اس قوم کی چیخیں نکلنی چاہییں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی سرکار نے مہنگائی کی تلوار مسلسل لٹکا رکھی ہے۔ ٹیکسز کی بھرمار ہے۔ مہنگائی نو سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ مزید اٹھارہ فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ ہوش ربا اور چشم کشا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران میں مہنگائی، بے روزگاری، افلاس اور افراط زر کے سونامی نے پاکستانیوں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی افغانستان کے جی ڈی پی سے بھی نیچے گر گیا ہے۔ 2017 میں جب ”کرپٹ اور چور“ نواز شریف کی حکومت تھی تو پاکستان معاشی حوالے سے ٹیک آف کی پوزیشن میں آ گیا تھا۔

اس وقت سٹاک مارکیٹ پانچ ہزار، ڈالر 115، پٹرول 64 روپے، شرح سود 8 فیصد، مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد پر تھی تو مقتدرہ والوں نے بھی گرتی ہوئی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا مگر آج سٹاک مارکیٹ 29 ہزار، ڈالر 155 پٹرول 120 روپے، شرح سود 12.5، افراط زر 14.6 فیصد پر آ چکی ہے مگر مجال ہے مقتدرہ والوں کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ نواز شریف کے چار سالہ دور میں 60 لاکھ لوگ خط غربت سے باہر نکل آئے تھے مگر جدید ریاست مدینہ والوں نے تقریباً ایک کروڑ عوام کو بے روز گار کر دیا ہے۔

اس ”شفاف“ اور ایک پیج والی حکومت نے پندرہ ماہ میں قرضوں میں گیارہ ہزار 610 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے۔ 30 ستمبر 2019 تک مجموعے قرضے 41 ہزار 489 ارب روپے ہو گئے ہیں جو جی ڈی پی کا 93.3 فیصد ہیں۔ سالانہ 8 ارب ڈالرز ٹیکس اکٹھا کرنے والوں کے دعویداروں کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں 104 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ گردشی قرضے 1660 ارب روپے ہو گئے ہیں۔

آج محاورتاً نہیں حقیقتاً مفلوک الحال عوام زندہ درگور ہو گئے ہیں۔ آٹے اور چینی کے بحران نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین نے آنے والے ماہ و سال میں مہنگائی، گرانی، کرپشن، بے روزگاری، افراط زر، جرائم اور ہر شعبے میں ترقی و استحکام کے مایوس کن منظر نامے کا نقشہ کھینچا ہے۔ ایک سال کے دوران میں بجلی 14 فیصد، گیس 54.84 فیصد، چینی 26 فیصد، سبزیاں 94 فیصد، گندم 36 فیصد، ٹماٹر 157 فیصد، پیاز 125 فیصد، دال مونگ 80 فیصد فیول 26 فیصد، کپڑے 13.75 فیصد، صحت کی سہو لیات 11.80 فیصد اور دوائیوں کی قیمت میں 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

اس حکومت میں ہر طرح کے جرائم میں ہو ش ربا اضافہ ہو چکا ہے خاص طور پر بچوں سے جنسی زیادتی اور بد فعلی کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ اضافہ اس صوبے میں زیادہ دیکھنے میں آیا جسے ایک پیج والی حکومت نے ریاست مدینہ کے حوالے سے ماڈل بنانا تھا۔ آٹے اور چینی کے بحران کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی سربراہی جہانگیر ترین اور خسرو بختیار جیسے لوگوں کو دی گئی ہے جو خود اس بحران کے ذمہ دار قرار دیے جا رہے ہیں۔ کپتان صاحب اور ان کے حوار ی حسب سابق مجموعی تنزل کی ذمہ داری مافیاز پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو گئے ہیں۔

حالت یہ ہے کہ کہیں سے کوئی اچھی خبر آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ آٹو انڈسٹری سمیت ہر طرح کی صنعت رو بہ زوال ہے۔ لوگ عمران کو ووٹ دینے کے فیصلے پر سخت پچھتا رہے ہیں۔ امپورٹڈ ماہرین معاشیات اور بینکار مایوس ہو کر واپس جار ہے ہیں۔

ایک دن مہنگائی سے تنگ ایک معمر خاتون براہ راست جنرل باجوہ سے فریاد کناں تھی کہ خدارا ہمیں اس ظالم، نا اہل اور جابر حکومت کی سفاکیوں سے بچائیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سمیت طرح طرح کے مسائل سے دوچار عوام کی آہ و بکا اور فریاد و فغاں دیکھ کر کہتا ہوں کہ ان کے ساتھ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے اور ان کی اور بھی چیخیں نکلنی چاہییں۔ اس لیے کہ جب نواز شریف کی حکومت کے خلاف لندن پلان بن رہا تھا تو یہ عوام خاموش تھے۔

جب دھرنوں کے دوران شر پسند عناصر پارلیمنٹ ہاٶس، پی ٹی وی اور تھانوں پر ہلہ بول رہے تھے تو یہ لوگ تالیاں پیٹ رہے تھے۔ جب ڈی چوک میں تبدیلی کے نام پر بد تہذیبی اور طوفان بدتمیزی مچایا جارہا تھا تو یہ عوام خوشی سے جھوم رہے تھے۔ جب مقتدرہ کی آشیر باد سے مذہب کے نام پر دھرنوں کی ڈرامے بازی ہو رہی تھی تو یہ عوام واہ واہ کر رہے تھے۔ جب کے پی کے سے ڈنڈا بردار فسادی مرکز پر حملہ آور ہو رہے تھے تو یہ عوام ٹی وی پر تماشا دیکھ رہے تھے۔

جب پانامہ کے نام پر نواز شریف کو اقامے پر سازش کے ذریعے معذول کیا جا رہا تھا تو یہ لوگ کرپٹ کرپٹ اور چور چور کے نعرے لگا رہے تھے۔ جب نواز شریف جی ٹی روڈ پر تبدیلی ڈرامے کے حقیقی کرداروں کو للکار رہے تھے تو یہ عوام انہیں غدار اور ملک دشمن کہہ رہے تھے۔ جب ہماری عدالتیں نواز فیملی کے کیسز میں انہونی عدالتی نظیریر یں اپنا رہی تھیں تو یہ لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ جب ن لیگ کے ایم اینیز اور ایم پی ایز کو چن چن کر نا اہل کیا جارہا تھا تو یہ عوام جشن منارہے تھے۔

جب شاہد خاقان عباسی، خواجہ برادران، حنیف عباسی اور احسن اقبال سمیت ن لیگ کے تقریباً ڈھائی سو قائدین پر دباٶ اور سازش کے تحت مقدمے بنا کر انہیں جیلوں میں ٹھونسا جا رہا تھا تو یہ لوگ خوشیاں منا رہے تھے۔ جب نواز شریف کو کال کوٹھڑی میں قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو یہ عوام ہلکا سا احتجاج بھی نہیں کر سکے۔ جب نواز شریف اپنی جاں بلب اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جمہوریت کی بازیابی اور سول بالا دستی کی جنگ لڑنے پاکستان پہنچے تھے تو یہ عوام مہر بلب تھے۔ جب جاں بلب نواز شریف علاج معالجے کے لیے عدالت سے اجازت لے کر لندن جا رہے تھے تو یہ عوام انہیں طعنے دے رہے تھے کہ جمہوریت کی جنگ میں شہید کیوں نہیں ہو رہا ہے؟

یہ بے حس عوام آج بھی پتھر کے بت بنے سی پیک کے خاتمے پر، ہوش ربا مہنگائی پر، قیامت خیز بے روزگاری پر، گرتی ہوئی معیشت پر، سسکتی ہوئی جمہوریت پر، نیب کی انتقامی کارروائیوں پر، حکومت کی ہمہ گیر نا اہلی پر، وزیر وزیراعظم اور تبدیلی سرکار کے وزرا کی نمک پاشی پر، کشمیر کی سودے بازی پر، کپتان کی وعدہ شکنی پر اور انتظامی و سیاسی بے تدبیری پر ساکت و جامد ہیں۔ جہاں ظلم و جبر کے خلاف جوشیلی صدائیں نہیں نکلتیں وہاں ہونٹوں سے چیخیں ہی نکلتی ہیں۔

جہاں بے بس کے لبوں سے دعا نہ نکلے وہاں چیخیں ہی نکلا کرتی ہیں۔ جہاں ریاست کے مظالم کے خلاف آہ تک نہ نکلے وہاں چیخیں ہی نکلا کرتی ہیں۔ جہاں ظالموں کے خلاف فریاد نہ نکلے وہاں چیخیں ہی نکلتی ہیں۔ جہاں نا دیدہ آمریت کی پچھل پائی کے اندھے ناچ کے سامنے جلوس نہ نکلیں وہاں چیخیں ہی نکلتی ہیں۔ ہماری چیخیں نکلنی چاہییں کیونکہ

وعدہٕ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

خاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم

یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے ہوئے کھڑے ہیں

جیسے دیوار میں چُنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *