مرد کو کیا چاہیے؟ محبوبہ، بیوی کال گرل یا رکھیل؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبوبہ اور بیوی کی طرف رحجانات کی تفریق پدرسری نظام کے شکار مرد کی دوغلی شخصیت کی عکاس ہے۔ مرد اور عورت کے تعلق کے معیار کو استوار کرنے کے حوالے سے پاکستانی معاشرے میں بہت تفریق پاٸی جاتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مرد اور عورت دونوں تعلق استوار کرنے کے نظریے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ جس میں تفریق اور اختلاف کی بنیادی وجہ مرد اور عورت کی ذہنی سطح کا وہ بنیادی فرق ہے جو اس معاشرے کی جینڈر کے فرق سے وابستہ اخلاقی تربیت کے لیے طے کیے جانے والے دوہرے معیار سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عورت کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم وفا شعار ہو۔ محبت کی دیوی ہو۔جس پر ایمان لے آٶ۔ وہی تمہارا سرتاج ہے۔ تم دھوکا نہیں دے سکتی۔ بے وفا نہیں ہوسکتی۔ بے حیا نہیں ہو سکتی۔ اور اگر کوٸی ایسا معاشرتی بندھنوں سے فرار کا راستہ تم نے چُنا تو معاشرہ تمہیں قبول نہیں کرے گا۔ اوّل تو ایسی کوٸی چواٸس ہی عورت کو نہیں دی جاتی۔

دوسری طرف مرد حیا اور وفا کے معاشرتی بندھن سے آزاد تصّور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ وفا کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ اگر وہ وفا نہیں بھی کرتا تو بھی اس پر کوٸی بوجھ نہیں ہوتا۔ نہ ہی عورت کی طرح اخلاقیات کی پوٹلی اُس کے پلُّو سے بندھی ہوتی ہے۔

جیسے جیسے مرد اور عورت معاشرتی رویّوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔ ویسے ویسے ان کے اخلاقی روّیے ابھر کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ زیادہ تر عورتیں معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتیں۔ پدرسری معاشرے میں عورت کے لیے تعلیم کا رجحان بھی کم ہے۔ عورت اتنی خود مختار بھی نہیں ہے۔اُسے ایک مستحکم گھر اور وفاشعار مرد کی تلاش ہوتی ہے۔ جبکہ مرد ایک طرف تو نہ صرف پدرسری نظام کا سرغنہ ہے بلکہ اس کا شکار بھی ہے۔ مرد چونکہ معاشی اور معاشرتی طور پر عورت کا محتاج نہیں ہوتا اس لٸیے کسی بھی بندھن میں مستقل طور پر بندھے رہنا اور اسے ذہنی طور پر قبول کرنے میں اسے بہت مشکل پیش آتی ہے۔ جہاں عورت ایک مستقل تعلق استوار کرنے کی خواہش میں ہوتی ہے وہاں مرد ایسی قید و بند سے فرار چاہتا ہے۔ ایسے معاشرتی رویّے کی وجہ سے مرد اور عورت دونوں کی سوچ اور عمل میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔ جو کہ دونوں کے ایک یکجا رشتہ قاٸم کرنے میں دشواری پیدا کرتا ہے۔

مرد اور عورت کے تعلق کو لےکر دونوں فریقین کے جنسی رویّے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ جہاں عورت کو حیا کی پاسداری کا درس دیا جاتا ہے۔ اور وہ محبت اور جذبات کے معاملے میں ویسا اظہار اور بیان نہیں رکھتی۔ وہاں مرد کو ایسی عورت اپنی طرف متوّجہ کرتی ہے جو پراعتماد شخصیت کی مالک ہو اور کسی مرد سے تعلق قاٸم کرنے میں ہچکچاتی نہ ہو۔ اپنی خواہش کا اظہار زبان سے کر دیتی ہو۔ ایسی عورت کے ساتھ پدرسری نظام کا شکار مرد ذہنی ہم آہنگی تو پیدا کر سکتا ہے۔ جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جس پدرسری نظام کا وہ حصّہ ہے اور جس کے بھرم کو بنائے رکھنے میں مرد اور عورت دونوں ہی قصور وار ہیں ایسے پدرسری معاشرے کا بھرم ایسی پراعتماد عورت کی شخصیت سے خوف کھاتا ہے۔ اسے قبول کرنے سے انکاری ہو جاتاہے۔

عورت کی شرم و حیا اور چار میٹر لمبی چادر کے معیار کا جو بُت اس معاشرے نے کھڑا کیا ہے۔ وہ اپنے وجود اور آزادی کی جنگ لڑنے والی عورت کے اپنے فیصلوں کے اختیارات خود اپنے ہاتھوں میں لے لینےسے منتشر ہونے لگتا ہے پھر چاہے وہ اختیار اور وہ فیصلہ سوچ کی آزادی کا ہو یا لباس کی آزادی کا۔ اس مقام پر پدرسری معاشرے میں شخصیت کے دو مختلف پہلو اور سوچ کے داٸرے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ ایک دیسی گھریلو بیوی کا تصّور ایک بولڈ محبوبہ کے تصّور سے ٹکراتا ہے۔

پدرسری نظام کے شکار مرد کا دونوں کی طرف متنازع رحجان دراصل اسی پدرسری نظام کی دوغلی سوچ کا عکاس ہے جو مرد کے رویّے میں تضاد پیدا کرتا ہے۔ مرد درحقیقت ایک ایسی عورت کو پسند کرتا ہے جو اس کی ذہنی سطح کے برابر آ کر اُس کے رویّے کو سمجھ سکے اور اسے وہی سپیس دے جو وہ چاہتا ہے۔ اس پر وفا اور حیا کی قیدو بند بھی نہ رکھے۔ لیکن اس کے بدلے میں وہ عورت کو وہی سپیس دینے کے لٸیے تیار نہیں ہوتا۔ جس آزادی کا وہ خود خواہاں ہوتا ہے۔ اس طرح وہ دوہرا معیار قاٸم کرتا ہے۔ ایک وفا شعار عورت بیوی کے روپ میں معاشرے میں وہ مقام پاتی ہے جو اسے عزت سے جینے دے جبکہ دوسری طرف ایک آزاد خیال عورت کو وہ خود بھی معاشرے میں وہ مقام دلانے کا خواہاں نہیں ہوتا۔ جس کی وہ خود پیروی کرتا ہے۔ اورایسی عورت کی وہ دل سے عزت بھی نہیں کرتا۔ جسے معاشرہ محبوبہ کال گرل، کیپ (Keep) یا طواٸف کا درجہ دے کے آٶٹ کاسٹ outcast بنا دیتا ہے۔

ایسے پدرسری ذہن کا شکار مرد ساری زندگی دوہرے معیار کا شکار رہتا ہے جسے دہری شخصیت کہتے ہیں۔ اس کی ذات میں دوغلا پن پیدا ہوتا ہے اور وہ ساری زندگی دوہرے معیار والا لاٸف سٹاٸل اپنانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جس سے رشتوں میں بگاڑ اور بے اعتباری پیدا ہوتی ہے۔ اگر دو ایک جیسی ذہنی سطح کے حامل مرد اور عورت کو یہ معاشرہ قبول کر لے۔ مرد اور عورت کے لٸیے حیا اور وفا کا ایک ہی پیمانہ مقرر ہو۔ تو معاشرے کی کھوکھلی رسم و رواج کی دیوار جس کو کٸی صدیوں سے دیمک چاٹ رہی ہےاور وہ بس ایک جھٹکے میں گِر کر مسمار ہونے والی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کھوکھلی روایات کا بھرم توڑ دیا جائے۔ کیونکہ ان کے اندر پیوستگی کے معیار کے لیے کوٸی پختہ اخلاقیات اور روایات بچی ہی نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *