اہل چین کا متنوع دستر خوان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کروونا وائرس کی وبا نے ہمسایہ ملک چین کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے چینی باشندوں کی خوراک بارے انواع و اقسام کی کہانیاں اور ویڈیوز منظر عام پر آرہی ہیں۔ کچھ لوگ وائرس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ چمگاڈر کے سوپ کو قرار دے رہے ہیں تو کچھ دوست رزق حرام سے کروونا وائرس کا تعلق جوڑ رہے ہیں بلکہ کشید کر رہے ہیں۔ الغرض تجسس بڑھتا جاتا ہے۔ سائنسدان ابھی کوئی واضح ماخذ نہیں ڈھونڈ سکے لیکن ہمارے ہاں کے دیسی سائنسدان چمگاڈر کے حق میں حتمی فیصلہ صادر فرما چکے ہیں۔

میں نے سنا ہے کہ چین کے لوگ ہر جاندار چیز کھاتے ہیں؟ جیسے ہی میں نے یہ سوال داغا میرے ساتھی گاؤ رن فے (چینی نام) کے چہرے پر ناگواری کے آثار واضح ہو نے لگے۔ ایک پاتھی کے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسے مناسب نہیں لگے۔ پاتھیا چین میں بولی جانے والی ایک ایسی ٹرم ہے جو کہ صرف پاکستانی لوگوں کے لیے خاص ہے۔ جس کا چینی لوگوں کے مطابق مطلب اسٹیل جیسا مضبوط یا قابل بھروسا دوست ہے۔ جب کہ ایک پاکستانی کے لئے اس کا مطلب ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری دوستی لیا جا سکتاہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو چین میں ہم پاکستانیوں کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔

گاؤ رن فے کچھ سوچ کر بولتا ہے کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں آپ کو کبھی بھی نہیں کھاؤں گا۔ مجھے اپنی حماقت کا احساس ستانے لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ بولنے لگا۔ کیا تم نے مجھے کبھی چوہے کا باربی کیو کھاتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے مجھے کبھی کتا، بلی یا بندر کھاتے دیکھا ہے؟ میرا جواب نہیں میں تھا۔ اس کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا۔ اب مجھے شرمندگی اور ندامت کا احساس ستائے جا رہا تھا۔ کیوں کہ ایک بات واضح ہو چکی تھی کہ میرا سوال چین کے لوگوں کے لیے نامناسب تھا۔

لیکن میرا تجسس پہلے سے بھی بڑھ چکا تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ چین میں وہ کون لوگ ہیں جو ہر جاندار چیز کھا جاتے ہیں؟ کیا بندر کا دماغ اور شیر کے کچھ مخصوص حصوں کا گوشت کھانے والے لوگ چین میں ہی پائے جاتے ہیں؟ کیا سانپ کا اور چوہوں کاگوشت چین میں کھایا جاتا ہے؟ کیا سو قسم کے حشرات پہ مشتمل ایک خاص ڈش بھی یہیں تیا ر کی جاتی ہے؟ کیا لونگ کھو فن نامی ڈش جو کہ سانپ، بلی اور چکن پر مشتمل ہوتی ہے وہ یہاں کے لوگ استعمال نہیں کرتے؟

اور جستجو کا ماد ہ حقائق جانچنے کے لئے میرا راہنما تھا۔ یورک شو جو کہ پیشے کے حساب سے ایک ماہر تعمیرات ہیں یہی سوال جب کچھ عرصہ پہلے ان کے سامنے رکھا گیا تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ کیا چین براعظم افریقہ میں ہے؟ جہاں شیر کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اور آپ جانتے ہیں ہم چڑیا گھڑوں کے پنجروں میں مقید شیروں کو عضو خاص حاصل کرنے کے لئے مار نہیں سکتے۔ اسی طرع بہت سے لوگ اس بات کو تسلیم کرتے نظر نہیں آتے کہ چین کے لوگ زندہ جانوروں کو بھی کھاتے ہیں۔

اس بارے وانگ فرماتے ہیں کہ ہمیں ناراض ہونے کی ضرورت نہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہم چینی لوگ بہت سی وہ چیزیں کھاتے ہیں جو کہ دوسرے لوگ نہیں کھاتے۔ ہم لوگ کچھ بھی ضائع کرنا اچھا خیال نہیں کرتے اس لیے ہر وہ چیز جو کھانے کے قابل ہے اور کوئی افادیت رکھتی ہے ہم کھاتے ہیں اور یہ عادت قابل مذمت نہیں بلکہ قابل تعریف ہے۔ دوسرا یہ کہ چین کے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ خاص اعضا ء کے استعمال ان کے انہی اعضا ء کو تقویت ملے گی۔

آپ اسے علاج بالغذا بھی کہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر روایتی طور پر بہت سے حکیم حضرات بچھو، سانپ اور دیگر موزی حشرات کو خاص قسم کی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں تو بہت سے لوگ ان جانداروں کو کھا کر علاج بالغذا کرتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار میرے امی نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ اسی طرح سی نی ٓان، ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین ایک بہت بڑا ملک ہے۔ مثال کے طور پہ کچھ لوگ سو حشرات والی ڈش پسند کرتے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کتنے فیصد ہو ں گے؟

کیا ڈیڑ ہ ارب آبادی والے ملک میں چند ہزار یا لاکھ لوگوں کی پسند کو کسی بھی قوم کی مشترکہ خوراک قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ کچھ ایسے صوبے یا شہر ہیں جہاں کہ لوگ کچھ ہٹ کے یا عجیب چیزوں کوکھانا پسند کرتے ہیں۔ آپ گوان ڈونگ کی مثال لیجیے جو کہ چین کے جنوب میں واقع ہے اور یہاں کے لوگوں کی اکثریت کنٹونیز کہلاتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی روزمرہ خوراک کسی بھی طرح سے عام چینی کی خوراک سے ہٹ کر نہیں لیکن پھر بھی یہاں کے لوگ کچھ ہٹ کر کھانا جانتے ہیں۔

آپ کو یہاں پر مینڈک، مگر مچھ، کچھوہ اور سانپ کا گوشت آسانی سے دستیاب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ کیڑے مکوڑے یا دیگر حشرات الارض کھانا چاہتے ہیں تو ان تک رسائی بھی آسان ہے۔ آپ گدھے، ہرن، گھوڑے، سور، بھیڑ، بکری، کتے، بلی یا چوہے کا گوشت بھی آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کبوتر، الو، چکن اور بطخ و غیرہ بھی مل جاتا ہے۔ اسی طرح جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے الو کا سوپ صرف آج تک ایک ہی بار استعمال کیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے کبھی دوبارہ یہ موقع مل سکتا ہے یا نہیں کیوں کہ الو ایک نایا ب جانور ہے اور حقیقتاً مجھے وہ سوپ کو ئی زیادہ اچھا بھی نہیں لگا تھا۔

مزید یہ کہ کچھ لوگوں کی سوچ عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے میں آپ کو ایک اپنے قریبی عزیز کا واقعہ سناتا ہوں جن کے گھر ایک بہت ہی پیارا کتا تھا۔ جو کہ بہت سالوں تک اس گھر کی رکھوالی کرتا رہا۔ جب یہ کتا مر گیا تو میرے عزیز اس کتے کو قریبی دیہاتیوں کو دے آئے جنہوں نے اسے خوب مزے سے کھایا۔ اور میرے پوچھنے پر بتانے لگے اگر میں اس کتے کو دفنا دیتا تو شاید یہ کوئی کام نہ آتا۔ اب کم از کم جو لوگ کتے کا گوشت استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے تو مزے سے کھا لیا۔

اسی اثناء میں میری ملاقات ایک دن لن ہائے سے ہوئی۔ لن ہائے ایک پینتیس سالہ جوان شخص ہے کافی عرصہ سنگا پور میں رہ چکا ہے۔ اس کو انگلش زبان پہ بھی کافی عبور حاصل ہے۔ آج کل وہ ایک سوپر اسٹور چلاتا ہے۔ تین چار ملاقاتوں کے بعد ایک دن ڈرتے ڈرتے چینی لوگوں کی خوراک کے بارے میں نے سوال داغ دیا۔ لیکن اب کی بار رد عمل مختلف تھا۔ وہ حیران تھا لیکن پرجوش بھی، اور وہ مجھے بتا رہا تھا کہ چین ہمیشہ سے ایک بڑی سلطنت رہا ہے۔

یہاں کے لوگ بہت متنوع خوراک رکھتے ہیں۔ یہاں کے لوگ کھانوں میں مصالحی جات سے لے کر ان کے طبی فوائد تک ہر چیز کو متوازن رکھتے ہیں۔ اگر شمال کے لوگ گندم کی سویاں کھاتے ہیں تو جنوب والے چاول کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔ ہم چینی لوگ ہر وہ چیز کھاتے ہیں جو کہ حرکت کرتی ہے میں جانتا ہوں بہت سے لوگ اسے اچھا خیال نہیں کرتے لیکن اسی طرح جب لوگ کچھ چیزیں استعمال نہیں کرتے تو ہم بھی اسے اچھا خیال نہیں کرتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *