ایک متروک ریلوے ٹریک کے پاس
گذشتہ سال کی گرمیوں میں میرا زیادہ وقت اپنے ابو کے گاؤں میں گزارا۔ جہاں ایک متروک ریلوے اسٹیشن اور ٹریک میری دلچسپی کا محور و مرکز تھے۔ وہ جگہ جیسے مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی شاید میں اس کی آسیبی خاموشی کا شکار ہو گئی تھی۔ میں نے صحیح معنوں میں خاموشی کا حسن اس جگہ محسوس کیا۔ مجھے تنہا طویل سفر کرنا اس لیے بھی پسند ہے کہ ایسے سفر خود شناسی کی منزلوں کو آسان کرتے ہیں۔ انہی دنوں افتخار بخآری صاحب کی نظم ”ایک متروک ریلوے ٹریک کے پاس“ میری نظروں سے گزری اور اس نے مجھے جکڑ لیا۔
بوگن ویلیا کے بیل سے ڈھکے اس بینچ پر تنہائی میں اس نظم کو پڑھتے ہوئے میں ایک عجیب سی کیفیت کا شکار ہوئی تھی۔ اپنے ساتھ آنے والوں کو میں بہت پیچھے چھوڑ آئی کیونکہ نظم مجھے کسی اور ہی سیارے کی اوڑھ لے اڑی تھی اور وقت بھی شام کا تھا۔ دیہاتوں کے باسی جانتے ہیں کہ شام کی آخری ہچکی کی اداسی کسی آسیب زدہ منظر جیسی ہوتی ہے جو بندے کے پاؤں پکڑ لے تو چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔
خاک پہ زندہ رہنے والوں کی
کوشش نے
دن بھر خاک اڑائی
گردوغبار سے میلا امبر
شام بھی اپنی آخری ہچکی
لے بیٹھی ہے
چاند بھی مدھم مدھم سا ہے
پھر بھی دنیا کی ویرانی
صاف نظر آتی ہے
سیٹی کی آواز
چمک ہیڈ لائٹ کی
ناممکن
دہشت ناک حدوں تک گم صُم
کھیت، مکان اور کھمبے
اور ان کے بیچ
اس پٹڑی جیسی
رہی سہی سی عمر مری
اکھڑی اکھڑی
بے کار پڑی
دونوں جانب
لمبی ویرانی میں کھوئی
انگریزی اور فرانسیسی ادب نثری نظم سے آباد ہے، دنیائے ادب کے عظیم نظم گو شاعر ان ہی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں انگریزی زبان کے شعراء John Keats، Donne، William Wordsworthسب سے نمایاں رہے جن کی نظموں کے تراجم نے ادب کے قارئین کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔
اردو شاعری کی زمین ہمیشہ سے ہی غزل کے حوالے سے زرخیز رہی مگر یہاں نظم بانجھ پن کا شکار تھی۔ غیر ملکی شعراء کی نظموں کے تراجم نے فکر کی نئی راہیں ہموار کیں۔ اردو میں نظم کا تصور نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ استاد شعراء نے اسے در خود اعتنا نہ سمجھا۔ تاہم زمانہ کب ایک سے رہا ہے، زمانہ تو برق پا ہے۔ سو دھیر ے دھیرے اردو شاعری نے بھی کروٹیں لینا شروع کیں، مگر اردو نظم کی زمین سوکھی تھی اور سرسبز و شادابی کے لیے لفظوں کے کسی عظیم دیوتا کی منتظر۔
اس دوران چیدہ چیدہ نظم گو شاعر سامنے آنے لگے۔ جن میں ن۔ م۔ راشد، مجید امجد اور وزیر آغا نمایاں ہیں، جن کی نثری نظم کی زمین پر آمد نے اس سوکھی زمین کی آبیاری کی اور اردو ادب میں نظم کو ایک نئی جہت اور شناخت عطاء کی یعنی اُردو نظم کو بھی دیوتا مل گئے۔ اُن حضرات نے مختصر کے ساتھ ساتھ طویل موضوعاتی نظمیں بھی لکھ کر اردو نظم میں نئی تاریخ رقم کر ڈالی۔ جن میں ن۔ م۔ راشد کی ’حسن کوزہ گر ”اور وزیر آغا کی“ اک کتھا انوکھی ”خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ابن انشاء، نصیر احمد ناصر، انوار فطرت اور پھر امجد اسلام امجد کی نظمیں طویل تو نہیں تاہم اس قدر سحر انگیز ہیں کہ قاری ان کے لفظوں کی انگلی تھام کر ایک نئی دنیا کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔
افتخار بخآری کا نام بھی نظم کے قاری کے لیے نیا نہیں، اپنے منفرد نوعیت کے موضوعات اور اسلوب بیان کی چاشنی نے ان کی نظم کو خواص کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی مقبولیت کی سند عطا کی۔ اب تک ان کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ پہلا مجموعہ ”زمین پر ایک دن“ جس میں غزلیں بھی تھیں اور دوسرا ”درد کہاں جاتے ہیں مائے“ ہیں۔ معروف شاعر، ادیب اور تنقید نگار محمد حمید شاہد افتخار بخاری کی نظموں پر ایک مضمون میں رقم طراز ہیں کہ
”مجھے یقین ہے کہ جب جب افتخار بخآری اپنی ہڈیوں کے گودے میں گھس جانے والی نارسائی اور بدن بیچ کھولتے دکھوں کی کہانی لکھنا چاہتا ہو گا وہ نظم بن جاتی ہو گی کہانی سے ایک نظم۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ ان نظموں کو پڑھتے ہوئے متن کے تانے بانے میں گندھی دھندلی راتیں گرداب ہوتی رہی ہیں اور اس گرداب میں اونگھتا ہر خواب اپنی کسی بھی ممکنہ تعبیر کی شاہ رگ سے لہو کو ڈس کر اور اس کی ہڈیاں چبا کر ایک نئی کہانی بنتا رہا ہے۔ جی، نظم سے ایک کہانی۔ میرے لیے یہ بالکل نیا تجربہ ہے۔ نیا بھی اور انوکھا بھی۔ میں اب تک اس پر ایقان رکھتا آیا ہوں کہ جس خواب کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی، اس کی آخری پناہ گاہ کہانی نہیں، ایک نظم ہوتی ہے۔ “
یہ کتاب کھولتے ہی ہمیں اس کی پہلی نظم ہی اپنے اسلوب کے کلاوے میں بھر لیتی ہے اور ہر اگلی نظم ایک نئے اسلوب اور متن کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔ ہم نظم میں کہانیاں پڑھتے چلے جاتے ہیں۔
مل میں محنت کر کے
جب میں شام گھر لوٹتا ہوں
شاعری تھکن کی صورت
میرے لٹکے ہوئے بازوؤں
میں ہوتی ہے ( شاعری چالاک ہوتی ہے )
میں لکھتا رہا
میں کوئی کہانی لکھتا رہا
دن دھوپ میں جلتے کٹتے رہے
اور شام سہانی لکھتا رہا
میں ریت پہ پانی لکھتا رہا (خود نوشت)
کسی سفر میں چاند ہے
کسی سفر میں رات ہے
ہوائے شام، شہر پر
کوئی ملال لہر لہر نقش کر کے
دوریوں میں کھو گئی
فسردہ ساحلوں کے پار تھک کے سو گئی (کہانیاں اداس ہیں )
ہوا سے پیاس
اور خاک سے بھوک
ہم کو میراث میں ملی تھی (چودہویں صدی کی آخری نظم)
میں اٹھ کر کھڑکی کھولتا ہوں
اور دیکھتا ہوں
کائنات کی گلی گلی بھٹک رہی
زمیں کے کا سئہ گدائی میں
کسی سخی کی جیب سے
گرا ہوا چمکتا دن (زمین پر ایک دن)
کوئی چہرہ، کوئی منظر
سراب زندگی جیسا نہیں ہنستا
اکیلی ہی چلی آئی ہو
کیسی شام ہو تم! ( ایک شام سے مکالمہ)
”اسکولوں میں
نہیں پڑھی جاتی
زندگی، ” (بوڑھی عورت اور کیتھرین)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ افتخار بخاری نے اپنے عہد کی نظم کو نیا رنگ دیا۔ اس حوالے سے علی محمد فرشی کہتے ہیں کہ ”گذشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں جن چار یار شاعروں نے معاصر نظم کو نیا رنگ رس دیا تھا ان نصیر احمد ناصر، انوار فطرت، افتخار بخاری اور راقم الحروف لنگوٹیے شاعر تھے۔ ہم تواتر سے محفلیں جماتے، مباحث قائم کرتے، کتابیں تلاش کرتے اور اپنے مطالعے کو شئیر کرتے۔ “
ان کی نظموں کا مجموعہ ”درد کہاں جاتے ہیں مائے“ میں شامل ہر نظم ایک کہانی ہے جس کی بنت کاری میں انہوں نے روح کی تمام سچائیوں کے ساتھ روحانی دشت کی خوب سیاحی کی ہے اور چن چن کر نظم کہانی کہی ہے۔ شاہ دولہ کے چوہے سکھی رہتے ہیں، میں خوش ہوں، نظم اتفاقاً مل جاتی ہے، نامعلوم پرندے کے لیے گیت، واشنگٹن ڈی سی کے ایک قحبہ خانے میں، لمبی دوپہروں کی تنہائی میں، ایک اور افتخار کے نام، عظیم فن کار، بلیک آؤٹ اور ساری نظمیں، سب میں زندگی کی فلاسفی کا عنصر نمایاں ہے۔ جو افتخار بخاری کی نظموں میں ہمیں خوب نظر آتی ہے۔


