سے یہ مضبوط تصور ہوتا چلا جا رہا ہے کہ کام کی رفتار میں جان بوجھ کر سست روی اور دلوں میں شبہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ امریکی سفارتکار اس حد تک غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ایلس ویلز اسلام آباد میں بیٹھ کر ہی پاکستان اور چین کے دو طرفہ معاملے سی پیک پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں۔ اور یہ انداز امریکہ کی جانب سے بار بار دیکھنے کو مل رہا ہے۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے عمران خان سے ملاقات کے دوران اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے کاروباری افراد کو پاکستان بھیجیں گے تاکہ وہ امریکی سرمایہ کے لئے مواقع کا جائزہ لے سکیں۔ خیال رہے کہ امریکہ چین کے حوالے سے صرف سی پیک پر ہی شاکی نہیں ہے بلکہ وہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کو دنیا کے معاشی نظام میں اپنے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے جس کا سی پیک ایک جز ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ کہنا صرف پاکستان کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کو بیان نہیں کرتا ہے بلکہ امریکہ نے اس سلسلے میں حال ہی میں بلڈ ایکٹ متعارف کرایا ہے جس کو بی آر آئی کے مقابلے میں امریکی پراڈکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی اگر ان تقاریر کو سامنے رکھا جائے جن میں انہوں نے امریکی نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے اپنے تصورات کو واضح کیا ہے۔ وہاں انہوں نے معاشی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کو واضح کیا ہے۔

چین صرف پاکستان یا اپنے قرب و جوار کے ممالک میں ہی معاشی سرگرمیاں نہیں دکھا رہا بلکہ لاطینی امریکہ، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاء اور دنیا کے اور ممالک میں بھی اس کی معاشی سرگرمیاں روز افزوں ترقی کر ہی ہے۔ اور وہاں پر وطن عزیز کی مانند ایک شخص کو ہر قیمت پر حکومت سے بیدخل کرنے کے آپریشن کا جنون بھی موجود نہیں۔ لہٰذا چین سے ان کی معاشی شراکت داری بھی اچھی طرح جاری و ساری ہے۔ اور یہ شراکت داری امریکہ کی معاشی حیثیت کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے۔

امریکہ نے بلڈ ایکٹ کے ذریعے ایک دوسرا معاشی اقدام کر ڈالا ہی۔ امریکہ اور چین کے معاشی ماڈل میں ایک بنیادی نوعیت کا فرق موجود ہے۔ چین جو بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے وہ سرکاری اور ریاستی سطح پر موجود ہے لیکن امریکہ جو سرمایہ کاری کرنے کی بات کر رہا ہے اس میں پرائیویٹ سیکٹر کو آگے بڑھانے اور کاروباری افراد کے براہ راست معاہدوں کا طریقہ کار موجود ہے۔ امریکہ اس حوالے سے USIDFC میں ابتدائی طور پر ساٹھ ارب ڈالر کی فنڈنگ کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کی گفتگو اور کاروباری روابط کی بابت اس ضمن میں آگے بڑھنے کا امکان موجود ہے لیکن یہ معاملہ سادہ ہرگز نہیں ہے کہ امریکہ بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ امریکہ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ سرمایہ کاری اس ماحول میں کرے گا جب پاکستان سی پیک سے عملی طور پر پیچھے ہٹ جائے گا اور یہ بالکل واضح ہے کہ ایسا اقدام پاکستان کے لئے معاشی اور قومی سلامتی کے حوالے سے بے انتہاء مضر اثرات کا حامل ہو گا۔

میری گفتگو سے یہ مطلب ہرگز اخذ نہیں کر ڈالنا چاہیے کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ امریکہ کی جانب سے سرمایہ کاری کو رد کر دینا چاہیے۔ بلکہ بہت احتیاط سے اس پر گفتگو کرنی چاہیے۔ کمال تو یہ ہو گا کہ امریکہ کو یہ باور کروا دیا جائے کہ سی پیک کو پس پشت ڈالے بغیر بھی امریکی سرمایہ کاری، امریکہ اور پاکستان کے مفاد میں ہو سکتی ہے۔ کسی ایک ملک کے ساتھ جانے یا کسی بلاک کی باتیں کرنے سے نقصان ہی ہو گا۔ یہ سب ممکن ہو سکتا ہے مگر ان کے ذریعے جو اس کی اہلیت بھی رکھتے ہوں اور دنیا کی نظر میں اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ حالیہ امریکہ، ایران کشیدگی کے دوران اہمیت اور اہلیت کو دنیا کن نظروں سے دیکھتی ہے یہ ٹیلیفون کالوں کے ریکارڈ سے پتہ چل سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *