کیا طلاق یافتہ خواتین یا اکیلی ماؤں کو خوش ہونے کا حق نہیں؟


آئیے دیکھتے ہیں کیا قران بھی عورت کی مالی خود مختاری کے خلاف ہے؟ ہم میں سے بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو گی کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے ساتویں صدی میں خواتین کو باقاعدہ قانونی طور پر مالی خود مختاری دی ورنہ سترہویں اٹھارویں صدی سے قبل مغربی عورت مالی معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اسے بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کا اختیار نہیں تھا یہاں تک کہ شادی پر والدین کی طرف سے ملنے والے جہیز تک پر اسے تصرف حاصل نہیں تھا۔

انیسویں صدی میں نیو یارک کی ایک عدالت میں قانونی طور پر عورت کو یہ حق عطا کیا کہ والدین کی طرف سے شادی پر ملنے والے مال پر اسے تصرف کی آزادی ہے کیونکہ وہ اس کے شوہر کی ملکیت نہیں۔ اس کے برعکس آج کی مسلمان عورت یہ نہیں جانتی کہ اسلام ساتویں صدی میں عورت کو اس کے مال کا مالک بنایا ہے جسے معاشرتی اسٹیریو ٹائپس اور تصورات آج بھی تسلیم کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ اسلام نے ساتویں صدی میں عورت کو وراثت میں حصہ دیا، نکاح کی صورت میں مہر جس کی کوئی کم سے کم مقدار مقرر نہیں کی گئی اور نہ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد، نان نفقہ یعنی معروف کے مطابق کھانا پینا اور کپڑے جو شوہر کی مالی حیثیت کے مطابق ہوں اور جیسا وہ خود استعمال کرتا ہو، طلاق کی صورت میں عدت کے یا شیر خوارگی کے دوران نان نفقہ اور دودھ پلانے کا معاوضہ۔

اس کے علاوہ اگر وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے بعد شوہر کی اجازت کے بعد کمانا چاہے تو اس کی ذاتی آمدنی پر بھی اس کا حق ہے جیسے چاہے اسے خرچ کرنا چاہے۔ اسی مالی خود مختاری کے بعد قران کہتا ہے کہ اگر اسے اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو اور وہ اس رشتے میں نہ رہنا چاہے تو وہ مال دے کر شوہرسے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ یاد رہے یہ اجازت قران خود دے رہا ہے۔ مذکورہ بحث کے دوران سورہ بقرہ آیت نمبر 229 میں خالق کائنات فرماتا ہے کہ اگر فریقین کے اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ”عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے“ پوری آیات مندرجہ ذیل ہے :

”طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں“
(QS. Al-Baqarah 2: Verse 229)

”لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہو جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے“
(QS. An-Nisa’ 4: Verse 130)

یعنی کسی طرح عورت کو مالی خود مختاری نہ دو۔ یعنی قران نہ صرف مالی خود مختاری دیتا ہے بلکہ یہ مشورہ بھی دیتا ہے کہ تم نا گزیر حالات میں یہ مال اپنے شوہر کو علیحدگی پر راضی کرنے کے لئے استعمال کر سکتی ہو۔

Happily Divorced

اس حوالے سے ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرہ ان خواتین کو اس اظہار کی اجازت دینے پر راضی نہیں کہ وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ شوہر کے نہ ہونے سے بہت سی خواتین مالی اور دیگر مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔ لیکن بہت سی تکلیف دہ رشتے کے ختم ہونے پر شکر کا سانس بھی لیتی ہیں جو انہیں مسلسل اذیت پہنچا رہا تھا۔ ایسے میں اگر وہ اپنی زندگی کی ایک نئے عزم کے ساتھ نئے سرے سے تعمیر کرنا چاہیں تو بھی معاشرہ انہیں با عزت مقام دینے کے لئے کم ہی راضی ہوتا ہے۔

Happily Divorced کا نعرہ ہمارے ہاں ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اسے پاکستانی یا اسلامی معاشرے کے خاندانی اسٹرکچر کو تباہ کرنے کی سازش سمجھا جاتا ہے۔

طلاق کی وجہ جاننے کے لئے تجسس اور غیبت

ہمارا مذہب بعض مخصوص حدود لاگو کر کہ فرد کی آزادی کا علم بردار ہے اور اسی لئے تجسس اور غیبت کی ممانعت کا حکم ہے۔ کسی کے پرائیویٹ معاملات میں بلا سبب داخل دینا اس واضح قرانی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اسلامی کہلانے والے مسلمانوں پر مشتمل اس معاشرے میں اس حوالے سے اقدار نہ ہونے کے برابر ہیں۔

چند سال پیشتر ایک نوجوان عزیزہ کو کسی وجہ سے دو بچوں کے ساتھ طلاق کے تکلیف دہ تجربے سے گزرنا پڑا۔ کچھ عرصے بعد ان کی ایک اور قریبی عزیزہ نے مجھ سے ایک دور دراز ذریعے سے طلاق کا سبب دریافت کرنے کی درخواست کی۔ میرا یہ کہنا تھا کہ اس معاملے میں تجسس مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں تجسس اس لئے ہے کہ مذکورہ طلاق یافتہ عزیزہ ان سے بہت قریب ہیں۔ اس پر میرا مشورہ یہ تھا کہ پھرآپ براہ راست ان سے استفسار کر سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ”وہ جو وجہ طلاق کی بتا رہی ہیں وہ تو قابل یقین نہیں۔ ایسا لگتا ہے وہ اصل بات بتانا نہیں چاہتیں۔ “ اب اس جگہ آ کر بریک لگانے پڑتے ہیں کہ جب پڑھی لکھی دین دار عالمہ کہلانے والی خاتون کو اسلام کے پرائیویسی کے تصور کا شعور نہ ہو۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ان سے صرف اتنا عرض کیا کہ اگر مذکورہ واقعہ میرے یا آپ کے ساتھ پیش آتا تو کیا ہم یہ پسند کرتے کہ ہم جو بات ہم خود لوگوں کو بتانا نہیں چاہتے وہ لوگ دوسرے ذریعوں سے معلوم کر کے ہمارے متعلق باتیں کریں؟ یہ قران کے اس حکم کے خلاف ہے کہ ”تجسسس نہ کرو۔ “ دین پسند عالمہ خاتون اس پر بھی قائل نہ ہوئیں۔

تجسس ہی کی طرح غیبت کی بھی ممانعت آئی ہے اور اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہہ دی گئی ہے جو ظاہر ہے بہت قبیح عمل معلوم ہوتا ہے۔ غیبت بھی دراصل انسان کی پرائیویسی پر براہ راست حملہ ہے اور فرد کی آزادی کو محدود کرتی ہے۔ غیبت کے بارے میں یہ بات یاد رہے کہ یہ کسی پر جھوٹا الزام لگانا نہیں ہے بلکہ کسی کے بارے میں اس معلومات کا اسے پھیلانا ( کسی تیسرے فرد کو بتانا بھی پھیلانے میں آتا ہے ) ہے جسے وہ پبلک کرنا نہ چاہتا ہو۔

اگر طلاق یافتہ مرد یا عورت طلاق کے بعد اپنے ذاتی جھگڑوں یا اختلافات یا بصورت دیگر طلاق کی وجوہات کو بلا سبب پبلک کرنا نہ چاہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ شریعت کے مطابق بغیر کسی واضح سبب کے ( دوسرا رشتہ حاصل کرنے کے لئے فریقین کو بتانا بعض اوقات ضروری ہو جاتا ہے اگر وہ جاننا چاہیں ) کسی کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بنیادی نکتے کا شعور ہمارے معاشرے بلکہ اسلام پسند طبقات میں بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہم اسلامی نظام کا مطالبہ کرنے والے آج تک وزیراعظم عمران خان کی تیسری شادی اور ان کی منکوحہ کی طلاق کے اسباب کے بارے میں پرتجسس ہیں۔ اکثر آپس کی بات چیت اور سوشل میڈیا پر اسے کسی غیر اسلامی عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی ذہن رکھنے والے اسلامسٹوں کے لئے یہ امر قابل غور ہے کہ اس میں تجسس، غیبت، الزام تراشی تینوں آ جاتے ہیں۔

طلاق کو کلنک کا ٹیکا بنانے کا نقصان

اس معاملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں طلاق کو لڑکی اور اس کے خاندان کے لئے ایک کلنک کا ٹیکا سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیاں ہر طرح کا ظلم و ستم برداشت کرتی ہیں لیکن وہ اور ان کے گھر والے معاشرے کے طعنوں کے ڈر اس آپشن پر راضی نہیں ہوتے۔ اور اس طرح اس کلنک کے ٹیکے سے ڈرا کر ہمیشہ نہیں مگر بعض گھرانوں میں عورت کو ہر طرح سے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ بلکہ طلاق کو کلنک کا ٹیکا بنا کر ہم اس کے شوہر اور سسرال والوں کو اس پر ہر ظلم روارکھنے کی اجازت دی دیتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


صفحات: 1 2 3 4

تزئین حسن

تزئین حسن نے ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے حال ہی میں صحافت میں ماسٹرز مکمل کیا ہے اور واشنگٹن کے ایک انسانی حقوق کے ادارے کے ساتھ بہ حیثیت محقق وابستہ ہیں۔ ان کے مضامین جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور نارتھ امریکا میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

tazeen-hasan has 6 posts and counting.See all posts by tazeen-hasan