مشرق وسطیٰ میں صنعتی انقلاب کا آغاز


ورلڈ اکنامک فورم کا مشرق وسطیٰ سمٹ پہلی مرتبہ سعودی عرب میں منعقد ہوگا جس میں دنیا بھر سے رہنما شرکت کریں گے۔ اس امر کا اعلان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اعلان کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورگ برینڈے کے مطابق رواں برس اپریل میں سمٹ کا انعقاد کیا جائے گا، سمٹ کا موضوع ”چوتھے صنعتی انقلاب میں اس خطے کا مقام“ تجویز کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ورلڈ اکنامک فورم کی میزبانی مصر، ایران اور متحدہ عرب امارات کرچکے ہیں۔

یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ رواں برس نومبر میں عالمی رہنماؤں کا جی 20 اجلاس کی میزبانی بھی سعودی عرب کرے گا۔ سعودی عرب نے قدامت پسندی کے خاتمے سے جدید اصلاحات کا سفر تیزی شروع کیا ہوا ہے۔ وژن 2030 سعودی حکومت کا ایک ایسا منصوبہ ہے جو تیل پر انحصار کم کرے گا۔ وژن 2030 کے تحت 80 کے قریب اہم و بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، ان منصوبوں میں بحیرہ احمر پر شاہ عبداللہ بندرگاہ کی تعمیر قابل ذکر ہے۔ سعودی عرب 2016 میں اپنے اس عظیم منصوبے پر عمل کرنا شروع کرچکا ہے تاہم سعودی حکومت کو خطے میں منصوبے کے ساتھ ہی کئی مسائل کا سامنا ہوا، خاص طور پر ایران اور یمن میں حوثی باغیوں کی وجہ سے سعودی عرب کی توجہ کا زیادہ حصہ صَرف ہورہا ہے، سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی خانہ جنگیوں و جنگ سے براہ راست متاثر ہونے لگا، یہاں تک کہ کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے ایران و سعودی حکومت کے درمیان براہ راست جنگ کے خطرات پیدا ہوئے۔

2015 میں جی سی سی اجلاس میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے واضح کیا تھا کہ سعودی عرب، ایران سے نارمل تعلقات چاہتا ہے۔ گذشتہ دنوں سعودی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے کبھی میزائلوں اور شدت پسندوں کے ذریعے ایران کو ٹارگٹ نہیں کیا اس لیے ایران بھی ایسا کرنا بند کرے۔ مسئلہ فلسطین کے بارے میں بات کرتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب مسئلے کے ’دو ریاستی‘ فارمولے کے تحت حل کرنے پر قائم ہے۔

ہنگری کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ایران کے لوگ تاریخی طور پر معتدل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندی سعودی عرب کی خواہشات پر نہیں بلکہ خطے میں اس (ایران) کے رویے کی وجہ سے لگی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب یمن میں جنگ نہیں چاہتا بلکہ اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران نے ہی خطے میں گرما گرمی کا آغاز کیا۔

ایران کو اپنے عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا پڑے گی۔ عادل الجبیر نے سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کو عراق کے اندرونی امور میں مداخلت پر تشویش ہے۔ ان کے مطابق ’سعودی عرب عراق پر بہت توجہ دے رہا ہے۔ یہ ہمارابرادر ملک ہے۔ اسے مدد اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔

‘ ورلڈ اکنامک فورم کا سعودی عرب میں انعقاد مشرق وسطیٰ میں امن و امان کے قیام کے لئے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں عالمی قوتوں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی سے خطے میں جاری جنگ و خانہ جنگی پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، سعودی عرب اس وقت اہم عالمی قوتوں کے ساتھ وژن 2030 میں اہم شراکت دار کے طور پر اپنی نئی اسٹریٹجک پالیسی کے ساتھ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خاص طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی قوانین و اصلاحات میں جدیدیت کے لئے کئی ایسے اقدامات اٹھائے، جس سے پوری دنیا میں سعودی عرب میں قدامت پسندی کے بارے میں رائے تبدیل ہوئی۔

کئی ایسے میگا ایونٹس منعقد ہوئے، جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، اسی طرح خواتین کو شخصی آزادی سمیت نئے وژن کی جانب سعودی عرب کا ایک نیا تشخص سرمایہ کار ممالک و اداروں کے لئے پُرکشش ملک کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ گو کہ بعض ممالک کی جانب سے سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دلدل میں دھکیلنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن سعودی عرب تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ایسی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کررہا ہے جس سے اس کی معاشی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔

سعودی عرب کا معاشی انحصار حج، عمرے کے علاوہ تیل مصنوعات پر ہے۔ تاہم سعوی ولی عہد کے تاریخی فیصلوں میں سعودی عرب میں سیاحتی مقامات کو بھی سرفہرست رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے غیر ملکی سیاحوں کو سیاحتی ویزے دینا ایک اہم اقدام ہے، گذشتہ برس 27 ستمبر کو سعودی حکام نے سیاحتی ویزہ پالیسی کا اعلان کا تھا، اعلان ہوتے ہی صرف 10 دن کے اندر 24 ہزار غیر ملکی سیاحوں نے سعودی عرب کی سرزمین پر پہلی مرتبہ قدم رکھا۔

سعودی عرب حج، عمرہ اور سفارتی معاملات کے لئے ہی ویزہ جاری کرتے تھے تاہم سعودی ولی عہد نے سیاحت کے لئے سعودی عرب کے تاریخی مقام دنیا کے لئے کھول دیے، جس کے بعد سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سیاحت میں بھی سعودی وژن نے پذیرائی حاصل کی ہے۔ سعودی عرب، اس وقت مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہے، تاہم بیرونی مداخلت کاروں کی وجہ سے سرزمین حجاز کے تحفظ کے لئے مسلم اکثریتی ممالک کا عزم سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

سعودی عرب کے جدیدیت پر کئی حلقوں نے جہاں سعودی پالیسیوں کی حمایت کی ہے وہاں قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے، لیکن یہ امر طے ہے کہ سعودی عرب کو جدید سعودی عرب کو نئے عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں جو سعودی عرب کے مستقبل کو محفو ظ بنا سکے، جنگ، کسی بھی ملک کے لئے معاشی تباہی لاتی ہے اور ملکی وسائل اُن جگہوں کو خرچ ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جو کسی بھی ملک کی معیشت پر بارِ گراں ہوتے ہیں۔

سعودی عرب نے اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے امریکا، روس اور کئی مغربی ممالک سے دفاعی نوعیت کے مہنگے ترین معاہدے کیے ہیں، اسی طرح خود کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے کے کئی مرحلوں پر عمل کررہا ہے، حال ہی میں سعودی وزارت دفاع نے فرانس کی تیار کردہ (HSI 32 ) تیز رفتار جنگی کشتیوں کی پہلی کھیپ وصول کی۔ مملکت کے صوبے الشرقیہ میں پہنچنے والی یہ کھیپ عسکری تعاون اور صنعت کے شعبے میں سعودی عرب اور فرانس کے مشترکہ تعاون کے سلسلے کی کڑی ہے۔

فرانسیسی کمپنی (CMN) کے ساتھ طے پائے گئے سمجھوتے میں (HSI 32 ) نوعیت کی تیز رفتار جنگی کشتیوں کی تیاری اور برآمد شامل ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پروگرام کے ضمن میں ان کشتیوں کا کچھ حصہ فرانس میں اور کچھ حصہ مملکت میں تیار ہو گا۔ مذکورہ کشتیوں کو دنیا کی جدید ترین جنگی کشتیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ انتہائی اعلی درجے کی صلاحیتوں کی حامل ہیں۔ بقیہ جنگی کشتیاں آئندہ چند ماہ کے دوران مملکت پہنچ جائیں گی۔

یہ جدید ترین جنگی کشتیاں خطے میں سمندری امن کو مضبوط بنانے اور حربی استعداد کی سطح کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ سعودی عرب کا ورلڈ اکنامک فورم و جی 20 کی میزبانی کرنا ایک اہم معاشی ضرورت میں اصلاحات کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے کہ کسی بھی مملکت کو، اپنے کسی ایک قدرتی وسائل پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق خود کو جدید ٹیکنالوجی میں ڈھالنے کے لئے تیار رہنا چاہے۔

اس وقت دنیا میں وہی ممالک عالمی سطح پر اثر و نفوذ رکھتے ہیں جو عالمی معاشی پالیسیوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہوں اور عسکری چیلنجز کا بھی سامنا کرسکیں، سعودی عرب، مسلم اکثریتی ممالک میں ایک اہم و ممتاز مقام رکھتا ہے، مسلم امہ کی والہانہ و مذہبی وابستگی سرزمین حجاز کے ساتھ کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے، سرزمین حجاز کے خلاف کسی بھی ملک کی سازشوں پر ملت اسلامیہ کی بے چینی و اضطراب، ایسی تمام قوتوں کو باور کراتا ہے کہ سرزمین حجاز مسلم امہ کے لئے ایک مقدس ترین مقام ہے، اس لئے تمام فروعی اختلافات کو ایک گوشے میں رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے مسلم امہ کو فائدہ نہیں نقصان پہنچتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments