صحرا نورد


کبھی کتابوں میں صحرا نوردی پڑھتے تھے اور چاؤ چاؤ میں اپنی مٹر گشت کو صحرا نوردی سے تشبیہہ دیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدل گئے تو حالت بھی بدل گئی۔ پھر چند ایک ملکوں کے کئی شہروں میں کئی کئی ستاروں والے ہوٹلوں کے قیام کو بھی صحرانوردی ہی میں گردانتے رہے لیکن آج جب واقعتا صحرا میں اترا تو یہ راز کُھلا کہ یہ صحرا تو نِرا عشق ہے  سراسر عشق ہے۔

حدِ نظر وسعت خوفناک حد تک دلکش اور دلگیر لگی۔ دور سے کیسا خوبصورت ٗ کیسا دلفریب اور کس قدر پُر کشش لگتا تھا لیکن صحرا کی حدود میں داخل ہوتے پہلے قدم ہی نے بتا دیا کہ یہ راہ دیکھنے میں اور اِس راہ پر چلنے میں بہت فرق ہے۔ بادشاہ حضرت سلطان باہو ؒ کا مصرع بڑے موقعے کی مناسبت سے یاد آیا کہ:

راہ فقر دا مشکل یا حضرت باہوؔ ’ماں نہ سیرا رِدھا ہو

(باہوؔ فقر کا راستہ بہت کٹھن ہے، یہ پکا پکایا حلوہ نہیں جسے تمہارے لئے تمہاری ماں نے پکایا ہو)

صحرا میں جانے کی کوئی روک نہیں، کوئی پڑتال نہیں، کوئی جانچ نہیں  یہ تو محض اپنی ہمت  اپنے حوصلے اور اپنی نیت پہ منحصر ہے۔ عین عشق کی مانند ناصح کی موجودگی یہاں بھی لازم ہے۔ ناصح کی اپنی ہی ڈگر ہے  وہ داخلے سے پہلے ہر طرح کے خوف تلخ سچائیاں  رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات سب بتا دیتا ہے لیکن اگر نہیں بتاتا تو ناصح کمال مہارت سے اس سفر کے آداب سے آگاہ نہیں کرتا ’اس سفر کے رازورموز آشکار نہیں کرتا۔ یہ تو سفر کرنے والا ہی جان پاتا ہے کہ ان سارے مصائب و الم میں کیا کیا اورکیسی کیسی لذتیں ہیں۔

صحرا میں ابتدائی چند قدم ہی سفر کی مسافت اور مسافر کی منزل طے کردیتے ہیں۔ صحرا اپنے صحرانوردوں کو اپنا رنگ دینا نہیں بھولتا۔ خوش آمدید کے طور پہ سر میں خاک ڈال دیتا ہے کہ آپ اپنی غرورومستی  اپنی تمکنت اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات کی نفی کا سبق سیکھ لیں۔ یہی ابتدائی کٹھنائیاں اگلے مراحل کی سیڑھیاں ہیں۔ کم ہمت اور تھوڑ دِلے اِدھر ہی سے واپسی کا رُخ کر لیتے ہیں، یہاں سے لوٹ جانے والے اپنی ذات کا گیان نہیں پاسکتے۔ اپنی ذات میں کسی کو سمونے کا موقعہ نہیں دے سکتے۔ اور اپنی ذات کے نہاں خانوں میں چُھپے اس لامکاں کے مکیں کو نہیں ڈھونڈ سکتے۔ اندر لگی ’چنبھے دی بوٹی‘ کی مُشک نہیں لے سکتے۔

جونہی صحرا کا کنارہ آنکھوں اوجھل ہوتا ہے  اورجب آپ خود کو صحرا کے بیچ و بیچ پاتے ہیں تبھی صحرا کی کشش شروع ہوتی ہے۔ صحرا بھی پہلی رات کی دلہن کی مانند شرم والا ہے۔ اکیلے میں ملتا ہے  سب کے سامنے سرگوشیوں سے ڈرتا ہے  تنہائی پسند ہے اور خلوت میں اپنی جلوت دکھاتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب صرف دیکھنے کی حس ہی فعال ہو تو صحرا فوراً ہی زبان خشک کر دیتا ہے  ہونٹوں پہ پپڑیاں جما دیتا ہے اور قوتِ گویائی سلب سی ہو جاتی ہے تب صحیح معنوں میں بصارت کام کرتی ہے اور پھر وہ وہ راز کھلی آنکھوں سے دکھتے ہیں کہ پچھلی عمر پہ تاسف ہونے لگتاہے۔

منزل کی طرف فقط چند قوس کی مسافت ہی سے صحرا کی محبت جوش میں آجاتی۔ یہ کیسے ممکن کہ آپ اتنا سفر کر جائیں اور وہ آپ کی طرف مائل نہ ہو۔ وہ تو اب لپکنے کو تیار بیٹھا لیکن چونکہ شرمیلا ہے  سب کے سامنے کہنے سے خائف ہے  بڑی ادا سے آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اور اس کی محبت میں اس قدر شدت ہوتی کہ دو پاؤں پہ کھڑا رہنا مشکل ہو جاتاہے۔ بندہ پاؤں کی بجائے زانوؤں پہ آجاتا ہے۔ اسی لمحے صحراکو محبت کا یقین آجاتا۔ لیکن وہ ابھی اور مسافت اور منزلیں اور راز  اور مراحل طے کروانے پہ مصر ہے کیونکہ صحرا تو پورے کا پورا عشق ہے۔ اپنا سب کچھ دینے پہ مائل ہے۔ صرف ہماری جانب سے لینے اور قبول کرنے کا عندیہ چاہتا ہے۔ اندر کی آگ کو دو چند کرنے کے لئے دور سراب کی صورت میں پانی دکھاتا ہے۔

یہ سراب کوئی دھوکہ  کوئی دغا  کوئی جھوٹ یا کوئی فریب نہیں بلکہ یہ صحرا کی ایک ادا ہے آپ کا حوصلہ بڑھانے کو۔ اب آگ چونکہ دونوں جانب لگ گئی ہے تو وہ صحرا جو اپنی وسعت میں بے پناہ ہے  جو ایسا مجذوب ہے کہ کسی کو ناں نہیں کرتا وہ آپ کو خالی کیسے جانے دے۔ وہ خود ہی آس  ہمت اور حوصلہ بڑھاتا ہے تاکہ منزل تک پہنچا دے۔ یہی اس کی محبت کی معراج ہے۔

جب یہ آگ دونوں طرف برابر ہو جاتی ہے تو پھر صحرا کمال مہربانی کرتا ہے۔ زانوؤں سے بھی بات آگے بڑھ جاتی ہے۔ پھر تو گھسٹ گھسٹ اور لپٹ لپٹ کے کچھ فاصلہ طے کرواتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہے جب وہ اپنا سارا راز سرگوشیوں میں بیان کر دیتا ہے۔ دل کو دل کے ارمانوں کو  دل کی خواہشات کو رام کر دیتا ہے۔ اور وہیں ایک عجب سکون نازل ہوتاہے جو رُوح تک کو سرشار کر دیتا ہے۔ جانے صحرا کیا سرگوشی کرتاہے  ایسا کیا منتر پھونکتا ہے  کہ انسان خوشی خوشی خود کو صحرا کے حوالے کر دیتا ہے۔

اب یہاں سے صحرا کے عشق کا کمال شروع ہوتاہے۔ وہ بڑی ہی محبت سے سنبھال کے انسان کو چِت لٹا دیتا ہے اور اپنی نرم گرم آغوش میں لے لیتا ہے۔ کہ لیٹا ہوا انساں راحت سے مسکرا دے۔ پھر اُسے وہ مقام  وہ منزل دکھا دیتا ہے جس کی جستجو اسے یہاں تک لے آتی ہے۔ اسی اثناء میں صحرا اپنے بازو وا کر دیتا ہے اور امر کے مطابق وصل و قرب کے لمحات قریب آجاتے ہیں۔ صحرا میں ہوا مزید تیز ہو جاتی ہے۔ اِدھر وہ لمحہ آیا کہ وصل کی لذت سے آشنائی ہوئی اُدھرہوا کا ایک تھپیڑا آیا کہ دو جاں کو یک جاں کر دیا جائے۔ اور یکے بعد دیگرے ہوا کے جھونکوں نے ایسا بلند قامت ٹیلہ بنا دیا کہ اس راہ کر مسافروں کے لئے مشعلِ راہ بھی بن جائے اور سنگِ میل بھی۔

Facebook Comments HS