قلیل خمری کی ڈرامہ سازی اور صنفی سوال -ناقابلِ اشاعت کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قلیل خمری کو خدا غریق رحمت کرے۔ مرحوم تاریخ میں واحد ملامتی صوفی تھا جو واقعتاً قابل ملامت تھا۔ قبلہ نے جب جب دہان دریدہ کو زحمت دی، خود ساختہ عظمت، نرگسیت، کم سوادی، بداطواری اور پٹی ہوئی دانش کے ایسے پھول جھڑے کہ خلقت اس تھوتھے چنے سے برآمد ہوتی بے تال جہالت کی گھنی تاریکی میں سر پٹختی تھی۔ غریب الدہر نے چولہا جھونکنے کے لئے ڈرامہ لکھنا چاہا تھا اس کی بدقسمتی کہ اردو ڈرامے کی صنف ایسی بے مایہ نہیں تھی جیسی اس ہیچمداں نے سمجھی۔

اردو ڈرامے میں امانت لکھنوی کی تہذیب تھی۔ آغا حشر کا شکوہ تھا، امتیاز تاج کی کردار نگاری تھی۔ منٹو کا نشتر تھا، احمد شجاع کی متانت تھی۔ بیدی کی ژرف نگاہی تھی، شوکت تھانوی کی ظرافت تھی، اشفاق احمد کی ذہانت تھی، نور الہدی کا سیاسی شعور تھا، عطا الحق کی بے ساختگی تھی، صفدر میر کی تاریخ دانی اور اسلم اظہر کی ہمہ دانی تھی، اصغر ندیم کا رچاؤ اور کمال رضوی کا بہاؤ تھا۔ اردو تمثیل تو ضیا محی الدین، طلعت حسین اور شاہد ندیم کا قرض نہیں چکا سکتی۔

ہمارے ڈرامے نے سراج اور شائستہ سونو جیسے اساتذہ سے فیض اٹھایا۔ قلیل خمری کے فلک کو خبر نہیں تھی کہ ڈرامے نے ذہن انسانی کی تہذیب میں فلسفے، نفسیات، معیشت، تاریخ اور سیاست کے دھاروں کو کیسی کاٹ کگر بخشی ہے۔ سفوکلیز سے کالی داس، شیکسپئر سے ابسن، والٹیئر سے سارتر، اسٹرانڈبرگ سے چیخوف، اونیل سے ٹینیسی ولیمز اور بریخت سے بیکٹ تک، ڈرامائی تضاد نے مکالمے کی مدد سے تمدن کے ارتقا کی چتر کاری کی ہے۔ بھرے ہیں یہاں چار سمتوں سے دریا۔

قلیل خمری کی اردو پویا چلتی تھی۔ فکر کا سوتا پشتوں سے خشک تھا۔ شعر کا خانہ خالی تھا۔ یہ بھی اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔ کہیں پر چند اشعار نقل کیے تھے۔ شعر فہمی عالم بالا معلوم شد۔ انگریزی سیکھنے میں محنت شاقہ کا اعتراف فرماتے تھے لیکن فرنگی زبان میں اظہار چار حرفی لفظوں تک محدود تھا۔ پیرایہ بیان سے مکتب کی کرامات صاف جھلکتی تھیں۔ مذہبی لغت کے بغیر نوالہ نہیں توڑتے تھے۔ رزق کی دوسری صورتوں میں البتہ اس پابندی کا التزام نہیں رکھتے تھے۔

مطالعے سے اس درجہ بے نیاز تھے کہ تلمیذ الرحمن کا درجہ خود سے فروتر پاتے تھے۔ ارشاد تھا کہ ادب براہ راست ان کے فرق عالیہ پہ اترتا ہے۔ کاسہ بالا خالی تھا چنانچہ ادب نطق اور قلم کو زحمت دیے بغیر گھٹنوں میں اتر آتا تھا جسے عرق النسا کا دل پذیر نام دے رکھا تھا، علم طب سے واسطہ نہ ہونے کے سبب غالباً مفہوم اور علت دونوں سے نابلد تھے۔ پاکستان میں فلمی دنیا کی یہی ریت رہی ہے۔ ایک محترمہ اس نوجوان سے شادی کی خواہشمند تھیں جو کشمیر فتح کرے گا۔

کشمیر تو فتح نہ ہوا، چتوڑ گڑھ کا قلعہ کوئی چار بار پامال ہوا۔ ایک حاجی صاحب اپنا موازنہ پیٹر او ٹول اور لارنس اولیویئر سے کیا کرتے تھے۔ پسماندگی کی لنکا میں سبھی باون گزے ہوتے ہیں۔ ہمارے ممدوح قلیل خمری کو بھی قبول عام کا ایسا ہوکا تھا کہ جب بھی نکاح (جلی و خفیف) کی منزل سے گزرے، سہ گونہ ’قبول ہے‘ کی بجائے ایجاب کی سرگم کو ایسا طول دیا کہ فریق ثانی کی غیرت کھول اٹھتی۔ قلیل خمری اپنے لئے غیرت کو زہر ہلال سمجھتے تھے، تاہم طبقہ اناث سے وفا کا تقاضا بلافصل فرماتے تھے۔

درباری فرمان اور غالب بیانیے کی اوٹ میں سستی شہرت کے طالب تھے۔ چنانچہ کم عقل پیادوں اور اختیار کے رسالے کی صحبت میں چنے کنکر سرعام رولتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ بے بھاؤ کی پڑتی تھیں۔ اہلیت کی پونجی اوچھی تھی چنانچہ اس پارہ لحمی کو وجہ افتخار سمجھتے تھے جو الطاف لحاف کے نتیجے میں دنیا کی نصف آبادی کو ودیعت ہوا ہے۔ فرق یہ کہ اہل فراست اثاث البیت کو ٹھکانے پر رکھتے ہیں، قلیل خمری نے اسے گلے میں حمائل کر رکھا تھا۔

طفلان گلی کوچہ اور زنان پردہ نشیں میں مقبولیت کے باوصف قلیل خمری دنیا سے بیزار تھے۔ دراصل کچھ موم بتی بردار عورتوں نے مرحوم کو دق کر رکھا تھا۔ دیگر خواتین سے وہ فون پر دشنام طرازی کر لیتے تھے۔ وہ اپنی طلاقت لسانی کا مظاہرہ دنیا کی ہر خاتون کے سامنے بلا مزاحمت کرنا چاہتے تھے۔ اسی ملال میں ایک روز ڈرامے کا مردہ خراب کرتے ہوئے دنیا سے پردہ فرما گئے۔ آنکھ کھلی تو اہل دانش کی مجلس سجی تھی۔ اقبال، فیض، پطرس، حسرت، رفیع پیر اور مظفر علی سید تشریف فرما تھے۔ ایک طرف سلمان تاثیر اور عاصمہ جہانگیر کچھ کاغذوں پر جھکے تھے۔ کسی غریب عورت کو غلطی سے جہنم بھیج دیا گیا تھا، مالک دو جہاں سے مرافعہ پر غور جاری تھا۔ قلیل خمری کو دیکھتے ہی عاصمہ جہانگیر نے شعلہ آسا لپک کر پوچھا، ہاں تو وہ ریپ کا کیا قصہ تھا؟ قلیل منمنائے، ’آپا میری بات کسی نے نہیں سمجھی، میرا مطلب تھا کہ ریپ گندہ کام ہے۔ اسی لیے عورت کبھی ایسا نہیں کرے گی‘ ۔

عاصمہ نے فیض صاحب کی طرف پلٹ کر کہا، ’جھوٹ بولدا اے۔ تب یہ ریپ کو وجہ برتری بتا رہا تھا۔ ‘ سلمان تاثیر نے نپے تلے لہجے میں کہا، یہ جو تم نے کہا کہ عورتوں کی اکثریت تمہیں پسند کرتی ہے تو کیا یہ عورتیں اپنے مردوں سے بے وفائی کی مرتکب ہو رہی ہیں؟ سیگرٹ کا لمبا کش لے کر مظفر علی سید نے اخبار کا تراشہ دکھایا، ’ستمبر 2014 میں تم نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی عورت میچیور نہیں۔ اگر میچیور ہے بھی تو اس کی دلچسپی بناوٹی چیزوں میں ہے۔ ‘ کیا اب ہماری عورتیں میچیور ہو گئی ہیں؟ منطق تم نے پڑھی نہیں، منیم گیری میں تعلیم پائی ہے۔ کیا عورتیں میچیور نہ ہونے کے باعث تمہارا سوانگ دیکھتی ہے۔ عورتیں اب میچیور ہو بھی گئی ہیں توپھر بھی تم بناوٹی ٹھہرتے ہو۔ ’

قلیل خمری اکیلی طاہرہ عبداللہ کی سہار نہیں رکھتا، یہاں تین تین ساونتوں سے واسطہ تھا۔ فیض نے پاس بلا کر شفقت سے کہا ’دیکھو بھائی، تم نے کسی دو رکعت کے امام سے تعلیم پائی ہے۔ عورت اور مرد میں برتری کمتری کا سوال نہیں۔ رتبے، صلاحیت اور حقوق میں دونوں برابر ہیں۔ علم اور معاش میں ارتقا کے ساتھ اقدار اور رویوں میں تبدیلی لازم ٹھہرتی ہے۔ اور ہاں یہ تم نے کیا کہا کہ تمہیں سیاست میں دلچسپی نہیں۔ سیاست کے بغیر ادب لفظوں کا بے معنی کھیل ہے۔ جاؤ کچھ پڑھا لکھا کرو۔ اور دیکھو، انکسار علم کا پہلا درجہ ہے‘ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *