چین پر ہمیشہ کی طرح اب بھی اعتماد کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچی بات ہے شورش کا یہ شعر ”طوائف گھری ہوئی ہے تماش بینوں میں“ اِن دنوں مجھے خود پر اور ملکی حالات پر بڑا فٹ بیٹھتا نظر آتا ہے۔

گذشتہ کچھ دنوں سے ایکا ایکی ذاتی مسائل کے اژدہام نے یو ں طنابیں چاروں اور کَس دیں کہ ارد گرد بکھرے چیختے چنگھاڑتے واقعات کہیں پس منظر میں چلے گئے تھے۔ چلو کچھ سانسیں درست ہوہیں تو احساس ہواملک میں آٹے کا بحران ہے اور خیر سے ایف آئی اے نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بنی گالا میں رہنے والے بادشاہ کی بے نیازی کاتو کچھ پوچھیں مت پہلے تو اُسے خبر ہی نہ ہوئی کہ آٹا نام کی کوئی چیزمہنگی ہوگئی ہے۔ صدقے جاؤں اس تجاہل عارفانہ کے۔

ابھی اس بیان پر ہی لتّے لئے جارہے تھے کہ ایک اور ایسا ہی شوشا پھر سامنے آگیا کہ شہنشاہ سلامت کا اپنی تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا۔ اب غصہ جتنا مرضی آئے۔ کمہا ر پر تو نکلتا نہیں کھوتی پر ہی نکلے گا۔ اب بھئی کھوتیاں تو ہم بیچارے غریب عوام ہی ہیں نا۔ ابھی اسی پر بس نہیں ہوئی سرکاری درباری بھی ترنگ میں آگئے۔ اپنے لئے مزید آسائشوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا بلکہ اپنے بچوں کی عیاشیوں کے لئے مطالبات بھی شروع کر دیے۔ ہائے کہیں ڈوب مریں جاکر۔ ان کے پیٹ ہیں یا کنوئیں۔

اب ان سب بے شرموں کی ڈھٹائی، کمینے پن اور نالائقیوں کو ایک طرف کرتے ہوئے عالمی سطح پر پھیلی ایک اور خبر نے چونکا کر رکھ دیا۔ دوست اور ہمسایہ ملک آناً فاناًقدرتی آفت کی زد میں آگیا۔ ہاتھ کلیجے پر پڑا کہ اکلوتی بیٹی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ چین میں ہے۔ آفت زدہ شہر ووہان بیجنگ سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں۔ دنیا کی معاشی سپر پاور کے ہاں کرونا وائرس کے ناگہانی ظہور نے تھرتھلی مچا دی۔ بیٹی سے بات چیت سے اُن کی خیریت پتہ چلی اور کچھ حالات سے بھی آگاہی ہوئی۔

بیٹی کے لہجے میں ملال کی آمیزش تھی جب وہ باتیں کرتی تھی۔ بیجنگ جیسا بڑا بارونق شہر ویران اور اُداس نظر آرہا ہے۔ کالج سکول یونیورسٹیاں سب 17 فروری تک بند ہیں۔ جنوری کا آخری ہفتہ چینیوں کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ چھٹیاں ہوتی ہیں اور لوگ اپنی آبائی جگہوں پر ملنے ملانے اور موج میلے کے لئے جاتے ہیں۔ اب جو جہاں ہے اُسے وہیں روک دیا گیا ہے۔

جذباتی اور خالی خولی نعروں اور خبروں پر پلنے اور چلنے والی اس بے عملی قوم کی یہ بوڑھی پاکستانی عورت بھی تو نری جذباتی ہے۔ بے اختیارسوچنے لگی ”لو اب تو خدا یاد آرہا ہوگا۔ “ گذشتہ سال کے مارچ میں اپنے بیجنگ قیام میں آئن سے ملنا یاد آیا تھا۔ تیس بتیس کے ہیر پھیر میں یہ عورت مجھے DRC کے پارکنگ ایریا میں ملی تھی۔ جو خدا پر یقین رکھتی تھی برطانیہ کے چرچ آف گاڈ سے منسلک تھی۔ مجھ سے پوچھتی تھی کیا میرا بھی اس پر یقین ہے۔ باتیں کرتے کرتے آسمان پر نظریں ڈالنانہ بھولتی۔ اور گفتگومیں قدرے محتاط بھی تھی۔

”ارے لو ایسا ویسا یقین۔ ہمارے تو سارے معاملات ہی وہ چلا رہا ہے۔ اب بیتابی سے بیٹی سے پوچھا کہ ایسے قیامت جیسے وقت میں انہیں خدا تو یا د آرہا ہوگا۔ انسان کتنابھی مضبوط اور طاقتور کیوں نہ ہوجائے۔ مصیبت اور پریشانی میں کسی کے کندھے پر سر رکھ کر رونے کی ضرورت تو ہوتی ہے نا۔

بیٹی ہنسی۔ ارے نہیں۔ یہ قوم بے حدمستعدی سے دفاعی انتظامات میں مصروف ہے۔ ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کی انہیں فرصت نہیں۔ خیال نہیں۔ چاہت نہیں۔ اسپتال بنا رہی ہے۔ برف باری میں نمک پھینک کر سڑکیں صاف کررہی ہے۔ معمول کے سب کام انتہائی ذمہ داری سے سر انجام دینے میں مصروف ہے۔ باہر بس ضرورت اور اپنے کام کی ادائیگی کے لئے نکل رہی ہے۔

بیٹی نے مزید کہا ابھی میں ایک پاکستانی چینل پر پاکستانیوں کا واویلا سُن رہی تھی چین میں تعلیم پانے والے بچوں کے والدین کا بھی بہت اصرار تھا کہ اُن کے بچوں کو فوری واپس لایا جائے۔ ووہان میں اُن کی خاصی تعداد ہے۔ میری ایسے تمام والدین سے التجا ہے کہ وہ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کریں کہ یہاں بہتریں طبی سہولتیں ایک منظم اندازسے دی جارہی ہیں۔ پاکستان میں ایسے کسی شخص کا داخلہ جو اس بیماری کا شکار ہوگیا ہے۔ خطر ناک ہوسکتا ہے۔ کہ وہاں تو طبی سہولتوں کا وہ معیار ہی نہیں۔

ابھی وہاں پڑھنے والا ایک پاکستانی طالب علم جو چھٹیاں گزارنے شنگھائی گیاہوا تھا۔ کروناوائرس کے جاننے پر اپنے گھروالوں کو فون کر بیٹھا کہ مجھے ٹکٹ بھیج دیں۔ ٹکٹ آگیا۔ مگر ایر پورٹ سے ہی اُسے ڈی پورٹ کیاگیا۔ تمام ٹیسٹ کر وائے۔ خوش قسمتی سے بچے کے ٹیسٹ نیگیٹو تھے۔ مگر اس کے باوجود اُسے مزید چودہ دن کے لئے روکا گیا کہ وائرس کے اثر کرنے کا دورانیہ چودہ دن کا ہے۔ ہاں ہم مسلمانوں کو اپنے دین کی اس اہم جز کی اہمیت پر مسرت ہوئی ہے کہ یہاں تاکید کی جارہی ہے۔ ہاتھوں کو دھوئیں، چہرہ دھوئیں، کلی کریں، ناک میں پانی ڈالیں۔ وضو کی ساری باتیں دہرائی اور لازمی کی جارہی ہیں۔

ہاں میں ضرور مخمصے میں ہوں۔ کرونا وائرس کا ایشو تو ابھی زوروں پر ہے کہ ایک نئے سیاپے کی بھی آمد ہوگئی ہے۔ برڈ فلوکا۔ اب بطخیں بے چاریاں دھڑا دھڑ ماری جارہی ہیں۔ سوچتی ہوں کہیں یہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی آہوں کا نتیجہ تو نہیں۔ کیسے انہیں محصور کررکھا ہے۔ کیسے اُن پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں، کیسے انہیں فضلہ کھانے کو دیا جارہا ہے۔ اوپر والا اتنا ظلم تو برداشت نہیں کرتا۔ کسی کا ہو نہ ہو ہمارا تو ایمان ہے بھئی۔

چلیں چھوڑیں۔

ایک اور اہم مسلے نے توجہ کھینچی ہے۔ امریکہ کی فلسطینی ریاست بارے تجاویز اور پاکستان کا اظہار کہ فلسطینی ریاست قائم کی جائے تواس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔

مجھے ہنسی آئی ہے ایسے احمقانہ بیان پڑھ کر۔ بیان دینے والے کو تاریخ سے ذرابھر بھی آگاہی نہیں کہ اسرائیلی حکومت نے ایسے احمقانہ بیانات پرکیا کہا ہوگا۔ بیت المقدس کا مطلب یروشلم ہے۔ یروشلم جو صہیونیوں کا دل ہے۔ اُن کی روح ہے۔ ان کا دوہزار سال پر انا خواب تھا جس کے لئے ہرصہیونی کے لئے یہ کہنا لازم تھا کہ وہ اپنادایاں ہاتھ اٹھاکر یروشلم کامرثیہ پڑھے۔

”اے یروشلم اگر میں تجھے بھول جاؤں تو میرا دایاں ہاتھ مفلوج ہوجائے۔ “

اس یروشلم کو حاصل کرنے، ارض کنعان کو اپنا ملک بنانے کے لئے انہوں نے کتنے پاپڑ بیلے۔ کتنی محنت کی۔ اس کی کیا تفصیل۔

1905 ء میں خطہ فلسطین کے نقشے پر چاول کے دانوں کی طرح کہیں کہیں بکھری یہ یہودی قوم آج ایک صدی بعداس حالت میں ہے جیسے کبھی فلسطینی تھے۔ اتنی امیر عرب ریاستوں کے ہوتے ہوئے کیسی کسمپرسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

اور آج جب وہ اس قدر طاقت ور بن چکے ہیں کہ آپ کا قبلہ و کعبہ، آپ کے مربی و مرشد کے اس سے خفیہ تعلقات خاصی اہمیت حاصل کیے بیٹھے ہیں۔

بیشتر اسلامی ملک اُسے تسلیم کرچکے ہیں۔ آپ باتیں کرتے ہیں بیت المقدس کو فلسطینیوں کو دینے کی۔

جان لیجیے۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو نہیں مستقبل کے خوابوں کی چمک ہے کیسنٹ ( اسرائیلی پارلیمنٹ) کے مرکزی دروازے پر لگے اسرئیلی ریاست کے نقشے کی ابھی حدودکا تعین نہیں ہے۔ اپنے ہمسائیوں کو وہ ہڑپ کرنے کا متمنی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *