شعبِ ابی طالب اور وادی کشمیر کے مصائب کا جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخِ اسلام کے دو واقعات ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی افراد بلکہ غیر مذہبی اور دہریہ سوچ رکھنے والوں کے لئے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ اور ایسے افراد جو کچھ چیزوں کو محض اس لئے رد کر دیتے ہیں کیونکہ ان کی بنیاد مذہبی حوالہ ہوتی ہیں، وہ بھی اس سچائی کو ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی نظریے کی کامیابی کے لئے، اس نظریے سے وابستگی، پائے استقامت، پیہم کوشش، جسمانی و نفسیاتی برداشت اور قربانی بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔

تاریخِ اسلام کے حوالے سے بات کی جائے تو، واقعہ اوؔل، جو جسمانی برداشت، بھوک، بیماری، اور اپنے بچوں کوشدت پیاس و بھوک سے تڑپتے دیکھ کر خون کے آنسو رونے، فاقہ کشی کی مستقل صعوبتیں برداشت کرنے، دشمنوں سے جان کا تحفظ کرنے، خوراک کے دانے دانے کو ترسنے، درختوں کے پتے، جھاڑیاں اور چمڑے کے ٹکڑے کھانے، بلکتے سسکتے بیمار بچوں کی کراہوں، بڑوں کی فاقہ کش و بیمار آہوں، عزیزوں کو اپنے سامنے بے یار و مدد گار ہو کر مرتے بے بسی سے دیکھنے، موسم کی سختیوں کو مسلسل برداشت کرنے، قید اور اپنوں سے مسلسل بے خبری کی اذیت سہنے جیسی صعبتوں سے عبارت ہے۔ اس واقعہ کو واقعہ شعب ابی طالب کہا جاتا ہے۔ اس پر آشوب دورِ ابتلا کی کی مدت طوالت تقریباً تین سال ہے۔

واقعہ ثانی سے مراد، وہ سا نحہ ہے جو جذباتی و نفسیاتی برداشتوں اوراپنی آنکھوں کے سامنے اپنوں کی شہادتوں کو دیکھ کر بھی، اپنے نظریے پر استقامت سے عبارت ہے۔ اس واقعے کو تاریخ ِ عالم میں، سانحہ کربلا کے نام سے جانتے ہیں۔

واقعہ شعب ابی طالب میں، شعب اور خاندانِ رسول ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا احوال مذکور ہے۔

شعب سے مراد دو پہاڑوں کے درمیان تنگ علاقہ یا کسی پہاڑ میں تنگ دراڑ کو کہتے ہیں۔ جب کہ شعبِ ابی طالب سے مراد وہ پہاڑی درہ یا علاقہ ہے جو مکہؔ کے دو پہاڑوں یعنی کوہ ابو قبیس اور کوہ خندمہ کے درمیان واقع ہے۔ تاریخِ اسلام میں، اس درؔہ، شعب یا گھاٹی کی وجہ شہرت وہ محاصرہ ہے جو مشرکین نے، آنحضرت ﷺ اور اہلِ اسلام کے خلاف قائم کیا اور اہلِ اسلام تقریباً تین سال اس درؔہ میں محصور رہے۔

وادی سے مراد وہ علاقہ ہے جو پہاڑوں کے درمیان کشادہ حصہ ہو۔ جیسا کہ برصغیر میں وادی کشمیر، وادی سوات اور دیگر وادیاں ہیں جہاں لوگ رہائش رکھتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں۔

الغرض شعب اور وادی، میں مما ثلت یہ ہے کہ دونوں جگہیں پہاڑوں کے درمیاں ہوتی ہیں۔ اول الزکر کوعام انسانی زندگی گزارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ جگہ ثانی کو عام انسانی زندگی و رہائش کے لئے نہی بلکہ بعض اوقات تحفظ کے حصول کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

واقعہ شعب ابی طالب میں خاندانِ رسولؐ اور محبانِ رسولؐ نے، حضرت محمد ﷺ اورخود کو، کفار و قریش سے تحفظ کی خاطر قیام پذیر کیا اور اسلام سے وابستگی کی قیمت تین سال کی مسلسل اذیتوں کی برداشت سے ادا کی۔ اس از خود جلا وطنی اور شعب میں قیام کی وجہ وہ معاہدہ تھا جو دشمنانِ اسلام نے، اسلام کی روزافزوں ترقی سے ڈر کر آپس میں طے کیا جس کی بنیادی شِق، رسولِؐ خدا کو نقصان پہنچانا اور اہل اسلام سے معاشی، سماجی و معاشرتی مقاطعہ تھا۔

وادئی کشمیر کے حوالے بات کی جائے تو کشمیری آبادی کا اصل وطن ہی وادی کشمیر ہے۔ تاریخی وسیاسی نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد موجودہ حالت میں کشمیری، بطور قوم کے ایک طرف اپنی حریت و آزادی پسندی، برداشتِ ظلم و استبداد کے عروج پر، تو دُوسری طرف جغرافیائی طور پر بحیثیت ایک محصور اور مجبور قوم ہو کر اپنی آزادی اور بقاے جان، تحفظِ عزت و عصمت، اور اپنی شناخت کی جد و جہد میں، اپنے ہی وطن کو مقتل بنائے ہوئے ہیں۔ اس مسلسل برداشت اور مستقل جد و جھد میں ایک سو پچاسی دن گزر چکے ہیں۔

ان کشمیری مظلوموں کی نفسیاتی کیفیت اور معاشرتی حالت، خوراک، بیماری، اموات اور جھد مسلسل کسی بھی طرح شعب ابی طالب کے محصورین سے کسی طرح کم نہی ہے۔ بلکہ اگر تجزیہ کیا جائے، مثلاً شعب کے محصورین میں حضور اقدسﷺ کی ذاتِ مبارک موجود تھی جبکہ کشمیریوں کے پاس نظریہ آزادی اور کلمہ طیبہ ہے۔ شعب میں محصورین کے جان باز ساتھی، جان نثاری کے لئے ہمہ وقت تیارتھے تو کشمیر میں عوام، ایک نظریہ آزادی اور زندگی کی بقا کے لئے خود بر سرِپیکار ہیں۔

شعب ابی طالب کے محصورین کی مدد کبھی کبھار باہر سے ہو بھی جاتی تھی کیونکہ اہلِ قریش کے بہت سے افراد کے قریبی رشتے دار ان محصورین کے ساتھ قید تھے۔ جہاں تک اہلِ کشمیر کا تعلق ہے تو یہاں پوری وادی اور تمام عزیز و اقارب ہی قید میں ہیں۔ بیرونی روابط کا مقاطع ہے۔ باہر کی دنیا کی مدد نعروں اور تقاریر تک محدود ہے۔ ان کے بیرونی رشتے دار اگر ہیں بھی تو وہ اتنے طاقور نہیں جیسا کہ محصورینِ شعب کے اقارب تھے۔

شعب کے محصورین کو باہر سے خطرہ اگر تھا تو اس کی حفاظت کا بند و بست بھی کیا گیا تھا جبکہ محصورینِ کشمیر کے گھروں پر، تلاشی کے نام پر مسلح بھارتی فوجی کسی بھی وقت، حملہ کر کے نوجوانوں کو شہید کر دیتے ہیں۔

محصورینِ شعب کے بچوں کی بھوک سے بلکتی ہوئی سسکیاں، بیماروں کی کربناک آوا زیں، اموات پر چیخ و پُکار، جب شعب سے باہر آتیں تو کفار مکہ خوش ہوتے اور مذاق اُڑاتے کہ اب یہ محصورین ہار مان کے حضرت محمد ﷺ کو ہمارے حوالے کر دیں گے مگر یہ اپنے موئقف پر قایم رہے۔ کشمیری عوام بھی، اپنے نظریہ آزادی اور اسلام کی خاطر ایک سو پچاسی دن سے تمام صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور کفار اس محاصرے اورقبضے پر خوش ہیں اور ہم مسلماں ذاتی تصاویر اور تقاریر سے اور نعروں سے محصورینِ کشمیر کی مدد فرما کر، کشمیریوں کو زیرِ احسان کر رہے ہیں۔

خلاصہء کلام یہ ہے کہ: اک نظریہ کی خاطر، خود آنحضرت ﷺ اور اہلِ اسلام نے تین سال صعوبتیں برداشت کیں اوریہ وہ زمانہ ہے جب ظلم کو ہاتھ سے روکنے والے جان باز موجود تھے پھر بھی تین سال میں اس محاصرہ کے خلاف کچھ لوگوں نے آواز اُٹھائی۔ طے پایا کے معاہدہ کو پھاڑ دیا جاے گا۔ جب لوگ اس معاہدہ کو پھاڑنے گئے تو دیکھا کہ معاہدے کو دیمک کھا گئی تھی سوائے اس حصؔے کے جس پر اللہ کا نام لکھا تھا۔ اس طرح اس معاہدہ کے خاتمے کی بنا پر یہ دورِ ابتلا کا محاصرہ ختم ہوا۔

کشمیری عوام کا نظریہ، جس کے لئے سات دہایؤں سے وہ لڑ رہے ہیں۔ اب ایک سو پچاسی دِن سے شعب ابی طالب جیسے حالات میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کب مددِ خداوندی آئے، ہمارے دلوں پر لکھے معا ہدہ بے حسی کو دیمک چاٹ لے۔ اورکہیں ایسا نہ ہو کہ ایک سو پچاسی دن کی طوالت تین سال نہ ہو جاے۔

صاحبان، دورِ حاضر میں شاٰئد وہ زمانہ ہے جس میں ہم غالباً اس زمانے سے بھی پرے ہیں جہاں ظلم کو دل میں بُرا سمجھنے کا دور بھی ختم ہو چکا ہے۔ ظلم کے خلاف ہمارا رویہؔ، تصاویر و تقاریر، ہاتھوں کی زنجیروں، روڈ بلاک، زبانی ں عرے بازی کے بعد اپنی ذاتی تصاویر پر تبصروں اور ستایئشی جملوں، ویڈیو کلپس کی اپلوڈنگ، اخبارات کی کٹنگ کا البم بنانے اور پھر ان اخراجات کے جعلی بل بنوا کر، جیب بھرنے، اور پھر کسی نئے فنکشن کی تیاری تک محدود ہو کر رہ گے ہے۔

کشمیر کی محصوری کو ایک سو پچاسی دِن ہو چکے، ظلم و بربریت کے دن اور رات، ہر لمحہ شعبِ ابی طالب کے مظالم کی باز گشت و یادگار۔ مگر کوئی فرد نہی، کوئی قوم نہی، کوئی یونائیٹڈ نیشنز کی مشترکہ طاقت نہیں، جو کعبے کی دیمک جتنی طاقت رکھتی ہو، جو کہ کشمیر کے ظالمانہ معاہدہ کو چاٹ سکے۔

اس دور کے ہم ”صُم“، ”بُکم“ اور ”دلوں پر مہروں والے“ لوگوں نے یومِ یک جہتی منانا ہے، تصویریں بنوانی ہیں اور اپنے کاموں میں مصروف ہو جانا ہے۔ اور کشمیریو۔ آپ کو آزادی چاہیے تو خود لڑو اور مرو۔ ہم یومِ یک جہتی منا چکے، ہماری تصویریں چھپ چکیں، مقالے چھپ چکے، پروگرام آن ایئر ہو چکے، تم جانو تمھاری آزادی و غلامی جانے۔ آپے ای جاگدے رہنا، کسے ہور تے نہ رہنا۔

رکھیو غالب مجھے اِس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *