بھٹوز اور کشمیر یک جان دو قالب
بھٹوز اور کشمیر میں محبت کا رشتہ دہائیوں پرانا ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی ہر سال ملک بھر میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا کر کشمیری عوام کے ساتھ ایک ناختم ہونے والی محبت کا اظہار کرتی ہے جو ہر آنے والے کے لئے مشعل راہ بن چکا ہے۔
یہ شہید بھٹو ہی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کا وہ باب دوبارہ کھولا جو کئی برسوں سے بند تھا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے دھن تبدیل کی کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔ بھٹو نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ
”کشمیر پاکستان میں ہے جو برلن کے مغرب میں ہے“۔
یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے پوری دنیا کو یہ باور کرایا کہ کشمیر کے مسئلے سے ساری دنیا کا امن سے جڑا ہوا ہے۔ بھٹو کے سخت موقف کے جواب میں، نہرو نے ”نو وار معاہدہ“ کی پیش کش کی جسے بھٹو نے مسترد کردیا کیونکہ ان کے مطالبات بڑھتے جارہے تھے۔ اس کے بجائے انہوں نے اس معاملے پر رائے شماری کا مطالبہ کیا۔ بھٹو کے جراتمندانہ موقف نے کشمیر پر مذاکرات کا ایک نیا دور کھولنے میں مدد کی۔ کشمیر پر مذاکرات کا مقصد ہندوستان کی طرف سے دونوں ممالک کے مابین کشمیر کے متنازعہ موقف کو قبول کرنا تھا۔
اقوام متحدہ کے فورم میں انہوں نے بڑی طاقت کو غیر مسلح کرنے اور زیر زمین جوہری تجربے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ 1965 کی جنگ، دونوں ممالک پر کافی تنقید کا باعث بنی، جنگ کے بعد بھٹو نیویارک چلے گئے جہاں انہوں نے سلامتی کونسل سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے لے کر آج تک بھارت نے پاکستان پر کئی بار جارحیت کی مختلف کارروائیوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس فورم پر اصرار کیا کہ بھارت نے پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے لئے متعدد بار پاکستان کو دھمکیاں دیں۔ شہید بھٹو نے کشمیر کے بارے میں اپنے سخت موقف میں کھلے عام اعلان کیا کہ کشمیر کبھی بھی ہندوستان کا اٹوٹ انگ نہیں رہا ہے، لیکن بھارت جن نہتے کشمیریوں کا خون بہا رہا اس کشمیری عوام کی زندگی کا ہر پہلو پاکستانی عوام سے منسلک ہے۔ اپنے جارحانہ رویہ میں انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ
”ہم کشمیر کے دفاع میں ہزار سال کی جنگ لڑیں گے“۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے بارے میں پاکستان کے ایجنڈے کو اور صورتحال کو واضح طور پر پیش کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے دو باتیں رکھیں کہ یا تو مسئلہ کو باعزت طریقے سے حل کریں یا پاکستان اقوام متحدہ سے دستبردار ہوجائے گا۔ اگر قائد عوام کے خلاف بین الاقومی سازش نہ ہوئی ہوتی تو کشمیری عوام آج آزادی کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہوتے۔
ایک دفعہ بھٹو صاحب کشمیر دورے پر گئے، جب رات ہوئی تو وہاں اندھیرا تھا سوائے ان کے فارم ہاؤس کے۔ بھٹو صاحب نے جب سوال کیا کہ یہاں لائٹ کیوں نہیں تو جواب ملا یہاں کوئی انتظام نہیں۔ بہت حیران ہوئے اور فوراً بجلی کا نظام بنانے کا کہا۔ ان کا بھی یہی سوال تھا کہ جو بجلی بناتا ہے اسے محروم کیوں رکھا گیا۔
شہید بھٹو نے 5 فروری 1976 مظفر آباد میں تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ
”میں بھی انسان ہوں غلطی کر سکتا ہوں لیکن کشمیر کے معاملے میں نیند میں بھی غلطی نہیں کرسکتا۔ “
لیکن پھر عالمی سازشوں کے تحت شہید بھٹو کو پھانسی دے کر شہید کر دیا مگر کشمیر کی جنگ بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو شہید نے بھی اسی دلیری سے لڑی جس دلیری سے بھٹو نے لڑی۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے بھی کشمیر کے ایشو پر قومی اسمبلی میں کشمیر کمیٹی بنائی تاکہ سفارتی محاذ پر بھارت کو جس نے جبر کے ذریعے کشمیریوں کی سرزمین پر قبضہ کررکھا ہے شکست دی جاسکے۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اسلامی کانفرنس تنظیم میں کشمیریوں کو نمائندگی دی اور ان کے دور حکومت میں پہلی مرتبہ حریت کانفرنس کے وفد نے اسلامی کانفرنس تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی اور پھر جب بھٹو کی بیٹی پاکستان کی بی بی شہید کر دی گئیں تو اس جنگ کی باگ ڈور شہید بی بی کے وفادار اور بہادر ساتھی جناب آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی بصیرت سے لڑی اور اب یہ جنگ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور شہید بینظیر بھٹو کا بیٹا بلاول ہر عالمی فورم پر لڑ رہا ہے، بلاول نے حال ہی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس مظفرآباد میں منعقد کیا اور بھٹو شہید کا نعرہ ببانگ دہل دہرادیا دیا کہ
”ہمارا نعرہ سب پہ بھاری
رائے شماری رائے شماری ”



Good contribution