محبت کے پانیوں پر پرواز کرتے پرندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسین چہرہ، معصومیت و دلکشی، دل فریب مسکراہٹ اور چمکتی آنکھیں!

برابر میں جیون ساتھی، ہاتھ تھامے، مردانه وجاہت کا نمونہ ، بات بہ بات ہنستا ہوا!

دونوں کو دیکھ کے محسوس ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں، چاند سورج کی جوڑی تھی۔

ہمارے دل سے ایک آہ نکلی، کاش ایسا نہ ہوا ہوتا!

ہم نے اس مرد کو انتہائی ممنون نگاہوں سے دیکھا جس نے انسانیت کی لاج رکھنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے معاشرے کے عام چلن کو پھلانگ کے ثابت کیا تھا کہ مرد و عورت کی محبت اگر سچی ہو تو قاعدے، قانون، ضابطے، دیواریں سب ڈھے جایا کرتے ہیں۔

اس چوبیس سالہ بستر پہ دراز لڑکی کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں معذور تھیں۔ وہ اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، اپنے ہاتھ سے کوئی بھی کام کرنے، حتی کہ حوائج ضروریہ کے لئے بھی مدد کی محتاج تھی۔ برابر میں کھڑا شوہر اس کے پہیوں والے بستر کو خود دھکیل کے ہمارے کلینک تک لایا تھا۔

“یہ سب کیسے ؟” ہمارے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلے!

مسکراہٹ اس کے معصوم چہرے سے یوں پھوٹی جیسے چاند بدلیوں کی اوٹ سے نکل آئے۔

“میں اپنے سکول و کالج میں کھلاڑی تھی ڈاکٹر!  میں نے زندگی کو اپنے پاؤں پہ چل کے اور دوڑ کے برتا ہوا ہے۔ مجھے معلوم ہے جب جسم ہوا میں تیرتا ہوا زمانے کے ساتھ دوڑتا ہے تو رگ رگ میں کیسے فرحت و انبساط کی لہریں جنم لیتی ہیں۔ میں ان ہی یادوں کے سہارے زندہ ہوں”

وہ بولتی تھی اور ہم خاموشی سے سنتے تھے۔

” مجھے بابا نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں بارہویں جماعت میں اول آئی تو مجھے گاڑی خرید کے دیں گے۔ میں نے جان توڑ محنت کی اور نتیجہ وہی نکلا جو میں چاہتی تھی۔ گاڑی ملی، لائسنس لیا اور اب گاڑی کے بھاگتے پہیوں کا سرور تھا جو اڑائے چلے جاتا تھا “

” اس روز، میں اسے منحوس دن نہیں کہوں گی کہ ہر دن کسی نہ کسی کے ساتھ توکچھ تماشا تو ہوا ہی کرتا ہے، سو دنوں کو مورد الزام کیوں ٹھہرایا جائے۔میں گاڑی چلاتے چلاتے شہر سے تھوڑا باہر نکل گئی، سپیڈ بھی زیادہ نہیں تھی، میں کچھ گنگنا رہی تھی۔ زندگی پر کیف معلوم ہوتی تھی کہ یکایک اماوس کی رات آ گئی۔ سڑک کے ساتھ ہی میں صحرائی راستہ تھا جہاں سے ایک اونٹ اچانک سڑک پہ بھاگ نکلا اور میری گاڑی سے آ ٹکرایا۔ مجھے صرف گھبرا کے چیخنا اوربریک لگانا یاد ہے، اس کے بعد میں بے ہوشی کے اندھیروں میں ڈوب چکی تھی”

“پھر کیا ہوا؟”

” دوبارہ زندگی کی روشنی جب پلکوں سے ٹکرائی تو علم ہوا کہ کئی ماہ بے ہوشی کے عالم میں گزر چکے تھے۔ اس دوران کئی دفعہ موت نے زندگی کے دروازے پہ دستک دی لیکن میرے لاشعور میں زندگی کی محبت نے اسے واپس لوٹنے پہ مجبور کر دیا “

” جب میں ہوش میں آئی تو میں ایک بستر پہ چت لیٹی تھی، انواع و اقسام کی نلکیاں میرے جسم سے لپٹی ہوئی تھیں اور میں کوئی بھی حرکت کرنے سے قاصر تھی۔ پہلے میں سمجھی کہ دواؤں کے زیر اثر ہاتھ پاؤں سن ہیں۔ کچھ ہی روز میں انکشاف ہوا کہ میری ریڑھ کی ہڈی کے اندر سپائنل کارڈ اس انداز میں تباہ ہوئی ہے کہ میرے پاس اب زندگی گزارنے کو نہ بازو باقی رہے نہ ہی ٹانگیں Quadriplegia۔ نہ میں کبھی بیٹھ سکوں گی اور نہ ہی کروٹ لے سکوں گی۔  مجھے اب پوری عمر چت لیٹ کے چھت کو دیکھنا تھا اور ڈاکٹر اس وقت میری عمر اٹھارہ برس کچھ ماہ تھی”

ہمارے دل سے آہ نکلی!

“یہ جاننے کے بعد کچھ عرصے کے لئے میں دنیا و مافیہا سے بے گانہ ہو گئی۔ کچھ اور وقت گزر گیا۔ میرے اپنے یہ دیکھ کر کڑھتے۔ میرا ہر کام اپنے ہاتھ سےخوشی سے کرتے،  بول وبراز سنبھالتے، خوراک کا خیال رکھتے اور میری خاموشی دیکھ کے چھپ چھپ کے روتے۔ ایک دن یونہی خیال آیا کب تک میں زندہ لاش بنی پڑی رہوں گی سو زبان پہ لگا قفل توڑ دیا۔ ویسے ہی جینے کی کوشش کرنی شروع کی جیسی اس حادثے سے پہلے ہوا کرتی تھی۔  آہستہ آہستہ میں نئے ڈھب کی عادی ہو گئی۔ میں نے زندگی کو اور زندگی نے مجھے پھر سے اپنا لیا”

” یہ شادی!” ہماری زبان سے نکلا

“اب میری باری ہے بتانے کی” شوہر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” میری اور ان کی ملاقات ہسپتال میں ہوئی جہاں یہ فزیو تھراپی کے لئے آتی تھیں۔ ان کے سیشینز کافی طویل ہوتے تھے کہ سارے اعضا ہی اپنی حسیات کھو چکے تھے۔ ان طویل سیشینز کے دوران ہماری بات چیت شروع ہوئی۔ ہم نے بہت باتیں کیں، کتابیں، موسیقی، فلم، پھول، برسات، سمندر، کھیل، دنیا، سیاست، خواہش، احساس، جذبہ، شاعری، ارادہ، لطائف، مزاح، کیا تھا جو ہم زیر بحث نہ لائے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا اور بہت دل کش انداز میں بولتی تھیں۔ یونہی باتیں کرتے کرتے ایک دن احساس ہوا کہ ہمارے درمیان بہت کچھ مشترک ہے۔ مجھے بھی کائنات اسی رنگ میں نظر آتی ہے جیسے کہ انہیں، مجھے بھی نا انصافی اور ظلم ویسے ہی بے چین کرتا ہے، مجھے بھی فلم، موسیقی اور شاعری ویسے ہی بھاتی ہے، مجھے بھی انسان سے محبت کرنا اچھا لگتا ہے”

“مجھے محسوس ہوا کہ ہماری روحوں کا سر تال ایک جیسا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مجھے ان کے ساتھ وقت گزارنے کی تڑپ زیادہ ہے۔ مجھے علم ہو گیا کہ ان سے بہتر جیون ساتھی میرے لئے کوئی نہیں ہو سکتا”

“ مجھے احساس تھا کہ یہ کبھی دلہن بن کے میرے ساتھ نہیں بیٹھ سکیں گی۔ یہ کبھی عروسی لباس پہن کے اپنے پاؤں پہ چل کے میرے ساتھ رخصت نہیں ہو سکیں گی۔ یہ ہنی مون پہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے میرے ساتھ نہیں گھوم سکیں گی۔ سمندر کے کنارے مجھ پہ پانی نہیں اچھال سکیں گی۔ گھر آنے پہ دروازے پہ استقبال نہیں کر سکیں گی۔ میرا پسندیدہ کھانا نہیں بنا سکیں گی۔ میری پلیٹ میں اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں ڈال سکیں گی۔ میرے ساتھ کسی تقریب میں نہیں جا سکیں گی۔ بارش میں میرے ساتھ نہیں نہا سکیں گی۔ مجھے ٹائی نہیں باندھ سکیں گی۔ اگر ماں بنیں تو بچہ نہیں سنبھال سکیں گی۔ اس کے لئے راتوں کو جاگ نہیں سکیں گی۔ اس کے پیچھے نہیں بھاگ سکیں گی۔ اس کی چیزیں نہیں خرید سکیں گی۔ اس کے سکول نہیں جا سکیں گی “

“پھر آپ نے کیسے فیصلہ کیا ؟”

” میں نے بہت سوچا، دل سے بھی اور دماغ سے بھی۔ ہر دفعہ ایک ہی جواب پایا کہ میرے لئے ہر وہ دن بیکار ہے جب میں ان کو دیکھ نہ سکوں، بات نہ کر سکوں۔ ہماری خاموشی تک باتیں کرتی ہے۔ مجھے ان سے محبت ہو گئی تھی اور محبت کہاں دیکھا کرتی ہے کہ محبوب میں کیا کمی ہے “

” میرے والدین اور بہن بھائیوں نے اس شادی کی بہت مخالفت کی۔ ان کا خیال تھا کہ میں جذبات میں ڈوب کے یہ فیصلہ کر رہا ہوں، کچھ ہی مدت میں عقل ٹھکانے آ جائے گی۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ہمارا تعلق روح کا میل ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی موجودگی خوشی دیتی ہے، وہ بیٹھ نہیں سکتی، چل نہیں سکتی ، کھا نہیں سکتی ، کوئی کام نہیں کر سکتی، مجھے کوئی پروا نہیں۔ وہ ہنس سکتی ہے، سوچ سکتی ہے، میرے ساتھ بات کر سکتی ہے، مجھے یہ بہت کافی ہے۔ میں اسی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہوں، کسی اور کی گنجائش نہیں اب”

“اور اب بھی کیا ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟”

” شادی ہوئے تین برس گزر چکے، ایک دن ایسا نہیں گزرا کہ میں ان سے دور رہا ہوں۔ ملک سے باہر بھی جاؤں تو فون پہ پل پل کی خبر رکھتا ہوں۔ انہیں خوش دیکھ کے میں جی اٹھتا ہوں۔ ان تین برسوں میں ایک پل ایسا نہیں آیا کہ مجھےاپنے فیصلے پہ ندامت ہوئی ہو۔ یہ مجھے پہلے سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہیں، میں دفترمیں گزارا وقت  پل پل گن کے گزارتا ہوں۔ شام کو ہم فلمیں دیکھتے ہیں، ہنستے ہیں، موسیقی پہ سر دھنتے ہیں، کبھی کبھی لڑتے بھی ہیں، لیکن مجھ سے ان کی ایک پل کی ناراضگی بھی برداشت نہیں ہوتی”

“میری غیر موجودگی میں دو مددگار عورتیں ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ شام کو میں کھانا اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہوں، بال سنوارتا ہوں، لپ اسٹک لگاتا ہوں، ورزش کرواتا ہوں، کروٹ دلواتا ہوں۔ یونہی ہم دونوں باتیں کرتے، ہنستے بولتے نیند کی آغوش میں اتر جاتے ہیں”

“کیا بچے کا فیصلہ آپ نے سوچ سمجھ کے کیا؟”

وہ مسکرایا ” دیکھیے ڈاکٹر وہ ایک مکمل عورت ہے۔ اس میں خالق نے کہیں کجی نہیں رکھی، خواہشات بھی ہیں اور جذبات بھی۔ اس کا دل ویسے ہی دھڑکتا ہے جیسے کسی عام عورت کا، اس کا دماغ ویسے ہی سوچتا ہے جیسے کسی بھی عورت کا۔ سو میں اسے ماں بننے سے محروم کیوں رکھتا؟ اور اب ہمارا بچہ جو آنے والا ہے، وہ بھی اپنی ماں سے ویسی ہی محبت کرے گا جیسے میں کرتا ہوں  “

ہم کچھ کہنے سننے کے قابل نہیں تھے، آنکھیں نم تھیں، دل کی دھڑکنیں بے قابو تھیں۔ سمجھ یہ سب قبولنے سے انکاری تھی۔

کیا وہ آج کا رومیو تھا؟ یا جھنگ کی مٹی سے خلق ہوا رانجھا تھا، جو محبت کےسروں سے ایک کہانی اپنی ہیر کے لئے لکھ رہا تھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا بےلوث محبت کا راز پا کے ایک ایسی جگہ پہ کھڑا تھا جہاں ہماری آنکھ سے اس کے لئے عقیدت کے آنسو گرتے تھے۔

(یہ سچی کہانی ہے اور یہ گفتگو کچھ نشستوں میں مکمل ہوئی تھی۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *