یارانے سے love تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ ایسا ہوتا ہوگا لیکن اس کے بارے وہی بتا سکتے ہیں جنھوں نے کی۔ ہم نے تو محبت جیسی کسی قباحت کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا کہ یہ مضبوط دل گردہ رکھنے والوں کا کام ہے، اور اسے آپ اتفاق کہہ لیں کہ میری یہ دونوں چیزیں خاصی کمزور ہیں۔ ویسے مجھے یہ حسرت ہی رہی کہ میرا نام بھی محبت کرنے والوں میں شامل ہوتا، اگر محبت ہو جاتی تو اور کچھ نہیں تو شاید ناکام محبت کے صدقے شعر کہہ کر شاعری کے افق پر چھا جاتی، یا پھرکوئی بے وفا کے نام سے ساری عمر یاد رکھتا۔

کاش ہم بھی محبت کرنے والے مجرموں میں شامل ہوتے، بدنام ہوتے تو کیا نام نہ ہوتا، اجی زیادہ نام ہوتا۔ لوگ صدیوں نہیں تو کم از کم دو چار دہائیوں تک تو شاید یاد رکھ ہی لیتے، ہم محبوب تک رسائی کی دُہائی دیتے اور لوگ ہمیں دیوار میں چنوانے کی سازشیں کرتے۔ کہ ان دنوں محبت کرنا کوئی تمغہ تو نہیں تھا جسے ہر کوئی سینے پہ سجانے کا آرزو مند ہوتا، بھلے دنوں کی بری بات کہ تب جرات کے ساتھ ساتھ آرزؤوں میں بھی شدید مندی کا دور تھا۔

میں ان دنوں کی بات کر رہی ہوں جب محبت کرنا جرم تھا۔ محبت یارانہ تھی اور کوئی یارانے کا نام لے تو سننے والے پر پہلے تو سکتہ ہوجاتا پھر نارمل ہونے کے بعد خود توبہ کرتا اور متاثرین محبت کو تجدید ایمان کے لئے وضو کر کے کلمہ پڑھواتا۔ ہزاروں میں کوئی ایک محبت تو کر لیتا لیکن محبت کا حصول نا ممکنات سے تھا۔ محبت کرنا مشکل امر تھا تو محبت کا حصول کیسے آسان ہوتا، بس دل کے ارمان دل ہی میں رہ جاتے۔ محبت یا یارانے نبھانے آسان نہ تھے۔

کوئی جی دار اس آگ میں بے خطر کود تو پڑتا لیکن اس کے بعد وہ شہید ہر گز نہ کہلاتا کہ اس کی قبر پہ جا کر روٹی کے ساتھ روزی کے ملنے کی منتیں مانگی جاتیں، بلکہ اس کا تو اپنا روٹی پانی گھر والوں کی طرف سے بند ہو جاتا۔ اور ان سے ایسا سلوک کیا جاتا جیسے برہمن شودروں سے کرتے۔ ابا جی دادا مرحوم کی وراثت سے ملنے والی آٹھ مکینوں کے رہنے والے دو کمروں کی جائیداد سے متاثرہ شخص کے حصے میں آتی چارپائی کے برابر قطعہ اراضی سے عاق کر دیتے۔

اور سیدھی سادھی اسلامی ماں دین کی تعلیم سے انحراف کر کے قطع تعلق کر لیتیں، کہ ایک کی دیکھا دیکھی باقی بھی اس بے حیائی کی راہ پر نہ چل پڑیں۔ محبت یا یارانہ سراسر بے حیائی و بے شرمی تصور کیا جاتا۔ اب ان بھولے لوگوں کو کون سمجھاتا کہ محبت کے لئے تھوڑا بے شرم تو ہونا پڑتا ہے۔ پھر محبت کی شادی کے بارے ایک رائے یہ بنا لی گئی کہ محبت نہ کریو کہ محبت سے کی گئی شادی کامیاب نہیں ہوتی۔ کسی بدخواہ نے یہ افواہ بھی اڑا دی کہ یہ چونکہ بزرگوں کی دعاؤں کے بغیر ہوتی ہے اس لئے ناکام ہوتی ہے۔

گھر سے بھاگنے والے ایک جوڑے نے شادی میں برکت اور کامیابی کے لئے بہت سارے بزرگوں کو جمع کر کے نکاح پڑھوا لیا لیکن وہ بھی ناکام ہوگئی، تو کسی سیانے نے وجہ ناکامی حاضر جمع بزرگوارکا رنڈوہ اور ناکام عاشق ہونا بتائی، جو اپنے ساتھی کے نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کے انتہائی اہم اور سنجیدہ کام پر اس وقت خاصے رنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔ حالانکہ بتانے والے یہ بھی بتا سکتے تھے کہ اس ناکامی کی وجہ گھر کے بزرگوں کی عدم شمولیت یا کسی دل جلے کی آہ نہیں بلکہ نئے جوڑے کی ایک دوسرے کے لئے ختم ہونے والی چاہ ہے، جو وسائل کی کمی کی وجہ سے سر اٹھانے والے مسائل کے انبار اور عدم برداشت کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے۔

محبت کو یارانہ بھی کہتے تھے لیکن اب دیسی معاشرے نے بدیسیوں کی دیکھا دیکھی اسے انگریزی میں love کہنا شروع کر دیا ہے۔ صدقے جاؤں انگریز کے جس نے لباس کے ساتھ زبان و بیان کو بھی اختصار بخشا، اور یوں یارانہ یا محبت love پہ آ کر آسان ہوگئی۔ ورنہ تو محبت یا یارانے کو عذاب قبر کی طرح جھیلنا پڑتا تھا، جس سے نہ باہر نکل سکتے تھے نہ جان چھڑا سکتے تھے۔ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے ایک شخص کو کہنے میں جتنی دقت اور وقت لگتا، اب اتنے میں لو یو کہہ کر چار پانچ لوگوں سے اظہار ہو جاتا ہے پھر جس کی سمجھ میں بات آجائے تو اسی سے بات لو میرج تک بڑھا لیتے ہیں۔

کہ اب یارانہ جیسی تہمتیں کون سر لے۔ لو میرج نے ”یارانے دے ویاہ“ کو آسان کر دیا ہے یقین کریں مجھے ذاتی طور پہ لفظ یارانہ انتہائی نا پسند ہے کہ اس سے محبت کی بے حرمتی جھلکتی ہے، دوسرا ”یارانے دا ویاہ“ جیسے جملے بچوں کے سامنے تھوڑا شرمندہ کر دیتے ہیں، لو میرج کہنے میں آسانی یہ ہے کہ اس کو ادا کرتے وقت شرم و حیا جیسی چیزیں پاس نہیں پھٹکتیں، حیا سے آنکھیں جھکتی ہیں نہ سر، اور نہ شرم سے رخسار گلابی ہوتے ہیں۔

اس کو ادا کرتے وقت مشرقی مرد کے دل میں غیرت کا سمندر ٹھاٹیں نہیں مارتا، بلکہ انگریز کی چمڑی کی طرح خون سفید ہوجاتا ہے، سینہ تان کے اور گردن عجیب سے فخر کے ساتھ اکڑا کر لو میرج کا اعلان کیا جاتا ہے اور یوں بنا کسی مشکل سے گزرے لو میرج کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ لو میرج نے زندگیاں آسان کر دی ہیں جسے کل تک بے حیائی کہا جاتا تھا وہ اب سٹیٹس کی علامت بن چکا ہے۔ جس کوlove نہ ہو، لو میرج اور اس کے بعد ڈائیوورس نہ ہو اس کی زندگی پھیکی، بے رنگ اور ادھوری لگتی ہے۔

یوں سمجھیئے زمانے کے بدلتے اطوار کے ساتھ دو دلوں کی کہانی بھی بدل گئی ہے۔ اب زیادہ تر دو دل چپکے چپکے بھاگ کر ایک ہوتے ہیں نہ زیادہ تر لڑکے لڑکیوں کو سٹیشن پر تنہا چھوڑ کر خود دوسرے شہر کی ٹرین پکڑتے ہیں بلکہ سب کے سامنے ڈھول باجے کے ساتھ انھیں ایک کر کے دو ہونے کا پورا بندو بست کر دیا جاتا ہے۔ زمانہ اور زبان کیا بدلی، ماں باپ کو بھی عقل آگئی ہے، وہ سمجھ چکے ہیں کہ ”نبھنی ایناں دی کوئی نئ“ تو پھر بوٹا گالاں کڈ کے ایویں ای برا بنے۔

کہ یہ نازک سے دو دل بعد میں ایک دوسرے کے لئے اینٹ پتھر بن جاتے ہیں اور بنا کسی کی دخل اندازی کے وہ کر گزرتے ہیں جو دوسرے ان کی شادی سے پہلے چاہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ دو دل جو شادی سے پہلے ایک دوسرے کے لئے مار کھاتے تھے، اب شادی کے بعد یہ عمل ایک دوسرے پر کرتے ہیں۔ سو اب کوئی ظالم سماج بن کر ان کی راہ میں روڑے نہیں اٹکاتا، بلکہ یہ بعد میں خود ایک دوسرے کے لئے ظالم بن جاتے ہیں۔ سو اکثر والدین انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی منوانے کے لئے پہلے ان کی مان لیتے ہیں۔

اور دو دلوں کو ایک کرنے کا انتظام خوشی خوشی کر دیتے ہیں، کہ سیانے جان چکے عقل ٹھوکر کھانے ہی سے آتی ہے۔ سیانے تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ سکون صرف قبر ہی میں ملتا ہے لیکن ہیر رانجھا جیسے عاشقوں کو سکون قبر میں جاکر بھی نصیب نہ ہوا، ان کی روح قبر میں پہلے نہ ملنے پہ تڑپتی تھی لیکن اب ان کی بے سکونی وجہ دو دلوں کا آرام سے ایک ہو جانا ہے۔ وہ قبر میں یہ سوچ کر بے سکون ہیں کہ کیا تھا اگر ہمارے بزرگ بھی تھوڑی سی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے اور یارانے دے ویاہ کو لو میرج مان لیتے تو آج ہم بھی سکون سے قبر مں ہوتے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *