میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھی بیگم مرزا باقی ( 1585۔ 1562 ) ولد مرزا عیسیٰ ترخان ( 1566۔1555 ) کی بیٹی تھی جسے مرزا باقی نے اپنی حکومت بچانے کے لئے اکبر بادشاہ کے حضور پیش کیا تھا۔ تحفۃ الکرم کے روایت کے مطابق اکبر بادشاہ نے سندھی بیگم کو ایک رات کے بعد حرم سے علیحدہ کردیا تھا۔ سلطان محمود نے بھی اپنی حکومت بچانے کے لئے اپنی ایک بیٹی اکبر بادشاہ کے حوالے کردی تھی اور بکھر کی حکمرانی برقرار رہی تھی۔


”تم سندھی بیگم کو جانتی ہو۔“ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔
”نہیں میں نے نہیں سنا یہ نام، کون تھی وہ؟“ میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

”وہ پریوں کی طرح خوبصورت، لانبی اس کی گردن جیسے ایران کی کوئی منقش صراحی اورآنکھیں جیسے کسی سہمی سہمی غزال کی ہوتی ہیں، بڑی بڑی گہری گہری اور چہرہ ایسا کہ بار بار دیکھنے کو دل تڑپے اور سیاہ بال جو کمر سے بھی نیچے تک لہریں مارتے ہوئے چلے جاتے، وہ خوبصورت تھی، سندھ دھرتی میں ایسی خوبصورت لڑکی شاید پیدا نہیں ہوئی ہوگی۔ اس کا نام سندھی بیگم تھا۔ سندھ کی بیٹی تھی وہ میری طرح۔“

وہ مجھے اپسالا یونیورسٹی سویڈن کے باہر روڈ پر بنے ہوئے بوٹ سنڈرم کافی ہاؤس میں ملی تھی۔ اپسالا یونیورسٹی یورپ کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ دریا کے کنارے شاید ہزار سال پہلے یہ یونیورسٹی بنائی گئی ہے۔ کئی عمارتوں پر مبنی اس یونیورسٹی کے اپنے ڈھنگ تھے۔ داخل ہوتے ہوئے لگتا کہ جیسے کوئی معمولی سی عمارت ہے۔ پرانی، قدیم جس کے احاطے میں پرانے پرانے درخت اپنے مضبوط اور موٹے تنوں کے ساتھ اپنی بزرگی کا اعلان کررہے تھے، یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ یہ ایک ادارہ ہے، جہاں علم و ہنر، فن و ادب، شاعری، فلسفہ اور نہ جانے کن کن علوم کے گنگا جمنا بہہ رہے ہیں۔

پہلے دن سے ہی میں اس جگہ کی معترف ہوگئی تھی۔ صبح سے شام اور رات گئے تک ہر وقت کہیں نہ کہیں پر کلاسیں ہورہی ہوتی۔ لائبریری کھلی ہوتی، چھوٹے بڑے کئی کئی کمروں میں مذاکرے، مباحثے، سیمینار، سمپوزیم اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں نظر آتی رہتی تھیں۔ ایک سے ایک پڑھا لکھا ڈاکٹر، پروفیسر، لیکچرر گھومتا پھرتا نظر آتا۔ اپنے فن کا ماہر، اپنے علم میں یکتا اور اسے بانٹنے کے لئے بے قرار، ہماری یونیورسٹی کی طرح نو بجے سے ایک بجے والی یونیورسٹی نہیں تھی۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ کسی وقت یہ بند بھی ہوتی ہوگی۔ صبح یا شام دن یا رات کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں ہوتا ہی رہتا تھا۔ میرا امپریس ہونا ناجائز تو نہیں تھا۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی جب مجھے پتہ لگا کہ یونیورسٹی کے کئی شعبوں کو نوبیل انعام اور مختلف قسم کے تعلیمی انعامات سے نوازا جاچکا ہے۔ اورکئی عام سے لوگ جو اپنی جین اور لمبے لمبے سردی سے بچنے والے کوٹوں میں سائیکل پر یونیورسٹی آتے ہوئے نظر آتے ہیں درحقیقت مختلف شعبوں کے پروفیسر اورلکچرر ہیں۔ ان میں سے کچھ نوبیل انعام بھی پاچکے ہیں اور اس دھرتی میں ہونے والی ترقی اور اس سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کے بالواسطہ یا بلاواسطہ ذمہ دار ہیں۔ میں اپنے ملک کے پروفیسروں کے بارے میں سوچتی جنہوں نے سرکاری سرپرستی میں یونیورسٹیوں کو پارٹ ٹائم یونیورسٹیاں بنا کر رکھ دیا تھا۔ جو نہ صرف تعلیم دشمن تھے بلکہ روشن خیالی کے ناقد، ترقی و تربیت کے لئے زہر قاتل بھی۔ دھرتی پر ایک ایسا بوجھ جس سے نہ دھرتی کو کوئی فائدہ تھا اور نہ ہی سماج کو۔

میں یہاں تین مہینہ کے لئے ایک وظیفے پر آئی تھی۔ یہ وظیفہ مجھے سویڈش انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایجنسی (سیڈا) نے دیا تھا۔ میں کراچی یونیورسٹی میں شعبہ صحافت میں ماسٹرز کرنے کے بعد لیکچرر کی حیثیت سے کام کررہی تھی۔ ایک دن کمپیوٹر پر آن لائن کام کرتے ہوئے سیڈا کی ویب سائٹ پر چلی گئی۔ وہاں پر ہی مجھے اس وظیفے کا اشتہار نظر آیا۔ اچھی بات یہ تھی کہ اس وظیفے کے لیے براہ راست بھی درخواست دی جاسکتی تھی، ہائر ایجوکیشن کمیشن، یونیورسٹی، محکمہ تعلیم یا وزارت تعلیم کی طرف سے نامزدگی کی کوئی شرط نہیں تھی۔

یہ تو مجھے پتہ تھا کہ اگر ان تمام محکموں سے نامزدگی کی شرط ہوتی تو نہ تو یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران سے میری کوئی شناسائی تھی اور نہ ہی محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم کی نوکر شاہی سے کوئی واسطہ تھا اور ہائی ایجوکیشن کمیشن میری پہنچ سے بہت دور تھا۔ سرکاری وظیفے جاننے والوں کو ملتے تھے یا ضائع ہوجاتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب وظیفے کے سارے کاغذات آگئے اور ٹریول ایجنٹ کے توسط سے سویڈن سے آیا ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھی مل گیا تب میں این او سی (No objection certificate) لینے گئی تھی۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار صاحب حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی۔ ان کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ مجھے یہ وظیفہ براہ راست کیسے مل گیا۔ میں نے یونیورسٹی کے ذریعے سے کیوں نہیں درخواست دی تھی وغیرہ وغیرہ۔ ان کے روڑے اٹکانے کے باوجود مجھے این او سی تو مل گئی مگر بڑی جدوجہد کے بعد۔ ایک طلبا تنظیم سے سفارش کرا کر جنہوں نے شاید رجسٹرار صاحب کو دھمکایا تھا۔

اس کے بغیر چارہ نہیں تھا اس لئے یہ بھی میں سوچتی ہوں آخر پاکستان میں زندگی آسان کیوں نہیں ہوسکتی ہے۔ کام منظم انداز میں کیوں نہیں ہوسکتا ہے، قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر لوگوں کو ترقی یا ان کے کام کیوں نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہر تھوڑے دنوں کے بعد سرکار ایک کمیشن بنادیتی ہے جو جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرتا ہے کہ کس طرح سے سرکاری محکموں میں کارکردگی کو بہتر اوراچھا بنایا جائے۔ وردی والے سیاستدانوں اور سیاستدانوں کے روپ میں آمر حکمرانوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ صرف انصاف اور قابلیت کو معیار بنادیا جائے تو پاکستان میں بھی اپسالا یونیورسٹی جیسے ادارے بن سکتے ہیں۔

اتنی معمولی سی بات سمجھنے کے لئے کمیشن، بورڈ، کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ مگر یہ بات بہت دیر میں سجھ میں آئی کہ یہ ساری باتیں حکمرانوں کو پتہ ہیں اور حکمرانی کرنے والی جماعتوں کے بھی علم میں ہے۔ درحقیقت کمیٹی، بورڈ اور کمیشن بنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کمیٹی کے ارکان کو نوازا جائے۔ ان کی تنخواہیں ہوں، سہولتیں ہوں، ہوائی جہازوں کے ٹکٹ ہوں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں قیام طعام ہو، پھر کمیٹی کی رپورٹیں ہوں اور ان رپورٹوں پر عمل کرنے کے لئے کمیٹی ہو اوراس کمیٹی کا جائزہ اورنگرانی کرنے کے لئے ایک اورجائزہ اور نگراں کمیٹی ہو اور اس طرح سے سلسلہ چلتا رہے کہ حکمرانوں کے دوسرے ٹولے کی لوٹ مار کرنے کی باری آئے اور پھر کمیٹیاں بننی شروع ہوجائیں پھر سفارشات لکھی جائیں۔

یہ سوچ سوچ کر تو کبھی کبھار میں رودیتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ کاش میں سویڈن نہیں آئی ہوتی، کاش میں نے یورپ اورامریکہ کی یونیورسٹیاں نہیں دیکھی ہوتیں، کاش مجھے یہ نہیں پتا ہوتا کہ دنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیوں کی لسٹ میں پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ ہم جیسے لوگ جھوٹے نشے میں ہی رہیں کہ ہم دنیا کی سب سے عظیم قوم ہیں اور ہمارے ادارے عظیم ترین ہیں، کاش کہ دنیا کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں ہوتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ صرف کاش کاش کی گردان کرتے ہوئے زندگی گزر جائے گی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں

  • 04/02/2020 at 1:03 pm
    Permalink

    Ajeeb aor hairat angez. bilkul galat aor atkal se milai hui mumasilat. Lala Rukh ki zindagi ka Sindhi Begum kis tarah taluq banaya jasakta hy? Dr Sb! Mujhey aap se ye umeed nahi thi. 180 degree ka farq hy dono me. Sindhi Begum Ko baap ne becha that. Yahan Lala Rukh Mohabbat me Bik gayi.Usey uss ke azaad fesley ne bikwa diya. us ne Itna bara faisal lene se pehley Aftab ko kitna jana tha? wo uss ke background ko kitna janti thi? uss ne kis dost ya barey (maa baap k ilawa) se koi mashwara kiya tha? kuch nahi. Uss k haal ka zimedaar us ka jhoota piyaar aor shohar tha. jiss kam nasal bandey ko azaadi milny k baad koi ma’ashra nahi rok saka. Sweden jessi Jannat ne hi Afabtab ko ye faisal karney ka haq diya that k wo Lala Rukh k saath rahe ya nahi. iss par lala rukh ko apna mahasba karna chihiye. Yun apne backward muashiry ko gaali dene ki kia tuk banti he. mjhy smajh nahi aya.
    Dr Sb, maazrat se kahun ga…aap ne Sindhi Begum Ka Hawala sirf apni tehreer me wazan peda karney k liye lagaya he. warna iss kahani ka Sindhi Begum se koi taluq nahi.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *