کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ہر سال 5 فروری کو یویم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ اس سال بھی ہمیشہ کی طرح سیمینار کانفریس اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی۔ ہندوستان کے حکمرانوں کے پتلے نذر آتش کیے جائیں گے۔ الیکٹرانک میڈیا لائیو کوریج دے گا ہم یہ دن زور شور سے منائیں گے شام ہو گی پھر اپنی بھول بھلیوں میں گم ہو جائیں گے۔ ہمارے ایوانوں سے قراردادیں تو بڑی بڑی منظور ہو جاتی ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا سکتا آئے روز نوجوان کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے ان کی گردنیں کاٹی جارہی ہیں۔

پچھلے تیس سال سے انڈیا کا ہر ظلم ستم برداشت کررہے ہیں تو اس لیے کہ وہ ہندوستان کے پرچم تلے زندگی نہیں گزارنا چاہتے ہندؤ کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہتے۔ کشمیری عوام سنگینوں کے سائے تلے کہتے ہیں پاکستان ہمارا ہے ان کے جلسے جلوسوں میں پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں، وہ جب شہید ہوتے ہیں انھیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے۔ کشمیری شہداء کی قبروں پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ ہمارے وزراء تو کہتے ہیں جو کشمیر کے حق میں بولے گا وہ اس ملک کے ساتھ غداری کرے گا جو وہاں جا کر لڑے گا وہ غدار ہو گا۔

انھوں نے ”آزادی“ کے خواب سے اپنی شب تاریک کو سحر کیا ہوا ہے اور یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی 22 کروڑ عوام کے ہوتے ہوئے کشمیر پر کسی قسم کا سودا نہیں ہو سکتا، دوسری طرف یہ سوال بھی کرتے ہیں ہمیں تو انڈیا نے محصور کیا ہوا ہے پاکستانی عوام تو محصور نہیں۔ کیا روز قیامت کشمیری ماؤں بہنوں کے ہاتھ ہمارے گربیان پکڑے ہوئے نہیں ہوں گے یا اللہ یہ ہمارے بھائی تھے جن سے ہم صبح شام آس لگائے رہتے تھے ہماری نسلوں کی نسلیں اس انتظار میں اپنی گردنیں کٹواتی رہیں کہ ہمارے بھائی کسی بھی وقت بادرکراس کر کے ہمارے مدد کو پہنچتے ہی ہوں گے۔

اس امید میں ہماری نسلیں کٹتی رہیں کہ بابری مسجد کے قاتلوں سے ہمارا انتقام لینے ہمارے پاکستانی بھائی آئیں گے، ہم نے اپنی عزتوں کی قربانیاں اس لیے دیں تاکہ تیرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے ہمیں کوئی روک نا سکے، ہم نے قربانیاں اس لیے دی ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں آزادی کے ساتھ رہ سکیں۔

ہمارے حکومتی نمائندے بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھ کر کشمیر پر تقریر تو کر لیتے ہیں لیکن عملی اقدام کوئی نہیں کرتے۔ اگست 2019 سے کشمیر کے ہر گلی کوچے کو ہندؤں نے کربلا بنا کر رکھا ہوا ہے۔ مودی اپنے انتخابی منشور کو پورا کر رہا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا وعدہ ہو یا کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنانا ہو یا اکھنڈ بھارت کا خواب ہو، انتخابی ریلوں میں کیے گئے وعدے پورے کرتا جا رہا ہے۔

ہندوستان پاکستان کو بنجر بنانے کے لیے دریاؤں کے رخ موڑ رہا ہے اور ہم ہیں کہ یہاں سیاست کا کھیل کھیل رہے ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے کو چاروں شانے چت کرنے کے لیے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمارے حکمران امریکہ کو کہتے ہیں ٹرمپ صاحب ہمارے ثالث بن جاؤ اور ہمارا فیصلہ کرا دو مودی ٹرمپ کو کہتا ہے تم کون ہوتے ہو ہمارا فیصلہ کروانے والے یہ ہمارا اپنا مسئلہ ہے دوسری طرف جسے ہم اپنا ثالث سمجھ رہے ہیں وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر گریٹر ہندوستان بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

ہم کہتے آرہے ہیں کشمیر ہماری شہ رگ ہے کیا ہم اتنے مجبور اور بے بس ہیں یا اتنے کمزور ہیں ہماری شہ رگ دشمن کے پنجوں میں ہے ہم اپنی شہ رگ کی حفاظت نہیں کر پا رہے۔ مقبوضہ وادی میں دس ہزار عورتوں بچیوں کی آبرو ریزی کی جا چکی ہیں وہاں چادر چار دیواری نام کی کوئی چیز نہیں کریک ڈاؤن کے بحانے انڈیا آرمی جس گھر میں گھس جائے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں وہاں والدین کے سامنے ان کی بیٹیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جنھیں دیکھ کر انسانیت تو انسانیت حیوانیت بھی لرز اٹھے۔

مملکت خداد پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے اسلاف نے جہاد کے ذریعے عظیم قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا۔ پاکستان ایک طویل جدو جہد کے بعد حاصل ہوا تھا نا کہ نادیدہ قوتوں کا کرشمہ۔ مسئلہ کشمیر بھی قربانیوں کے بغیر آزاد نہیں ہو گا، کشمیریوں کو جہدوجہد آزادی کا حق اقوام متحدہ کا چارٹر فراہم کرتا ہے یہ دوسری بات ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم وبربریت دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر پا رہا کیونکہ اس کے گلے میں وائٹ ہاؤس کا پٹہ بندھا ہوا ہے۔

ہماری حکومت کو چاہیے کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا اعلان کرے پھر دیکھتے ہیں امریکہ سمیت ساری قوتیں پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں گئیں۔ مسلمانوں نے جب تک جہاد کو اپنائے رکھا اللہ کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے رہے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے اب ہمیں دوبارہ ضرورت ہے اپنی صفوں میں جہادی روح بیدار کریں اپنے جسم کے اس حصے کا درد محسوس کریں جو کہراتے ہوئے بھی کہہ رہا ہے میں پاکستانی ہوں۔ کیا ان ماؤں نے محمد بن قاسم پیدا کرنا چھوڑ دیے ہیں جو اپنی ایک مسلمان بہن کی آواز پر لبیک کہتا ہوا آیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *