5 فروری کا سیاپا اور مسئلہ کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ہر سال 5 فروری بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چکوٹھی سے تیتری نوٹ اور کراچی سے خیبر تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بناتے ہیں۔ مذہبی، سیاسی، سماجی تنظیمیں ریلیاں، سیمینار اور تقریبات منعقد کرتی ہیں۔ دھواں دھار تقریریں اور خطابات ہوتے ہیں۔ روایتی کشمیری لباس میں ملبوس طلبہ و طالبات ملی نغموں اور ٹیبلوز اور ڈراموں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

آزاد کشمیر اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اپنی جوشیلی تقریروں میں چالاک، مکار اور ازلی دشمن بھارت اور ہندو کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ بلکہ روح قرار دے کر اس کی آزادی کے لیے آخری آدمی اور آخری گولی تک لڑنے کا عزم کیا جاتا ہے۔ یو این او، او آئی سی اور عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

راقم کو یہ تمام سر گر میاں رسمی، بے روح، سطحی، جذباتی اور بڑی حد تک نمود و نمائش میں ڈوبی لگتی ہیں۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کی تفہیم کا تعلق ہے تو آزاد کشمیر و پاکستان میں حکومتی سطح پر سوائے سردار ابراہیم خان مرحوم، سردار عبدلقیوم خان مرحوم اور کسی حد تک سردار عتیق احمد خان کے علاوہ کسی کو اس مسئلے کا مکمل ادراک نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کے تاریخی پس منظر سے آگاہی ہے۔ الحاق پاکستان کی گردان کرنے والے بیشتر افلاطون یہ تک نہیں جانتے کہ تقسیم کے وقت یہاں نوابی ریاستیں کتنی تھیں؟

معاہدہ قائمہ کیا ہے؟ ان ریاستوں کو کیا اختیار دیا گیا تھا؟ حیدر آباد اور گورداسپور پر انڈیا نے کس طرح قبضہ کیا؟ 18 جولائی 1947 کو جب برطانوی پارلیمنٹ نے قانون آزادیٕ ہند پاس کیا تو کیا حالات تھے؟ 12 اگست 1947 کو جب مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کو معاہدہٕ قائمہ کی پیشکش کی جسے قائد اعظم نے فوراً قبول کرتے ہوئے محض تین دن میں اس کی منظوری دے دی تھی مگر اس کے بعد کیا ہوا؟ 22 اکتوبر 1947 کو ریاست میں خانہ جنگی کا ماحول کیوں پیدا کیا گیا؟

یہی نہیں بلکہ دو روز بعد مظفرآباد میں پاکستان کی حامی آزاد کشمیر کی حکومت کے قیام کا اعلان کیوں کیا گیا؟ کیا اس اقدام کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس سری نگر جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تھا؟ ان حالات میں مہاراجہ 27 اکتوبر کو ریاست جموں و کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ نہ کرتا تو کیا کرتا؟ ہمارے قبائلی جتھوں کا کشمیر کی جنگ میں کیا کردار تھا؟ مہاراجہ کے انڈیا سے الحاق کے بعد ہمارے مجاہدین سری نگر کے دروازے پر دستک دے رہے تھے تو انڈیا نے کس کی ایما پر اپنی فوجیں کشمیر میں اتاریں اور یکم جنوری کو اس نے یو این سے مدد کیوں مانگی؟

5 فروری کو یو این نے ایک قرارداد کے ذریعے جنگ بندی کا مطالبہ کیوں کیا؟ اس کے بعد بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ کیوں کیا گیا جس کے مطابق ریاست کو دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ داخلی خود مختاری دی گئی؟ اور مودی نے 5 اگست 1919 کو اس قانون کو ختم کر کے کشمیر کو خصوصی حیثیت سے محروم کر کے اسے انڈین یونین میں کیوں ضم کیا؟ کشمیر پر یو این کی قراردادیں کیسی اور کیا کہتی ہیں؟ پنڈت جواہر لال نہرو نے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیوں کیا تھا؟ یہ قراردادیں حقیقی ہیں یا فرمائشی؟ ان پر عمل درآمد ممکن بھی ہے یا نہیں؟ کیا ہم استصواب کی شرائط پوری بھی کر سکتے ہیں یا نہیں؟

اس طرح کے بے شمار سوالات اور معاملات ہیں جن سے یہ جذباتی قوم آشنا نہیں۔ مگر نعرے لگاتی ہے بزور شمشیر کشمیر آزاد کروانے کے۔ یہ جانے بغیر کہ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا ہے اور کشمیر پر بھارت کا کنٹرول کس قدر مستحکم ہو چکا ہے؟ تحریک آزادی کس قدر نیم جان ہو چکی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مودی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے اقدام کے خلاف وہاں ایک بھی بھرپور اور جاندار احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

ادھر ہماری حکومت کشمیر کی آزادی کے لیے سیاسی، اخلاقی، سفارتی اور عسکری محاذوں پر جو ”کارہائے نمایاں“ انجام دے رہی ہے وہ سادہ ترین الفاظ میں گونگلوٶں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہم کشمیر لشکر کشی سے حاصل نہیں کر سکتے۔ سفارتی محاذ پر ہماری حالت یہ ہے کہ برادر اسلامی ممالک سمیت درجن بھر ملکوں کی حمایت بھی ہمیں حاصل نہیں۔ سیاسی جدوجہد بھی اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ دریں حالات راقم یہی مشورہ دے گا کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد ختم کریں۔

ماٶں کی گودیں مت اجاڑیں۔ ان دریدہ قسمت ماٶں کا خیال کریں جو اپنے بچوں کی شہادت، گمشدگی اور مفلوج ہونے کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن رہی ہیں اور جن کی شرح 34 فیصد ہے۔ انہیں انڈیا کے پرچم تلے امن و آشتی سے زندہ رہنے دیں۔ انہیں مذہبی، سیاسی، سماجی، تعلیمی، معاشرتی غرض ہر قسم کی آزادی میسر ہے۔ وہاں کم از کم ننھے طلبہ و طالبات کو مسجد یا مدرسے میں محصور کر کے فاسفورس بموں سے تو بھسم نہیں کیا جاتا ہے؟ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے قائدین کا لائف سٹائل اور تحریر و تقریر کی آزادی کا احوال ہی دیکھ لیں کہ وہ ہم سے بہتر نہیں تو بدتر بھی نہیں ہیں۔

انڈیا مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہے اس لیے کہ وہاں ہر سال مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کشمیریوں کے لیے آزادی مانگنے والوں کی اپنی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ یہاں اقلیتوں کی شرح 23 فیصد سے کم ہو کر تین فیصد رہ گئی ہے۔ کشمیریوں کو واقعی آزادی حاصل کرنا ہے تو انہیں اپنے اندر کوئی قائد اعظم پیدا کرنا ہو گا۔ اس سے قبل مسئلہ کشمیر کے حل کے دو سنہری موقعے آپ ضائع کر چکے ہیں۔ ایک اس وقت جب واجپائی نے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر پاکستان کو تسلیم کیا تھا اور دوسرا اس وقت جب نریندر مودی اچانک لاہور اترا تھا۔ تیسرا موقع راقم کو عشروں تک نظر نہیں آ رہا۔

یہ مایوسی نہیں حقیقت پسندی ہے۔ راقم کو غداری کا سرٹیفکیٹ عطا کرنے سے قبل سوچیے گا ضرور۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *