احتساب کا شور تھا، تھم گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برسوں پہلے جب عمران خان نے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی اور احتساب کا نعرہ لگایا تو عوام کی غالب اکثریت نے ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔ اُنہیں ان کے ”طرز تکلم“ کے پیش نظر یہ امید تھی کہ وہ اگر منتخب ہو کر اقتدار میں آ جاتے ہیں تو بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور احتساب اس قدر سخت کریں گے کہ آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ راقم الحروف بھی یہی سمجھا لہٰذا دھڑا دھڑ کالم لکھنے لگا جو اخبارات کے ادارتی صفحات پر شائع ہوتے۔ اس کے باوجود کہ اس وقت حکومت اُن کے (عمران خان) مخالف تھی مگر کسی نے بھی کوئی روک ٹوک نہیں کی۔

جب وہ اقتدار میں آ گئی تو میری طرح بہت سے لوگ خوش تھے کہ اب احتساب ہو گا اور بے حساب ہو گا اور احتساب کے شکنجے میں ہر وہ شخص آئے گا جس نے اس ملک کا پیسا لوٹا پہلے پی ٹی آئی کی حکومت نے نوے دن اس لیے یونہی گزار دیے کہ اسے معاملات سمجھنے سمجھانے میں لگ گئے ان نوے دنوں میں آنے والی نئی حکومت حکمرانی کی تیاری مکمل کر کے آگے بڑھتی ہے مگر وہ گزرنے کے بعد اور نوے دن گزر گئے کچھ ہلچل نہ ہوئی ایک برس بیت گیا تو کچھ چوٹی کے سیاستدانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

عوام نے خوب تالیاں بجائیں کہ بس حکومت ان سے اپنا پیسا نکلوانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وہ عدالتی کارروائیاں اور جیلوں و حوالاتوں کے مناظر بھی میڈیا پر دیکھتے سنتے رہے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک ہی طرف کا احتساب ہو رہا ہے حکومت کی جانب سے کوئی نہیں پکڑا جا رہا جبکہ عوام کی نگاہ میں درجنوں ایسے نمائندے قابل احتساب تھے اور ہیں اس سے لوگوں میں چہ مگوئیاں مزید ہونے لگیں کہ احتساب محض ایک دباؤ ہے جو حکومت اپنے سیاسی مخالفین پر رکھنا چاہ رہی ہے اور کچھ نہیں تا کہ انہیں پریشان کر کے امور مملکت چلائے جا سکیں یعنی وہ سیاہ کرے یا سفید اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور پوچھنے کی ہمت بھی کرے تو اسے احتساب کے چکر میں ڈال دیا جائے مگر اس کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکا کیونکہ الزامات چند پر تھے سبھی پر نہیں لہٰذا انہوں نے لنگر لنگوٹ کس لیا اور آ گئے میدان میں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے صورت حال سے عوام کو آگاہ کرنے کا آغاز کر دیا۔ اُدھر عدالت میں اپنے وکیلوں کو ڈٹ جانے کا کہہ ڈالا کہ وہ پوری قوت و دانائی سے کیس لڑیں حقائق منظر عام پر لائیں۔

سو انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنا شروع کر دیں جو ابھی تک جاری و ساری ہیں۔ نتیجتاً کچھ رہا ہو چکے ہیں اور کچھ ہونے والے ہیں جو پس زندان میں یا دھکیلے جانے کی قطار میں کھڑے ہیں۔ انہیں بھی ”رہائی“ ملنے کے امکانات واضح ہیں لہٰذا صفائی جو بتائی جا رہی تھی وہ نہیں ہوئی وجہ اس کی یہی ہو سکتی ہے کہ وہ پوتر تھے مگر انہیں کھینچا تانی کے عمل سے فقط گزرنا تھا سو وہ گزار دیے گئے اب صورت حال یہ ہے کہ آسمان پر کہیں دھند دکھائی نہیں دیتی مطلع صاف ہے۔

راستے آسان اور مہکے ہوئے ہیں جن پر چل کر راہی منزل تک پہنچنے والے ہیں۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ نیب کی طرف سے جو احتسابی فہرست جاری کی گئی ہے ان میں کروڑوں والے غیر اہم افراد ہی مجرم ٹھہرے ہیں اربوں کھربوں والے شامل نہیں ہیں۔ ان سے ایک دھیلا بھی نہیں مل سکا ملتا بھی کیوں انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں تھا لہٰذا جو نعرہ لگایا گیا تھا وہ خاموش وادیوں میں کہیں کھو گیا ہے مگر رولا ڈالا جا رہا ہے کہ حکومت کسی کو نہیں چھوڑے گی۔

عوام مگر اس پر اب کان نہیں دھر رہے وہ بد گمان ہیں بد ظن ہیں انہیں تو وزیراعظم نے انصاف کی فراہمی سستی اور سہل فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا تھا۔ وہ وعدہ کہاں گیا۔ انصاف ہوتا ہوا کہیں بھی نظر نہیں آ رہا سب کچھ پہلے کی طرح ہے بلکہ اب تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پچھلے ادوار میں اتنی اندھیر نگری نہیں تھی رشوت کم تھی مہنگائی اور بیروزگاری بھی زیادہ نہیں تھی مگر اب تو ان کی حالت بری ہے اور ہر روز اشیائے ضروریہ کے دام بڑھتے ہیں۔

رشوت دوگنا ہو چکی ہے، بیروزگاری خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے مگر حکومت اس حوالے سے جنگی بنیادوں پر کچھ کرنے کی بجائے چپ سادھے بیٹھی ہے۔ الزام وہ بیورو کریسی پر لگا دیتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کرنے دے رہی یہ کہ وہ شتر بے مہار ہو چکی ہے۔ کچھ لوگ ہوں گے جو اپنی مرضی کرتے ہوں گے کیونکہ ان کی ہمدردیاں کسی کے ساتھ ہوں گی وگرنہ حکومتی ہدایات پر سب چل رہا ہے۔ اور کچھ تو بیورو کریٹ ایسے بھی بتائے جاتے ہیں کہ وہ قانون، آئین اور وقت کے تقاضے کو ملحوظ رکھ کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

یہاں میں سپیشل ایجوکیشن پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر شہزاد ہارون بھٹہ ڈائریکٹر اکیڈمک کی مثال پیش کر سکتا ہوں کہ وہ واقعتا ایک دیانتدار، ایمادار اور فرض شناس افسر ہیں۔ ان کو اس دھرتی اور اس کے باسیوں سے بے پناہ محبت ہے وہ بلا تخصیص انتہائی خوش دلی سے دوسروں کے کام آتے ہیں اور اپنا فرض ادا کرتے ہیں انہیں کسی سے کوئی لالچ نہیں کسی صلے کی توقع نہیں ہوتی وہ بے لوث ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا فرض منصبی ہے ایسے افسر یقینا قابل عزت و احترام ہیں انہیں سلام کرنا چاہیے اسی لیے ہی وطن عزیز کی انتظامی مشینری فعال اور متحرک ہے!

بات کا رخ ذرا دوسری طرف مڑ گیا احتساب کا شور بہت مچایا گیا اداروں کے سربراہوں نے بھی پرجوش لہجے میں کہا کہ وہ قوم کی دولت کسی صورت لوٹنے والوں کی تجوریوں میں پڑی نہیں رہنے دیں گے کیونکہ اس سے ملک کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے اور جب معیشت کمزور ہوتی ہے تو اسے دیگر کمزوریاں بھی آن گھیرتی ہیں لہٰذا سارے پیسے واپس قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں گے۔ مگر اب تک چند ارب کے سوا اور کچھ واپس نہیں آ یا ؟

میں یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ مجھے عمران خان وزیراعظم کی نیت پر ذرہ بھر شک نہیں وہ چاہتے ہیں کہ صاف شفاف احتساب ہو مگر ان کے راہ کی رکاوٹیں انہیں آگے بڑھنے سے روک رہی ہیں شاید، لہٰذا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے اور کیسزا لتوا میں پڑ رہے ہیں مگرا نہیں یہ بھی گزارش کی جاتی رہی ہے کہ وہ احتساب کریں اگر کر سکتے ہیں مگر اس نظام کو بدلیں جس نے لوگوں کو بدعنوانی کی طرف مائل کر دیا ہے ان کی سوچ جو پختہ ہوتی جا رہی ہے کہ بدعنوانی اب جائز ہے لہٰذا بدعنوانی اپنی بقا کے لیے کی جاتی ہے تو کوئی حرج نہیں ؟

اس صورت میں کچھ بڑے لوگ قانون کی گرفت میں آ بھی جاتے ہیں تو وہ دوبارہ بھی ویسا کر سکتے ہیں جیسا وہ پہلے کرتے تھے لہٰذا احتساب کسی کا نہیں ہونا تو پھر کیوں نہ جدوجہد اس نظام کے لیے کی جائے جس میں بدعنوانی کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور جو معمولی ہوتا بھی ہے تو اس پر با آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ مگر شاید عمران خان اب اس پوزیشن میں نہیں رہے کیونکہ انہیں عوام کے پیسے سے مزے لینے والوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے لیے اپنے منشور پر عمل درآمد کرنا ناممکن ہو گیا ہے وہ تھوڑی سی ہمت کریں تو اس حصار کو توڑ سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ترپ کا پتہ موجود ہے جسے دکھا کر وہ منزل مقصود کی جانب بڑھ سکتے ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *