ففتھ جنریشن وار کے ہیرو یاد آتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل میں ٹویٹر کھولتا ہوں تو وہاں پر ایسی ویرانی اور خاموشی ہے جسے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیونکہ مجھے وہاں پر نہ تو اپنے پیارے ادارے کی طرف سے کوئی ٹویٹ نظر آتی ہے اور نہ ہی ٹاپ ٹرینڈز میں اس سے متعلق کوئی ٹرینڈ ملتا ہے۔ اور یہ سب اس لیے ہے کہ ففتھ جنریشن وار کے سرخیل اور ہیرو ہمارے پیارے سر جی عرف باس اب وہاں نہیں رہے۔

ان کی جگہ ہمارے پیارے ادارے کی ترجمانی کی کمان جن کے سپرد کی گئی ہے ان کی طرف سے ابھی تک کوئی بھی ایسی ٹویٹ سامنے نہیں آئی کہ جس کو دیکھ کر تھوڑا سا بھی دل خوش ہو سکے۔ کیونکہ سر جی عرف باس کے ہوتے تو کوئی ایسا دن نہیں گزرتا تھا کہ جب ان کی ٹویٹس سے دشمنوں کے دانت کھٹے نہ ہوں۔ ایسے تابڑ توڑ حملے تو دنیا کی کسی فوج کے ترجمان کی طرف سے ٹویٹر پر نہیں کیے جاتے تھے جس کا مظاہرہ ہمیں ہماری فوج کے ترجمان کی طرف سے ملتا تھا۔

خاص طور پر ہمارے ازلی دشمن بھارت کو تو انھوں نے ففتھ وار جنریشن میں ناکوں چنے چبوادیے۔ چاہے بھارت کی طرف سے سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ ہو یا کنٹرول لائن کی صورتحال پر جھوٹ بول کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بات ہو انھوں نے سوشل میڈیا پر ایسے جوابی فائر کیے کہ سب ان کو داد دینے پر مجبور ہو گئے۔ خاص طور پر جب انھوں نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب اپنی مرضی سے اپنے وقت پر جوابی وار کرے گا تب تو ان کی بہت واہ واہ ہوئی۔

اور اس کے بعد جب ہماری بہادر فوج نے بھارت کے جنگی جہاز مار گرائے اور ایک ان کے ایک پائلٹ ابھی نندن کو پکڑا تو جس طرح سے اس کا انٹرویو چلوایا ہمارے سر جی عرف باس نے اور اس پورے معاملہ پر جس طرح سے انھوں نے اپنی دھواں دھار پریس کانفرنسز کی اسے کون بھول سکتا ہے؟ اس پر جب ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا گیا، تب بھی انھوں نے اسے ہماری اخلاقی فتح قرار دے کر خوب داد سمیٹی۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہوتے ہوئے ففتھ جنریشن وار کے لیے فلمیں، ڈرامے اور گانے بھی بنائے گئے۔ جس میں سے ایک ڈرامہ ”عہدِ وفا“ ابھی بھی چل رہا ہے۔ اور ”کاف کنگنا“ جیسی فلم کو کون بھول سکتا ہے جس میں اپنے ازلی دشمن بھارت کو ان کے ہی انداز میں آئٹم سانگ کے ذریعے مات دی گئی۔ اور گانوں میں بھی دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا لاجواب سبق دیا گیا۔ یہ سب ہمارے اس ہیرو کا ہی طرہ امتیاز تھا، کیونکہ ایسی کوئی مثال ہمارے ہاں پہلے نہیں ملتی۔

یہی نہیں، وہ ہماری بہادر فوج کے حوالے سے ہونے والے ہر طرح کے منفی پروپیگنڈہ کواپنے ایک الگ ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹس کے ذریعے جوابی وار کر کے ناکام بناتے تھے۔ اور ہر قسم کے ملک دشمن عناصر کو بہت اچھے طریقے سے بے نقاب بھی کرتے تھے۔ اس سب کی وجہ سے کئی مرتبہ ان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ مگر اس سب کو اپنا قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیتے تھے اور تنقید کا جواب بھی دبنگ طریقے سے دیتے تھے۔

ان کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ سمیت ہر محب وطن پاکستانی ان کو بہت یاد کرتا ہے۔ کیونکہ اب نہ تو کوئی ان کی طرح ٹویٹس کرتا ہے۔ نہ لمبی لمبی پریس کانفرنسز ویسے ہوتی ہیں۔ جیسے وہ کیا کرتے تھے۔ اور نہ ہی ان کی طرح کوئی میڈیا چینلز پر آکر اپنے موقف کا ویسے برملا اظہار کرتا ہے۔ بلکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی طرف سے بھی ان کے جانے پر خوشی کے بہت شادیانے بجائے گئے ہیں۔ جو کہ بلاشبہ ہمارے سر جی عرف باس اور ہمارے ادارے کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

اس پر، میں اپنی پوری قوم کی طرف سے ان کو دل اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اور اپنے سپہ سالار سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمارے سر جی عرف باس کو ان کی ان خدمات کے عوض نا صرف سب سے بڑے اعزاز سے نوازیں۔ بلکہ ان کو دوبارہ سے ہمارے پیارے ادارے کی ترجمانی کی کمان سونپ دیں۔ تاکہ ان کے جانے پر ہمارے ازلی دشمن بھارت سمیت جس جس نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔ ان سب کی خوشی کو غارت کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *