بریگزیٹ میں میڈیاکا کردار اور یورپی یونین کے پاکستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر کار، 31 جنوری کو برطانیہ نے یورپی یونین سے طلاق لے کر اپنی آزاد ی کا اعلان کرکے، بریگزیٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچاہی دیا۔ کہ جہاں ایک طرف ہزاروں لوگوں نے یورپی یونین سے نکلنے پر خوشی کے شادیانے بجائے وہیں اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، اور یورپی باشندوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔

اور پھر رات گئے تک یورپی یونین سے علیحدگی کی خوشی میں، اس کے حمایتی، شراب کے جام پہ جام چھلکاتے رہے اور دوسری طرف وہ لوگ جو اس علیحدگی سے خوش نہیں تھے انہوں نے بھی اس شبِ غم میں، اپنا غم غلط کرنے کے لیے بے تحاشا شراب کی بوتلیں چڑہائیں۔ کہ فائدہ بہرحال شراب بیچنے والوں کو خوب ہوا۔ جس طرح پاکستان میں کسی حکمران یا ڈکٹیٹر کے آنے یا جانے پر وقتی فائدہ مٹھائی والوں کا ہوتا ہے۔

بریگزیٹ یا دوسرے لفظو ں میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی تحریک اس وقت چلی جب یورپی یونین میں، مشرقی یورپ کے کچھ نسبتاً غریب ممالک جیسے رومانیہ، البانیہ، ہنگری وغیرہ شامل ہوئے تو انکوجیسے خوشحالی کا پروانہ مل گیا اور پھر جس کا جدھر منہ آیا وہ اپنا ملک چھوڑ کر اس طرف چل دیا کیونکہ یورپی یونین کو حصہ بننے کے بعد ان کو آزادی مل گئی کہ جس یورپی ملک میں چاہیں جاسکتے ہیں رہ سکتے ہیں اور کام کرسکتے ہیں تو زیادہ تر ان ممالک کے باشندوں کا پسندیدہ ملک برطانیہ ٹھہرا۔

لہزا جس کو جسی سواری ملی جہاز، بس، ٹرین اس نے برطانیہ کا رُخ کرلیا۔ اور پھر بقول شخصے ان لوگوں نے برطانیہ اور دیگر یوری یونین کے متمول ممالک میں جاکر وہ گند مچایا کہ سب کانوں کو ہاتھ لگانے لگے۔ اورنتیجتاً، برطانیہ کی عوام اور سیاسی قیادت خصوصاً نسل پرست چیخنے لگے کہ مشرقی یورپ کے غریب ممالک کے باشندوں نے، برطانیہ آکر جرائم کو عروج دے دیا ہے اور ہر طرف چوری چکاری، منشیات کا فروغ، سائبر جرائم بڑھنے لگاہے۔ ان پر پابندیاں لگائی جائیں۔ بعض پاکستانی دوست تو ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ ان مشرقی یورپی باشندوں کی کارستانیوں کی بدولت پاکستانیوں کی عزت میں اضافہ ہوگیا ہے کہ یہ تو یورپی باشندوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

چونکہ برطانیہ ایک ویلفیر ریاست ہے تو ہوا کیا کہ یورپی یونین کے غریب ممالک کے افراد، پورے کے پورے خاندانوں سمیت برطانیہ آگئے اور بغیر کسی کام کے گورنمنٹ سے بڑے بڑے گھر لے کر بغیر کچھ کیے بینیفٹس لینے لگے۔ کئیوں نے تو برطانیہ میں جھوٹے بینیفٹس کلیم کرکے اپنے ممالک میں بڑے بڑے گھر بھی بنالیے اورسوشل میڈیا پر ان گھروں کی تصاویر بھی لگادیں۔ ان حرکات نے برطانوی عوام کو سیخ پاء کردیا۔ اور برطانوی میڈیا نے بھی ایسی خبروں پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔

کبھی یہ کہا جاتا کہ کہ وہ یورپی باشندے جو سال بھر کام کرتے ہیں وہ سال کے آخر میں، جب سالانہ چھٹیوں پر گھر جاتے ہیں تو سال بھر کا دیا ہوا ٹیکس ائیر پورٹ پر واپس لے لیتے ہیں اور پھر دوبارہ چھٹیوں کے بعد واپس آکر دوبارہ کام شروع کردیتے ہیں۔ یورپی یونین کے غریب ممالک تو ایک طرف، پھر یونان، اسپین، اٹلی اور فرانس کے معاشی حالات بگڑنے لگے تو ان ممالک کے باشندوں نے بھی برطانیہ کارخ کرلیاکیونکہ جرمنی کے بعد برطانیہ کے معاشی حالات بظاہر اچھے نظر آرہے تھے۔

اوربرطانیہ میں جہا ں، بے روزگار یا بالکل فارغ لوگوں کی داد رسی ہوتی ہے اور حکومت ان کو اسپورٹ کرتی ہے وہیں کام کی بھی کمی نہیں ہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ برطانیہ میں یورپی باشندوں کی کم از کم تنخواہ بھی یورپی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے بلکہ یورپیوں کے لیے تو یہ تنخواہ ایک عیاشی سے کم نہیں ہوتی کہ کہاں وہ اپنے ممالک میں پورے مہینے کے بعد تین چار سو یورو کماتے ہیں اور کہاں برطانیہ، جہاں وہ ہزار پاؤنڈ سے لے کر چودہ پندرہ سو پاؤنڈ، ٹیکس نکال کرآسانی سے کما لیتے ہیں۔ جس میں شئیرنگ رہائش سستے کھانے کی بدولت ان کی کافی بچت ہوجاتی ہے۔

پھر میڈیانے یہ بھی انکشاف کیا کہ کئی یورپی ممالک کے طلباء نے برطانیہ میں، برطانوی بنکوں سے قرضہ لے کر پڑھائی کی اور جب ڈگر ی مکمل ہوگئی، قرضہ اتارے بغیر اپنے آبائی ممالک واپس بھاگ گئے اور برطانوی بنکوں کو اربوں پونڈ کا چونا لگا گئے۔ کئی رومانوی البانوی باشندوں کے ایسے انٹرویو بھی آئے وہ وہ برطانیہ اس وجہ سے جارہے ہیں کہ وہ چوریاں کریں گے اور اگر پکڑے بھی گئے تو جیل جیسی اچھی مگر مفت رہائش اور اچھا کھانا اور کہاں ملے گی۔ لہذا وہ بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔

اب اس قسم کی سچی جھوٹی میڈیا کی خبروں سے مقامی لوگوں نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ ہو نہ ہو یہ یورپ کے لوگ، برطانیہ کے وسائل کو تباہ حالی کی طرف لے جارہے ہیں۔ اور جلد یہ نکمے، جرائم پیشہ لوگ برطانیہ کو بجائے کوئی فائدہ پہنچانے کے، ملک کو کنگال کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو امن و سکون بھی تباہ کردیں گے۔

اب ان یورپی باشندوں کے خلاف لاوہ جو پکنا شروع ہوا تو برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔ جس میں نسل پرست، چالیس سال کے اوپر کے افراد پیش پیش تھے۔ ان دنوں ایسے اشتہارات بھی دیکھنے کو ملے کہ ابھی تو ہم رومانیہ، البانیہ ہنگری کو رو رہے ہیں تصور کریں کہ کل کو اگر ترکی بھی یورپی یونین کا حصہ بن گیا (ان دنوں ترکی بھی یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا) تو پھر کیا غدر مچے گا؟

بس پھر کیا تھا برطانوی عوام میں بریگزیٹ کا مطالبہ زور پکڑتا گیا، تو مجبوراً حکومت برطانیہ کو، عوام کے پرزورمطالبے پر 23 جون 2016 کو ریفرینڈم کرونا پڑا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت حکمران پارٹی اور اپوزیشن کو قطعاً امید نہ تھی کہ لوگ بریگزیٹ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ مگر جب ریفرینڈم کا نتیجہ آیا تو ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا کیونکہ برطانوی عوام کی اکثریت نے بریگزیٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ اکثریت اگرچہ واضع نہ تھی مگر جیت آخر جیت ہوتی ہے اور وہ جیت بریگزیٹ کے حامیوں کی ہوئی تھی۔ لہذا حکومت کو نہ چاھتے ہوئے بھی ریفرینڈم کے تنائج کا احترام کرنا پڑا۔ مگر وزیراعظم کیمرون بھانپ گئے تھے کہ یہ علیحدگی اتنی آسان نہ ہوگی کہ بٹن دبایا تین دفعہ علیحدگی کا راگ الاپا اور ہوگیا۔ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ تھا جس میں بے شمار معاھدے اور زر تلافی سمیت منہ کھولے کھڑے تھے۔

اور واقعی پھرایسا ہی ہوا، کہ حکمران جماعت ٹوری پارٹی کے اندر بھی اختلافات ابھر کر سامنے آنے لگے جبکہ اپوزیشن پارٹیاں جیسے لیبر پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی، اور شمالی آئرلینڈ کی حکمران سیاسی پارٹی نے ڈٹ کر، ریفرینڈم کے باوجود بریگزیٹ کی مخالفت کردی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کیمرون تو اس قضیے میں پڑنے کی بجائے استعفیٰ دے کر پتلی گلی سے نکل گئے تو چار و ناچار بریگزیٹ کا ملبہ نئی وزیراعظم ٹریسامئے کے ناتواں کندھوں پر آپڑا، اس نے بھی اس معاملے کو حل کرنے کی بہت کوشش کی مگر معاملات مزید پیچیدہ ہوتے چلے گئے مگر وہ بھی اس بریگزیٹ کی بَلا کو نئے الیکشن کروانے کے باوجود نہ ٹال سکی اور مجبوراً اسے بھی استعفیٰ دیناپڑا۔ ٹریسا مئے نے بریگزیٹ کا بارِ عصیاں نئے وزیر اعظم بورس جانسن کے کندوں پرڈال دیا۔ ، پہلے تو بورس جانسن نے اس مسئلے کو بڑی شدّ ومد سے پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی مگر اونٹ تھا کہ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا تھا۔

اب یہ معاملہ اتنا لٹک گیا تھا کہ برطانوی عوام بھی اضطراب کا شکار ہوچکی تھی کہ وہ بھی چاھتی تھی کہ اس معاملے کو اب آر یا پار کسی طریقے سے بھی جلد از جلد حل ہوہی جانا چاہیے۔ دوسری طرف، جب بورس جانسن کو پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے بریگزیٹ کا کوئی بل پاس ہوتا نظر نہ آیا تو انہون نے 12 دسمبر 2019 کو ایک دفعہ پھر الیکشن کروانے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ الیکشن بریگزیٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

اور پھر ہوا بھی یہی کہ ٹوری پارٹی نے، الیکشن میں اکثریت سے میدان مار لیا۔ اور ان کی یہ تاریخی فتح، بریگزیٹ کا جن بوتل میں بند کرنے کے لیے سنگ میل ثابت ہوا اور بریگزیٹ کے راستے کی ساری رکاوٹیں ایک ایک کرکے دور ہوتی گئیں اور با آلاخر 31 جنوری 2019 کو بریگزیٹ یعنی برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی خوشی اورغمی کے ساتھ ساتھ، پایہ تکمیل تک پہنچ گئی۔

اب، گر چہ بعض ناقدین نے اسکاٹ لینڈ اور آئرلیند کے شدید تحفظات کے تناظر میں اس بریگزیٹ کو متحدہ برطانیہ کے مزید ٹکڑوں میں بٹنے کی پیشن گوئی بھی کردی ہے اور شاید اس میں حقیقت بھی ہوکہ اسکاٹ لینڈ جس نے 18 ستمبر 2014 کو برطانیہ سے علیحدہ ہونے کا ریفرینڈم ہارا تھا اب پھرعلیحدگی کا ریفرینڈم کروانے کو مطالبہ کررہا ہے۔ کیونکہ حالیہ الیکشن میں بھی اسکاٹش نیشنل پارٹی کو اسکاٹ لینڈ میں اکثریت ملی ہے جو یورپی یونین کے ساتھ الحاق کی زبردست حمایتی ہے۔

مگر وزیراعظم بورس جانسن نے کسی نئے ریفرینڈم کے مطالبے کو سختی سے رد کردیا ہے۔ اسی طرح شمالی آئرلینڈ اور دیگر مقامی پارٹیاں، اور وہ لوگ جو یورپی یونین کے حق میں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یورپی یونین میں رہنے کے فائدے زیادہ تھے اور یورپ سے علیحدہ ہونے کا احساس جلد برطانیہ کی عوام کو ہوجائے کہ وہ کتنا بڑی غلطی کربیٹھے ہیں۔ بریگزیٹ کے مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدی کی تحریک چلانے والے میڈیا اور نسل پرستوں نے اعدادو شمار میں مجرمانہ ردو بدل کرکے عوام کو گمراہ کیاہے اور ایسا تاثردیا گیاہے جیسے برطانیہ میں یورپی آباد کار وں نے صرف برائیوں، گناہوں اور جرائم کو ہی جنم دیا ہے جبکہ حقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جتنا ٹیکس یورپی اقوام نے برطانیہ میں کام کرکے برطانیہ کو دیا ہے اتنا ٹیکس برطانوی ورکر بھی نہیں دیتے۔

بہرحال کسی یورپین نے، برطانیہ کے یورپی یونین کے کے رکن ہونے سے کتنا فائدہ یا نقصان اٹھایا اس کے بارے میں حقائق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آشکار ہوتے چلیں جائیں گے مگر اس بہتی گنگا میں جتنے پاکستانیوں نے ہاتھ دھوئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پہلا کام جو پاکستانیوں نے حالیہ دس برسوں میں یہ کیا کہ جس جس پاکستانی کو کسی بھی یورپی یونین سے منسلک ملک کا پکا پاسپورٹ ملا وہ دوسرے دن بچوں سمیت برطانیہ آدھمکا۔ ایک تو فوراً حکومتی زکواۃ یا بینیفٹس کلیم کیے، بچوں کو فری میں اسکول، یا حکومتی قرضہ لے کر یونیورسٹیوں میں داخل کروایا۔ (یہ تعلیمی قرضہ تو میں نے اچھے خاصے امیریورپی پاکستانیوں کے بچوں کو بھی لیتے دیکھا ہے کہ ان کے بقول جب سہولت ہے تو فائدہ کیو ں نہ اٹھایا جائے اور اپنے پیسے بچائے جائیں ) بس نہ ہنگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

اور اگرکسی یورپی پاکستانی کی اپنے یورپی ملک میں اچھی نوکری ہوتی ہے تو وہ اپنی بیوی کو سنگل مدر بنا کراپنے پورے خاندان کے لیے زیادہ سے زیادہ بنیفٹس سمیٹنے کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی نوکری جاری رکھتا ہے۔ کہ جتنے پیسے جس طریقے سے بھی یورپی حکومتوں سے پیسے نکالے جاسکتے ہیں وہ نکالے جائیں۔ مگر، اس دوران اکثر ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ لوگ دو یورپی ممالک سے بیک وقت ڈبل بینیفٹس لیتے ہوئے پکڑے بھی جاتے ہیں اور ان میں خاصی تعداد ماشاءاللہ، پاکستانیوں کی بھی ہوتی ہے۔

اور وہ لوگ جن کے پاس یورپ میں کوئی ڈھنگ کا کاروبار یا اچھی جاب نہیں ہوتی وہ برطانیہ آکر کسی دور دراز کونسل سے ٹیکسی کا لائسنس لے کر ”اوبر“ چلانا شروع کردیتے ہیں ان میں سے اکثر جعلی یا اصلی یورپی ڈرائیونگ لائسینس کو برطانوی لائسینس سے تبدیل کروا کر اپنا کام نکال لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ لیفٹ رائٹ ڈرائیونگ کے کنفوژن میں ان کے حادثات کی شرح زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے

پھر یہ کہ اکثر مشرقی یورپی یونین کے ممالک جیسے اسپین، اٹلی سے لے کر رومانیہ، البانیہ، ہنگری جیسے مقامی باشندوں کی اکثریت انگلش سے نابلد ہوتی ہے مگر پھر بھی وہ برطانیہ میں کام کرنے آجاتے ہیں اور ان کو کام بھی مل جاتا ہے تو اگر اصل یورپیوں کو انگلش نہیں آتی تو پاکستانیوں کو کہاں سے آئے گی؟ جو انگلش میں سپلی لے کر یورپ میں روزگار کے لیے آتے ہیں۔ مگر ٹیکسی میں آسانی یہ ہے کہ اس میں انگلش کازیادہ عمل دخل نہیں ہوتا بس جدید ایپ کا بٹن دبانا آتا ہو اورپھر ہیلو ہائے اور Yes یا No کہنا آتا ہو تو کام چل جاتا ہے۔

ٹیکسی کے بعد دوسرا کام جو پاکستانیوں کو راس آتا ہے وہ چوکیدارہ ہے جسے وہ بڑے فخر سے پاکستان میں سیکورٹی آفیسر بتاتے ہیں۔ اس کا بیج بھی کچھ تگ ودو اور چار دن کے کورس کے بعد مل جاتا ہے۔ باقی کاموں میں ریسٹورینٹس میں بطور ویٹر وغیرہ کی جابز بھی مل ہی جاتی ہیں۔ اور یہ کام اس لیے بھی پاکستانیوں میں مقبول ہیں کہ مقامی برطانوی نژاد بھی توزیادہ تر یہی کام کرتے ہیں۔ اگرچہ اب نئی نسل اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دے رہی ہے مگر ابھی بھی بہت محنت کی ضرورت ہے کہ پاکستانی دیگر علمی، قانونی، آئی ٹی وغیرہ یا دیگر شعبہ ہائے زندگی جیسے شعبوں بھی نمایاں ہوسکنے کے قابل ہو۔

یہ بات تو برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے بارے بہت مشہور ہے کہ کوئی بے شک چِٹا ان پڑھ پاکستانی بھی ہومگر وہ اپنے پاکستان میں اپنے حقوق اور بینیفٹس شاید نہ جانتا ہو مگر اسے برطانیہ کے ہر بینیفٹس کا پتہ ہوتا ہے۔ اور وہ چھوٹی سے چھوٹی گرانٹ اور بینیفٹ نہیں چھوڑتا۔ جبکہ پاکستان میں اسے پتہ ہوتا ہے کہ ایڑی چوٹی کا زور لگا لے، اسے کون سے حقوق مل جانے ہیں۔

مزید برآں ایک اور بڑی سہولت جو یورپین یونین ممالک سے آنے والے افراد کو میسر ہے، وہ یہ کہ کوئی بھی یورپی یونین رکن ملک کا شخص جو برطانیہ میں آکر مقیم ہوگیا ہے وہ اپنے رہنے کے علاوہ، دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے ہر اُس رشتہ دار کو برطانیہ میں بلا سکتا ہے جس کے بارے وہ ثابت کرسکے کہ وہ فیملی ممبر اس یورپی نژاد باشندے پر انحصار یا اس کا محتاج ہے۔ اس کے لیے فقط یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ اس انحصاری کو کچھ نہ کچھ پیسے پاکستان یا اس جیسے کسی ملک بھیجتے رہے ہیں۔

(یاد رہے یہ سہولت برطانوی نژاد پاکستانیوں کو میسر نہیں ہے ) بس پھر کیا ہے جس جس یورپی پاکستانی نژاد، جو برطانیہ میں مستقل مقیم ہوچکا ہوتا تھا وہ اس قانوں کے تحت، اصلی، جعلی رسیدیں، متعلقہ امیگریشن کے فارم کے ساتھ لگا کر جس جس کو بلا سکتا تھا اس نے برطانیہ بلا لیا جیسے چاچا، تایا، ماما، بھتیجا، بیوہ، مطلقہ کوئی بھی۔ کئی پاکستانیوں نے تو اپنے رشتے داروں سے اس چکر میں اچھی خاصی رقم بھی بٹوری ہے۔ اب یقیناً یہ سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔

بہت سے غیر قانونی پاکستانی Sham marraigesیاجعلی شادیوں کا سہارا بھی لیتے ہیں جس کے لیے یورپین یونین کے پاکستانی، مشرقی یورپ کے گینگز کے ساتھ مل کر جعلی شادی کے خواھش مند گاھک تلاش کرنے میں بھی سہولت کار ی کرتے ہیں۔ ایسی غریب لڑکیاں کسی بھی مشرق یورپ چھ سے آٹھ ہزار پاؤنڈ میں شادی کے لیے میسر ہوتی ہیں۔ جن کا تعلق یقیناً مشرقی یورپ کے غریب مماک سے ہوتا ہے۔

رومانیہ جیسے ممالک کا پاسپورٹ بھی تقریباً چار، پانچ ہزار پاؤنڈ تک مل جاتا ہے۔ مگر ان دونوں طریقوں سے برطانیہ میں نیشنیلیٹی لینے میں خطرہ موجود رہتاہے کیونکہ جعلی شادیوں میں رجسٹرار آفس کو شک پڑجائے تو پکڑے جانے کا قوی امکان ہوتا ہے جبکہ میں نے ایسی ٹی وی رپورٹس بھی دیکھی ہیں کہ ایک پاکستانی جب ایک چھاپے کے دوران کہتا ہے کہ وہ رومانیہ کا شہری ہے کیونکہ اس کے پاس رومانیہ کا پاسپورٹ ہے تو شک پڑھنے پر امیگریشن آفیسر نے اسے فقط یہ پوچھا کہ کیا وہ بتا سکتا ہے کہ رومانیہ کے ہمسائیہ ممالک کون سے ہیں؟

اور وہ کس شہر میں پیدا ہوا وغیرہ وغیرہ تو پاکستانیوں کو تو اپنے پاکستان کے ہمسایہ ممالک کا علم نہیں ہوپاتا کہ سعودیہ ہمارا ہمسایہ ہے کہ ایران یا ترکی تو وہ رومانیہ کے ہمسائیہ ممالک کیا بتا پائے گا۔ لہزا اس کا جھوٹ اس وقت پکڑا جاتا ہے جب رومانیہ زبان کی مترجم بلائی جاتی ہے جو ومانیائی زبان میں پاکستان کو سوال کرتی ہے تو وہ پہلے ہی سوال پر ڈھیر ہوجاتا ہے کہ سوال کے جواب کی بجائے ہونقوں کی طرح اسے دیکھتا رہ جاتاہے اور پھر ہتھکڑی لگواکر جلد ڈیپورٹ ہوجاتا ہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کا نقصان بھلے کسی کو ہوا یا یں مگر ابھی بھی ڈھیروں یورپی پاکستانیوں کی امیدوں پر پانی ضرور پھرا ہے جو اپنے کاغزات مکمل ہونے کے بعد برطانیہ جانے کی آس لگائے بیٹھے تھے، وہ یقیناًاس علیحدگی سے خوش نہیں ہیں۔ بلکہ ایک دل جلے یورپین پاکستانی نے تو مجھے یہاں تک سنا دیا کہ یہ بریگزیٹ دراصل اسے ہی خاص طور پر برطانیہ سے دور رکھنے کی سازش ہے۔

مجھے ذاتی طور پر بریگزیٹ کی بہرحال خوشی ہے کیونکہ جہاں یورپی یونین کے کسی بھی ملک کا کوئی بھی باشندہ منہ اٹھا کر جب چاہے، برطانیہ میں داخل ہوجاتا تھا اور پھر پہلے دن سے برطانوی تصور ہوتا تھا۔ اس کے لیے نہ کوئی ٹسٹ، نہ رکاوٹ نہ کوئی مسٗلہ، جبکہ اس کے برعکس وہیں اگر کوئی پاکستانی، بھارتی، یا کسی بھی غیر یورپی ملک کا برطانوی نژاد مردیا عورت، اپنے شریک حیات کو برطانیہ میں بلانا چاہے تو اس کو اپنی سالانہ انکم، کے ساتھ ساتھ، اپنی شریک حیات کو انگریزی کا ٹیسٹ بھی لازمی پاس کرانا ہوتا ہے اور بھی بے شمار جزیات۔

اور پھر بھی برطانیہ آنے کے لیے جمع کرائے گئے ڈاکومنٹنس مسترد ہونے کا مسلسل خطرہ۔ اور اگر انحصاری والدین یا کوئی عزیز رشتہ دار بلانا چاہے تو اس کے لیے اتنی کڑی شرائط ہیں کہ بس ناں ہی سمجھیں۔ اور یورپی یونین کا باشندہ؟ تو پہلے دن سے ملکہ عالیہ کا داماد تصور کیا جاتا تھا۔ ۔ لہذا اس بریگزیٹ کے بعد اب کم از کم یہ امید تو ہوچلی ہے کہ ”ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز کے مصداق“ سب یورپی و غیر یورپی باشندوں سے اب کم از کم ایک جیسا تو سلوک ہوگا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *