چودھری محمد سرور: ویسٹ منسٹر سے ٹوبہ ٹیک سنگھ براستہ گورنر ہاؤس لاہور


ہمارے موجودہ گورنر پنجاب ایک سچے اور محبِ وطن پاکستانی ہیں۔ یہ پاکستان سے باہر گیے ٰ، برطانیہ میں کاروبار میں نام کمایا، وارڈ کی کونسلری سے سیاست شروع کی اور آخر برطانیہ کے کثیرالثقافت معاشرے میں پہلے مسلمان رکنِ پارلیمان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ برطانوی پارلیمان کا رکن بنتے ہی انہیں لگنے لگا کہ کہیں ان کی پاکستانیت ماند نہ پڑ جاے توانہوں نے پاکستانی ذرایع ابلاغ میں آ پناہ لی۔ برطانوی رکنِ پارلیمان ہوتے ہوے بھی یہ پاکستانیوں کے ایم پی ہی کہلواتے رہے حالنکہ ان کے ووٹرز کی اکثریت سفید فام تھی۔

یہ اس قدر پاکستانی ہیں کہ ان پر پاکستان میں رایج سیاسی، ثقافتی ہتھکنڈے صدقے واری جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ان کا پارلیمانی انتخاب ہو رہا تھا، تو ان کے مخالف کچھ امیدوار ان کے حق میں دستبردار ہونا شروع ہو گیے ٰ۔ یہ بھی ماشااللہ اس قدر دریا دل اور سخی واقع ہوے ہیں کہ اپنے حق میں بیٹھنے والے ایک امیدوار کو اس کی فرمایش پر ایک کار پارک میں ملے اور اس کو مبلغ پانچ ہزار پاؤنڈ عطا کیے  تاکہ وہ قسطوں پر لیے گیے اپنے گھر کی اقساط ادا کر کے اسے ضبطی سے بچا سکے۔

میڈیا نے ان کے خلاف اس قدر شور مچایا کہ منتخب ہونے بعد ان کی پارٹی نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا، بات عدالت تک پہچی اور عدالت نے انہیں ’بھولا بھالا‘ قرار دے کر بری کر دیا۔ برطانوی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے بعد چودھری صاحب پاکستان کی سیاسی خدمت کے لیے  پاکستان آئے تو ان کا بھولا بھالا پن بھی اس کے ساتھ آ گیا۔

ان کی مسلم لیگ ن میں شمولیت، پرانے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گورنری کا حصول، اس عہدہ سے استعفی اور پاکستاں تحریکِ انصاف میں شمولیت اور اب نیے پاکستان کے صوبہ پنجاب کی گورنری۔ ان کا یہ بھولا بھالا سیاسی تحرک ان کو ایک پکا پاکستانی سیاستدان ثابت کرتا ہے۔ اب وقت کے ساتھ ساتھ ان کے متوقع حلقہ انتخاب اور گردو نواح میں برادری کارڈ، اور گلو بٹ بھی ان کے آگے پیچھے، دائیں بائیں منڈلانا شروع ہو گیے ہیں۔ یہ سب کچھ یا تو ان کے ایما پر ہو رہا ہے یا یہ سب ہوتا دیکھ کر وہ آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں، لیکن نیچے بیان کیے جانے والے ایک واقعہ سے لگتا ہے کہ چودھری سرور کا سفر اب ٹوبہ ٹیک سنگھ کے فقط ایک اراییں خاندان تک محدود ہو جانے کی طرف شروع ہو چکا ہے۔

ماموں کانجن ضلع فیصل آباد کا ایک دور افتادہ قصبہ ہے اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لگ بھگ 20 میل کے فاصلے پہ واقع ہے۔ یہاں اعجاز سنوری نامی ایک نوجوان کسی طریقے سے چودھری سرور کا تقرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کا طریقہ واردات کچھ ہوں ہے کہ جب بھی کہیں چودھری سرور کو کسی جلسہ میں جانا ہوتا ہے موصوف کسی طریقہ سے چودھری صاحب کے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کی تصاویر اخبارات اور ٹی وی سکرینز پر نظر آتی ہیں جس سے وہ مقامی پولیس اور اپنی جان پہچان والے عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ اسے چودھری صاحب کا خاص تقرب حاصل ہے۔

یہی تاثر اس نے گورنر ہاؤس میں بھی چودھری صاحب کے عملہ کے ارکان کو دے رکھا ہے، جن سے وہ فون کروا کے مقامی سطح پر جایز ناجایز کام نکلواتا رہا ہے۔ اور عام لوگوں کو ہراساں کرتا ہے۔ اس نے اگست 2019 میں اپنے ذاتی مخالف عرفان منظور کو منشیات کے ایک جھوٹے الزام میں گرفتار کروایا۔ عرفان منظور اور اعجاز سنوری کے درمیان وجہ تنازعہ کچھ اور چلا آ رہا ہے، لیکن وہ ناقابلِ دست اندازی پولیس ہے جبکہ اعجاز سنوری اسے گرفتار کروا کے سبق سکھانا چاہتا تھا۔

جس وجہ سے منشیات فروشی کا الزام لگا کر، اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اور اپنی گواہی ڈلوا کے عرفان منظور کو گرفتار کروایا گیا۔ گرفتاری کے حوالے سے عرفان منظور کے گھروالے گورنر صاحب کے قریبی دوست کو لے کے گورنر ہاؤس بھی گیے تاکہ وہ اعجاز سنوری کو سمجھاییں کہ وہ ان کے دفتر کا غلط استعمال نہ کریں۔ گورنر صاحب نے فیصل آباد پولیس کو فون کیا کہ گرفتار ملزم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور اپنے عملہ کے ارکان سے بھی کہا کہ اعجاز سنوری کے کہنے پر کوی عمل نہ کیا جاے اور اپنے دوست سے بھی کہا کہ وہ اس اعجاز سنوری سے بہت تنگ ہیں اور آیندہ اسے دور رکھیں گے۔ لیکن اس کے بعد بھی گورنر صاحب کے ارد گرد وہ منڈلاتا ہوا نظر آتا رہا۔ جس سے یہ تاثر تقویت پکڑتا ہے کہ وہ گورنر صاحب کی اجازت سے ایسا کچھ کرتا ہے۔

عرفان منظور نے پولیس تفتیش کے حوالے سے افسران کی تبدیلی کی جب بھی درخواست دی اعجاز سنوری بدستور اس پہ بھی اثر انداز ہوتا رہا۔ آخر 28 جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے ملزم عرفان منظور کو ضمانت ہر رہائی کا حکم دے دیا اور پولیس کی اپنی محکمانہ تحقیقات کے نتیجے میں متعلقہ اے ایس آئی ماموں کانجن اس کیس اور اسی نوعیت کی دیگر بے قاعدگیوں کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا۔ علاقے میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ گورنر پنجاب اعجاز سنوری کی ناز برداریاں اور اس کا تحفظ برادری کی بنیادوں پہ کر رہے ہیں اور وہ علاقے میں انتخابی سیاست میں متحرک ہونے کے لیے ایک گروہ تشکیل دے رہے ہیں۔

اگر خدا نخواستہ ایسا ہے تو بہت ہی شرمناک اور خطرناک بات ہے جس سے لا قانونیت پھیلے گی اور اگر یہ درست نہیں تو گورنر صاحب واقعی ’بھولے بھالے‘ ہیں، جن کا دفتر ان کے خود غرض دوست احباب اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر وہ اسی راستے پہ گامزن رہے تو گورنر صاحب جو کی اعتبار سے ایک متنوع صوبے کے گورنر ہیں، ٹوبہ ٹیک سنکھ کے ایک آراییں خاندان کی سربراہی تک محدود ہو کے رہ جاییں گے۔ (عرفان منظور راقم کا بھانجا ہے-)

Facebook Comments HS