"عوام کے لیے بڑی خوش خبری”


حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اپنے کارکنوں کو ہر ہفتے خوش خبری دی جائے گی۔ کیونکہ مہنگائی بڑھنے، بے روزگاری پھیلنے اور سو دن میں نہ آنے والی تبدیلی کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ایسے میں ملکی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر انھیں دیگر جماعتوں کے کارکنوں سے بات کرنا، اپنے کپتان کا دفاع کرنا اور عمران کے وژن پر دلائل دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گو کہ بیرون ملک رہنے والے کارکن اب بھی کپتان کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں کیونکہ انھیں پاکستان کے زمینی حالات کا نہ علم ہے اور نہ وہ یہاں آ کر بسنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی ڈالر مہنگا ہونے سے انھیں فاہدہ ہی پہنچا ہے اس لیے وہ اپنے لیڈر کی کارگردگی سے کافی مطمئن ہیں۔

اب حکومت نے ملکی کارکنوں کے لیے ایک ایسی حکمت عملی بنائی ہے جس پر عمل کر کے ہر ہفتے ایسے اقدام کیے جائیں جن سے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ جائے اور وہ سینہ ٹھونک کر ہر فورم پر مخالفین کو داندان شکن جواب دے سکیں گے۔

میرے دوستوں آپ کے لیے بند کمروں کی خبر لایا ہوں۔ دل تھام لیجیے کیونکہ اِس سے قبل کسی حکومت نے کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کو ایسے اقدام نہیں کیے ہوں گے۔

بڑوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ممبرز ٹی وی شوز یا جلسوں میں اگلے چند ماہ میں مزید مہنگائی بڑھنے کا کہیں گے۔ پیٹرول سی این جی اور دیگر اشیاء کے نرخ چالیس سے پچاس فیصد بڑھنے کا بیان دیں گے۔ جاہل پٹواری فوراً اس خبر کو لے کر سوشل میڈیا پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اینکرز ٹی وی پر پروگرامز کریں گے اور عوام میں سخت مایوسی پھیل جائے گی۔ کارکن پریشان ہوں گے اور پھر اچانک کپتان اس خبر پر ایکشن لیں گے اور کسی تقریب میں عوام کو یقین دلوائیں گے کہ اشیا کے نرخ چالیس پچاس فیصد نہیں بلکہ دس بیس فیصد بڑھ رہے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی اور وہ سوشل میڈیا پر جھوٹے پٹواریوں اور ملک دشمن اینکرز کی درگت بنانا شروع کر دیں گے۔

پھر چند رو بعد ممبر پارلیمنٹ اپنی تنخوائیں بڑھانے کو بل ٹیبل کریں گے اور یوں مہنگائی سے پسی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ جائے گی مگر اگلے کی ہفتے کپتان اس پر سخت ایکشن لیں گے اور ممبرز کو ڈانٹ کر تنخواہ نہ بڑھانے کا کہیں گے۔ عوام میں بیجا بیجا ہو جائے گی۔ ہر طرف خوشیوں کے شادیانے بجنے لگیں گے اور کارکن اچھل اچھل کر جاہل مخالفین کو ناک آوٹ کریں گے۔

پھر چند ہفتوں بعد کوئی ممبر کسی ٹی وی شو پر بیان دے گا کہ ہم جلد ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو ملازمتوں سے فارغ رہے ہیں۔ یہ سن کر مخالفیں پی ٹی آئی پر بڑھ بڑھ کر حملے کریں گے مگر اُس وقت ان کی مایوسی دیکھنے کے لائق ہو گی جب کپتان عوام سے مخاطب ہو کر انھیں یقین دلوائیں گے کہ کسی سرکاری ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا، لیکن اب یہ حکومت کسی کو سرکاری ملازمت نہیں دے گی۔ یہ خبر سنتے ہی سرکاری ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی یوں اس اچھوتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہو کر چند ماہ میں ہی، کپتان کی شہرت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو گی۔ اور ہماری حکومت عوام کے دلوں کی دھڑکن بن جائے گی۔

یوں کارکنوں میں خوشیاں بانٹ کر ہم اگلے پانچ سال کے لیے بھی کپتان کو منتخت کر لیں گے اور مخالفین منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

Facebook Comments HS