زندگی وبا سے خائف ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اتنی صبح کبھی نہیں لکھا شاید جتنی جلد آج اور ہاں اب تو لکھنا بھی کہنا غلط ہے ٹائپ کرنا یا سوچ کو کمپوز کرنا کہنا چاہیے۔ سردی نے ماند کیا ہوا ہے۔ قصبے میں اپنے گھر میں رہتے ہوئے اکتایا ہوا ہوں مگر کہیں جانے کو جی بھی نہیں کرتا۔ کہیں جا کے کرنا بھی کیا؟

ہمارا یہ گھر تین مکانوں اور چار صحنوں پرمشتمل ہے۔ ایک صحن گھر کے بالکل عقب میں درختوں پودوں سے بھرا ہوا جسے میں پرانی زبان کے مطابق پائیں باغ کہتا ہوں گرچہ وہ باغ ہے ہی نہیں۔ ایک صحن اس گھر کا ہے جو سب سے پہلے ہمارا تھا، جڑے ہوئے دو چھوٹے گھر بعد میں ہوئی نیلامیوں میں خریدے گئے تھے۔ اب ان میں سے کوئی گھر ویسا نہیں جیسے ہوا کرتا تھا اگرچہ میرے قدامت پسند بڑے بھائی نے ان کی ہئیت کو کم و بیش قائم رکھنے کی سعی ضرور کی تھی جب ان کچے مکانوں کو تیس پینتیس برس بیشتر ”پکی حویلی“ میں تبدیل کیا گیا تھا۔

تو جس صحن کے ایک جانب کے کمرے میں میں ہوں جس سے نکل کر سامنے کے کمروں ‌تک پہنچنے کی خاطر چالیس قدم چلنا پڑتا ہے، اس کے آگے کے برآمدے میں کہیں ڈیڑھ فٹ تو کہیں تین فٹ چوڑائی کا آدھ انچ اونچا گندا پانی کھڑا ہے۔ اگرچہ غسل خانے اور کھرے سے نکلنے والی نالی کو آخر میں مضبوطی سے بند کیا گیا ہے تاکہ گلیوں میں کئی روز سے جامد بدرو کا پانی گھر میں نہ گھس آئے۔ نالیاں وہی ہیں جو 1958 میں بنائی گئی تھیں جبکہ شہر کی آبادی دسیوں گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ شاپنگ بیگ کی وبا بعد میں شروع ہوئی تھی اور انہیں یونہی نالیوں میں پھینک دینے کا چلن ہر اس قصبے اور بڑے شہر میں عام ہے جہاں کی آبادیوں میں شرح پیدائش بڑھنے اور لوگوں کے دیہاتوں سے شہروں میں منتقلی کے سبب اضافہ ہوا ہے۔

سڑکیں بعد میں بنیں اور اتنی اونچی رکھی گئی ہیں ں کہ بارش ہونے پر ہر گھر تالاب بن جائے وہ بھی بدرووں کے گندے پانی اور بیشتر اوقات ان میں بہائے گئے انسانی فضلے سمیت۔ لگتا ہے مجھے نیند اچھی نہیں آئی جو میں یہ انٹ شنٹ ٹائپ کرنے بیٹھ گیا اور کیا، نیند تو آج کم ہی کر سکا کیونکہ رات گئے ماسکو میں ایک دوست سے بہت دیر تک گپ ہوتی رہی اور مجھے ایک سوویت فلم بھی مکمل دیکھنی تھی جو میں دیکھ رہا تھا۔

سوویت فلم کا نام ہے ”ماسکو آنسووں کو نہیں مانتا“ یا ”ماسکو کا آنسوووں پر ایمان نہیں“۔ اس فلم سے متعلق بات کرنے سے پہلے، جو اصل میں مجھے کرنی تھی یہ بتاتا چلوں کی میری خود نوشت کا جو پہلا حصہ ”پریشاں سا پریشاں“ گذشتہ برس شائع ہوا تھا اس میں اپنے قصبے کا جس طرح سے میں نے ذکر کیا تھا اور اس بارے میں جس جزئیات نگاری کو وجاہت مسعود اور افتخار عارف سمیت کئی صاحب علم لوگوں نے سراہا تھا، اب میرا قصبہ ویسا رہا ہی نہیں۔ میں ایک دو بار قصبے میں گھوما۔ پہلے تو یہ کہ سارا قصبہ بازار بن چکا ہے دوسرے یہ کہ جو قدیم عماراتی نشانیاں تھیں ان میں سے بیشتر توڑ دی گئی ہیں اور کئی کی جگہ بالکل نئی عمارات بنا دی گئی ہیں۔

یہ ذکر اس لیے کرنا پڑا کہ جس فلم پر مجھے بات کرنی ہے اس کی شروعات 1958 کے ماسکو سے کی گئی ہیں اور کہانی کو غالباً 1978 تک لایا گیا ہے کیونکہ فلم 1979 میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ سوویت عہد کی ایک بہت معروف فلم ہے۔ سوویت عہد کی فلموں میں عام فلموں کی طرح بیچ میں انٹرول نہیں لکھا جاتا تھا بلکہ پارٹ ون اور پارٹ ٹو کہا جاتا تھا۔ فلم چونکہ جنگ عظیم ختم ہونے کے 13 برس بعد شروع ہوتی ہے جس دوران ملک کی لڑکیاں وہ سارے مشکل اور بھاری کام سرانجام دے رہی ہوتی ہیں جو مردوں کے تصور کیے جاتے ہیں جیسے سڑکیں تیار کرنا، بوجھ اٹھانا، عمارتیں تعمیر کرنا اور کارخانوں میں کام کرنا وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ عظیم اور بعد میں سوویت یونین کے کروڑوں، جی ہاں کروڑوں مرد مارے گئے تھے۔

فلم کے شروع ہوتے ہی جب لوگ فٹ پاتھ پہ چل رہے ہوتے ہیں تو ایک جوڑا کچھ زیادہ کنار کرتا ہے، وہی بوس و کنار والا کنار، بوس یعنی چومنے کے بغیر مطلب ہے ایک دوسرے سے چمٹتا ہے تو بازووں پر سرخ علامتی پٹیاں پہنے دو شخص ان کی جانب بڑھ کر انہیں فوراً ٹوکتے ہیں کہ ایک دوسرے کو مت چھوو۔ کیا بھول گئے ہو کہ تم عوامی مقام پہ ہو۔ اگر میں نے یہ فلم 1979 میں دیکھ لی ہوتی تو مجھے سعودی عرب کی ”مذہبی پولیس“ پر بالکل اعتراض نہ ہوتا کیونکہ معلوم ہو جاتا کہ کمیونسٹوں نے بھی ”رضاکار برائے پابندی اخلاقیات“ متعین کیے ہوئے تھے۔ میں 1979 میں خود کو کمیونسٹ اگر نہیں تو سوشلسٹ ضرور کہا کرتا تھا اور چین کی بجائے سوویت یونین کے سوشلزم کا حامی بنا ہوا تھا۔

اسی فلم میں یہ بھی دکھایا گیا کہ جہاں عام لوگ ہوسٹلوں، ایک یا دو کمروں کے کوارٹروں یا بڑی عمارت کے کمروں میں مشترکہ طور پر زندگی بسر کر رہے تھے تو اس نام نہاد غیر طبقاتی سماج میں ایک پروفیسر اس بڑی عمارت کے کئی کمروں کے مجہز اپارٹمنٹ میں رہتا تھا جہاں بڑے بڑے لوگ، جی ہاں مساوات پر مبنی کمیونزم میں بڑے بڑے سمجھے اور سمجھائے جانے والے لوگ رہا کرتے تھے۔ یوں میں اگر اس فلم کو 1979 میں دیکھ لیتا تو جارج اورویل کے ناول ”انیمل فارم“ کو انقلاب روس مخالف پروپیگنڈہ ناول تصور نہ کرتا اور یکسر مساوات پر ایمان رکھنے سے بھی تائب رہتا۔

اب ہم فلم کے آخری حصے میں آتے ہیں جب فلم کی ہیروئن بن بیاہ کے پیدا ہوئی، یہ کوئی معیوب بات نہیں تھی، بچی کو تن تنہا بڑا کرکے اور عام کارخانہ مزدور سے ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑے کارخانے کی سخت منتظم مزاج ڈائریکٹر بن جاتی ہے تو اس کی، مضافاتی ٹرین میں ایک ویلڈر سے ملاقات ہوتی ہے جو ایک ”اصل مرد“ ہے۔ تب بھی اور اب بھی روس میں اصل مرد اس کو کہتے تھے اور ہیں جو کسی بھی کام میں کسی کا یعنی عورت کا بھی محتاج نہ ہو۔ اس فلم میں ایک موقع پر اپنی دوست کی بیٹی سے وہ مرد کہتا ہے کہ آدمی کو کسی نہ کسی طرح عورت سے بالاتر ہونا چاہیے کیونکہ وہ بالآخر مرد ہے اور اس کی آمدنی اپنی عورت سے زیادہ ہی ہونی چاہیے۔

پھر ایک موقع پر جب عورت اس سے سختی کے ساتھ بات کرتی ہے تو وہ باور کراتا ہے کہ آئندہ اگر تم نے اس لہجے میں مجھ سے بات کی تو میں لوٹ کے نہیں آؤں گا، جو اس نے ایک بار کیا بھی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مجھے تم کسی کام سے نہیں روکو گی۔ میں اپنے فیصلے خود کروں گا کیونکہ میں ایک مرد ہوں۔ اگر میں یہ فلم 1979 میں دیکھ لیتا تو مجھ پر اپنے نام نہاد کمیونسٹ رہنما افراد کی بتائی اس بات کی قلعی کھل جاتی کہ وہاں مرد اور عورت برابر ہیں۔ لیکن یہ سب دیکھنے کے لیے مجھے 1991 تک انتظار کرنا پڑا تھا جب میں بکھرنے کے قریب سوویت یونین کے مکہ ماسکو پہنچا تھا۔

میرا دوست امتیاز مجھے کہتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب آپ بھی عجیب آدمی ہیں روس میں رہتے ہیں تو آپ پاکستان کے ناستلجیا میں مبتلا رہتے ہیں اور پاکستان جانے کے دو ماہ بعد آپ کو روس کا ناستلجیا آ گھیرتا ہے۔ میں بھی کیا کروں چالیس برس کی عمر تک وہاں رہا اور اس کے بعد کے 29 برس روس میں بتائے۔ تو مجھے آج کل 1971 سے 1980 تک کی وہ سوویت فلمیں دیکھنے کا شوق چرایا ہوا ہے جو سوویت یونین کی آخری نسل کو ازبر ہیں۔ میری روسی بیوی ایسی کلاسیک فلمیں خوشی سے دیکھتی ہوئی کہتی تھی تم نے اس نام کی فلم تو دیکھی ہی ہوگی، اسے ایسے لگتا تھا جیسے میں سوویت یونین میں پیدا ہوا تھا۔ میں ان فلموں کو پرانی سمجھ کے دیکھتا ہی نہیں تھا مگر اب دیکھ کے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہم ڈر ڈر کے اپنی تحریروں میں پاکستان کی زندگی کا ”حقیقی سچ“ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح سوویت یونین کے لکھنے والے، فلمیں بنانے والے بھی بیچ بیچ میں سچ لکھتے اور دکھا دیتے تھے البتہ زندگی وبا سے خائف ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *