یہ جو ماڈل ٹاون سے محبت ہے
کچھ دنوں پہلے معروف لکھاری آمنہ مفتی کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو آمنہ کی تمام تر گفتگو بہت دلچسپ اور سننے سے تعلق رکھتی تھی مگر ماڈل ٹاون کے حوالے سے جب آمنہ نے یہ کہا کہ برسوں سے ماڈل ٹاون ایسا ہی ہے۔ یہاں کے درخت ’پھول‘ پودے اور موسم اتنے ہی خوبصورت ہیں جتنے ہجرت کے وقت تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے یہی لگا کہ وہ بھی میری طرح ماڈل ٹاون کی محبت کی اسیر ہیں۔ ماڈل ٹاون کی فضاوں کے ساتھ شب و روز بسر کرنے والے یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ محبتوں کی امین اس بستی کے دروازے جب آپ کے لئے کھل جاتے ہیں تو یہ دروازے اپنے مکینوں کے ساتھ خوب وفاداری نبھاتے ہیں۔
آپ ان دروازوں سے باہر نکل کر بھی انہی میں قید رہتے ہیں۔ اس بات کا احساس ان لوگوں کو بہت اچھی طرح ہوتا ہے جو اس بستی کے راستوں پر اپنے قدموں کے نشان چھوڑنے کے بعد اچانک سے اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ وہ اس بستی کو چھوڑ دیتے ہیں مگر یہ بستی انہیں نہیں چھوڑتی۔ یہ بستی اپنی راہ پر آنے والے مسافروں کو کسی اور سمت دیکھنے ہی نہیں دیتی۔ مستنصر حسین تارڈ بہت سالوں سے انہی راستوں کے مسافر ہیں۔ ماڈل ٹاون پارک کے ٹریکس تارڑ صاحب کے علم دوست قدموں کو بہت اچھی طرح پہچانتے ہیں۔
اس بستی کے اندر فیض احمد فیض کی نظموں کی خوشبو سانس لیتی ہے۔ یہاں کی فضاوں میں اشفاق احمد اور بانو آپا کی محبت بھری محفلوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ شام ہوتے ہی ماڈل ٹاون کی خاموشی اپنے تمام تر رنگوں کے ساتھ زمین پر اتر آتی ہے۔ یہاں کے مکینوں کی اس خاموشی سے دوستی ہے۔ یہ سکون یہ خاموشی انہیں کہیں اور میسر نہیں ہوتی۔ سورج کے نکلتے ساتھ ہی یہاں زندگی مسکرانے لگتی ہے۔ کہیں بھیا کے کباب شور مچاتے ہیں تو کہیں گوگے کے چنوں کی جھلک نظر آتی ہے اور کہیں نفیس کے دہی بھلوں کی رونق لگی ہوتی ہے۔
علم سے محبت کرنے والوں سے یہاں کی لائبریری روز ہم کلام ہوتی ہے۔ یہاں کے جامنوں اور شہتوتوں کے درخت جابجا راستوں میں کھڑے ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ یہاں کے مکینوں کے مزاجوں میں جو ٹھہراؤ اور اطمینان نظر آتا ہے وہ یہاں کی مٹی کی دین ہے۔ وہ مٹی جس کے ذرات میں وفا کی آمیزئش ہے۔ یہاں کے بازاروں میں زندگی کے گیت سنائی دیتے ہیں وہ چاہے بینک سکوائر ہو یا پھر ایم بلاک ہر طرف آپ کو شوخ رنگوں کی قطار پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔
بارات گھر کے اندر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے محبت کے مسافر وفاوں کی تجدید کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ محبت یہ وفائیں سب اسی بستی کی میراث ہیں۔ اس بستی کی محبت تاعمر ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ وفاوں کی داستانیں سناتے یہ درخت تمام عمر ہم سے دوستی نبھاتے ہیں۔ ماڈل ٹاون سے یہ دوستی اور محبت ہمیں کسی اور جانب دیکھنے ہی نہیں دیتی۔ یقین نہ آے تو ایک بار ان راستوں کو اپنا ہمسفر بنا کر دیکھیں آپ بھی اسی محبت کے اسیر ہو جائیں گے۔


