قومی غلامی کا نیا معاشی شکنجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیسری دُنیا کے بعض ممالک میں ایک غیر مرئی حکومت ہے جو ایک جناتی آکٹوپس کی مانند اپنے پنجے ہمارے شہروں، ریاست اور قوم پر گاڑے ہوئے ہے۔ عمومی معاملات کو علیحدہ رکھتے ہوئے اس آکٹوپس کا سر اور دماغ عالمی بینکاروں کے کنٹرول میں ہے۔ طاقت ور عالمی بینکاروں کا ایک چھوٹا سا گروہ قومی معیشت کو اپنے گھر کی باندی کی طرح رکھنے کے لیے ہمیشہ چست رہتا ہے۔ یہ گروہ دراصل وہ غیر مرئی حکومت ہے جو ایک خود ساختہ پردے کے پیچھے پوشیدہ ہے جو بیوروکریسی، پارلیمان، مخصوص درس گاہیں، عدالتی نظام، اخبارات و نشریاتی ادارے اور عوامی تحفظ کے لیے قائم شدہ ہر ایجنسی کو اپنے قبضے میں کیے ہوئے ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد بریٹن ووڈ سسٹم نافذ کیا گیا جس کے تحت بین الاقوامی مالیاتی ادارے وجود میں آئے۔ قرضوں کے لیے آئی ایم ایف اور ترقیاتی کاموں کے لیے ورلڈ بینک تشکیل پائے۔ تجارت کے لیے ڈبلیو ٹی او اور گیٹ بنائے گئے۔ انھی اداروں کے تحت مابعد نوآبادیاتی عہد کا تصور رائج ہوا اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے تناظر میں گلوبلائزیشن کے تصورات پھیلائے گئے۔ گلوبلائزیشن کے تصورات کو پھیلانے کے لیے اُن جامعات کے تحقیقاتی مراکز نے کلیدی کردار نبھایا جنھیں یہی بینکار تعلیمی فنڈنگ فراہم کرتے ہیں۔

عالمی طاقت پسماندہ ملک کی اقتصادی پالیسی کو اپنے تابع یعنی قابو میں رکھتی ہے اس کے لیے ضروری ٹھہرتا ہے کہ یہاں کے مالیاتی نظام اور نظام زر کو کنٹرول کیا جائے۔ جمہوریہ پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں کا مالیاتی نظام اور نظام زر بینک دولت پاکستان کے تحت طے پاتا ہے۔ مالیاتی نظام میں مرکزی بینک سود پر قرض دینے، نوٹ جاری کرنے، تجارتی کاروبار کرنے کے لیے قرض کے اجراء کے امور ادا کرتا ہے اسی مالیاتی نظام کے تحت محاصل (ٹیکس) کے قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور یہ مالیاتی نظام اُن بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تابع ہوتا ہے جس کا تذکرہ اوپر ہوچکا۔ دراصل عالمی مالیاتی اداروں کی ایماء پر تشکیل پانے والے ریاست کے مالیاتی نظام میں تقسیم دولت کو کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ سرمایہ دارانہ معیشت کی جڑیں مزید طاقتور ہوں۔ مالیاتی نظام اور نظام زر جب ریاست کے کنٹرول میں نہ رہے تو مہنگائی کا طوفان برپا ہونا نیچرل ہے، مہنگائی کی سیاسی جڑیں تلاش کرنے کی بجائے سٹرٹیجک نقطہ کو سمجھنا ضروری ہے۔

مالیات کو کنٹرول کرنے کے لیے آدم سمتھ کے اُصول اپنائے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت دلچسپی سے خالی نہیں کہ معاشی لبرل ازم کے بانی آدم سمتھ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے سے حاصل ہونے والی دولت کے بعد اپنی شہرہ آفاق کتاب ویلتھ آف نیشنز لکھی۔ کتاب کا بیشتر حصہ کمپنی کے گرد گھومتا ہے، کمپنی کی ہندستان میں لوٹ مار کو آزادانہ معاشی تصورات کے ذیل میں سرمایہ داریت کا فلسفہ پیش کیا گیا۔ آدم سمتھ کا تصور invisible hand دراصل غیر مرئی حکومت کا تصور ہے جو قوموں کی اقتصادیات کو کنٹرول کرتی ہے۔ آدم سمتھ نے کمپنی کے معاشی استحصالی منصوبوں کو کیسے تقویت بخشی یہ ایک طویل موضوع ہے جسے یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

آدم سمتھ کے نوآبادیاتی عہد کے سرمایہ دارانہ تصورات مابعد نوآبادیاتی عہد میں جدید طرز پر استوار ہیں۔ عالمی استعمار بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے سے قومی معیشت کو اپنے مفادات کے تابع کرتا ہے اور آئی ایم ایف بہ طور گماشتہ کردار نبھاتا ہے۔ قومی نظام زر اور قومی مالیاتی نظام کو گرفت میں رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مرکزی بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف حاصل کر لے۔ پاکستان کے مرکزی بینک یعنی سٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری اور حکومتی مداخلت کو ختم کرنا آئی ایم ایف کے جاری قرض پروگرام کا بنیادی ایجنڈا ہے۔

آٹھ جولائی 2019 ء میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض دینے کے منصوبے کی دستاویز جاری کی جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کو یہ قرضہ چار شرائط پر دیا گیا ہے۔ اول، سٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری، دوم، آئی ایم ایف کے تحت پاکستان ریلوے کا آڈٹ، سوم، پی آئی اے کا آڈٹ اور چوتھے نمبر پر پاکستان اسٹیل مل کا مکمل ریکارڈ آئی ایم ایف کے سپرد کرنا شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کر دیا کہ اب ہم طے کریں گے کہ جمہوریہ پاکستان کے کون سے ادارے قومی ملکیت میں رہیں گے اور کن اداروں کی نجکاری ہوگی اور اس کے ساتھ مذکورہ اداروں کے مالیاتی ریکارڈ تک آئی ایم ایف کو مکمل دسترس ملے گی۔

اب قومی آزادی کے سودے بازی کو عملی (پا)جامہ پہنایا گیا۔ جمہوری حکومت نے آئی ایم ایف کے افسر رضا باقر کو سٹیٹ بینک کا گورنر لگایا، سٹیٹ بینک میں ایک ڈپٹی گورنر ہونے کے باوجود آئی ایم ایف سے وابستہ سید مرتضیٰ سید کو 18 لاکھ 60 ہزار روپے تنخواہ پر ڈپٹی گورنر تعینات کیا، جمہوری حکومت نے منتخب ایم این اے کو وزیر خزانہ کے عہدے سے فارغ کر کے ورلڈ بینک کے سابق ملازم حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ لگا دیا۔ جمہوریہ پاکستان کی پارلیمان بانجھ ہوچکی اس لیے تجارتی امور کے لیے پاکستان کے سرمایہ دار عبد الرزاق داؤد کو مشیر تجارت لگا دیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ میں ماہرین سیاسی امور کی قحط کے باعث امریکی سی آئی اے کی فنڈنگ سے چلنے والے بروکنگ انسٹیٹیوٹ اور انسٹیٹیوٹ آف پیس کے عہدیدار معید یوسف کو وزیر اعظم نے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن اینڈ سٹرٹیجک پالیسی پلاننگ کا مشیر تعینات کر دیا ہے۔ قومی کفایت شعاری مہم کے سربراہ عشرت حسین سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ہیں اور آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ آئی بی اے کراچی کو یو ایس ایڈ کے تحت گرانٹ دی جاتی ہے اور یہاں کا ڈائریکٹر انھی کی مرضی سے تعینات کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اہم ترین عہدوں پر تعینات کیے گئے ان ٹیکنوکریٹس اور آئی ایم ایف کے معاشی غارت گروں کو بظاہر یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ ریاست پاکستان پر غلامی کے طوق کو مزید مضبوط کیا جائے۔ سٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے لیے ترمیمی ایکٹ کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن اس مسودے کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے منظوری دے چکا ہے۔ ایکٹ کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد ایوان بالا اور ایوان زیریں سے مہریں لگوائی جائیں گی۔ قومی آزادی کو گروی رکھنے کا یہ سودا چھ ارب ڈالرز میں کیا گیا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کا طفیلی میڈیا قوم کو مہنگائی کے مسئلے میں اُلجھانے کا منافع بخش کاروبار کر رہا ہے۔

آدم سمتھ کے پیش کردہ تصورات کے مطابق، غلامی کے اس غیر مرئی کھیل میں پارلیمان میں بیٹھی حزب اختلاف کی جماعتیں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز بھی برابر کی حصے دار ہیں، حکومت پر تنقید کے نشتر چلانے کا ٹاسک حزب اختلاف کے عظیم لیڈروں کو سونپا گیا ہے تاکہ قومی غلامی کا طوق مزید سخت ہو جائے۔ عالمی ادارے کے ذریعے قومی معیشت پر غاصبانہ قبضے کے بعد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے عندیے پر دھمالیں ڈالنے والے یہ بھی تو بتائیں کہ یہ ادارہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کن عالمی طاقتوں نے بنایا تھا اور اس ادارے کے تحت غلام اقوام کو کیوں اقتصادی دھمکیاں دی جاتی ہیں؟ قومی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ تزویراتی پہلووں کو پیش نظر رکھا جائے۔

مملکت پاکستان کے آزاد ہونے کے دعویداروں اور آزادی کے علمبرداروں سے ایک سوال ہے کہ کیا معاشی، سیاسی، داخلہ اور خارجہ پالیسی پر بین الاقوامی اداروں کا کنٹرول ہوجائے تو بھی آزادی برقرار رہتی ہے؟ کیا اب بھی ہم خود کو آزاد مملکت تصور کریں؟ کیا ریاست کی اقتصادیات کو گروی رکھ کر خود مختاری حاصل کی جاسکتی ہے؟ کیا ریاست کی خارجہ سیاست کو بین الاقوامی اداروں کی جھولی میں رکھ کر بھی آزادی کا نعرہ لگایا جاسکتا ہے؟ جذبات سے نہیں ذرا عقل و شعور کی طاقت سے سوچیے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *