پروفیسر عبید صدیقی: منہ پھٹ، باغی یا آزاد منش؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریبا پانچ ماہ پہلے پروفیسر عبید صدیقی نے سوشل میڈیا پر فرحت احساس کا ایک شعر شیئر کیا۔

میں رونا چاہتا ہوں، خوب رونا چاہتا ہوں میں

پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

9جنوری کی ایک سرد اور دھندلی صبح وہ ابدی نیند سو گئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جہاں انہوں نے بطور استاد لمبا عرصہ گزارا، اسی کے قبرستان میں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایک عجیب سی سیمابیت اور تیزی عبید صاحب کی شخصیت کا جزو تھی، اسی کا اظہار ان کے سفر آخرت میں بھی نظر آیا۔ گھر والوں کے مطابق مختصر سی علالت کے بعد ہی عبید صاحب راہی ملک عدم ہو گئے۔

عبید صاحب سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں ماسٹرس ان ماس کمیونی کیشن میں داخلے کے لئے انٹرویو پینل کے سامنے پیش ہوا۔ عبید صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر تھے۔ زیادہ تر سوال انٹرویو پینل کے دوسرے ممبران نے کیے۔ عبید صاحب نے اپنی بھاری بھرکم آواز میں بس اتنا پوچھا کہ آپ اس کورس میں داخلہ کیوں چاہتے ہیں؟ میں نے مختصر لفظوں میں اپنی بات رکھی۔ عبید صاحب نے میری بات ختم ہونے پر صرف گردن ہلائی۔

ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا کہ میرا جواب انہیں کیسا لگا؟ انٹرویو کا نتیجہ آیا تو میرا انتخاب ہو گیا تھا۔ اس کے بعد پورے دو برس تک ان سے تقریبا روز آمنا سامنا ہوتا تھا۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص طرح کا رعب و دبدبہ تھا جس کی وجہ سے ان سے دعا سلام کرنے کے لئے بھی ہمت جٹانی پڑتی تھی۔

عبید صاحب بڑی تہ دار شخصیت کے مالک تھے۔ حساس دل شاعر عبید صاحب کو دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہوتا تھا کہ یہی وہ عبید صاحب ہیں جو بطور ڈائریکٹر سخت مزاج منتظم معلوم ہوتے ہیں۔ ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر جسے ہم ایم سی آر سی کہا کرتے تھے، اس میں ہونے والے کسی بھی پروگرام یا لیکچر میں، میں نے انہیں بھول کر بھی انگریزی کے سوا کچھ بولتے نہیں دیکھا۔ ایسے میں کون کہ سکتا ہے کہ یہ شخص اردو کا ایک اچھا شاعر ہی نہیں بڑی شگفتہ نثر بھی لکھ سکتا ہے۔

عبید صاحب کی شخصت کے دو تعارف ہیں۔ پہلا بطور شاعر اور دوسرا بطور صحافی۔ دونوں ہی جگہ عبید صاحب نے بڑی کامیابی پائی۔ بی بی سی اردو سروس میں دس برس سے زیادہ کام کیا، ریڈیو کشمیر میں خدمات انجام دیں، این ڈی ٹی وی اور ای ٹی وی سے وابستہ ہوئے اور جرنلزم کے پروفیسر کے طور پر صحافی تیار کیے۔ شاعر کے طور پر عبید صاحب نے بڑا معیاری سرمایہ چھوڑا۔ انہوں نے ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ عنوان سے اپنا دیوان ترتیب دیا۔

عبید صاحب کی تمنا تھی کہ اپنے دیوان کی پہلی کاپی اپنی والدہ کو دیں لیکن اشاعت سے چند روز پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں۔ اس حادثے نے عبید صاحب کا دل زخمی کرکے رکھ دیا۔ انہوں نے غزل کے رنگ میں اپنی مرحوم والدہ کے لئے کچھ اشعار کہے۔ اس غزل میں عبید صاحب کی شخصیت کا ایک اور رنگ ظاہر ہوا اور وہ تھا ایک اداس بچے کے احساسات۔ میں نے وہ اشعار پڑھے تو گویا میرے دل میں ترازو ہو گئے۔

دکھانا تھا یہ دل دکھایا نہیں

کہ تم سو گئے تھے جگایا نہیں

بہت دیر تک سامنے میں رہا

مگر پاس تم نے بلایا نہیں

بہت آج آنکھوں کو دقت ہوئی

کبھی تم نے رونا سکھایا نہیں

عبید صاحب کا مشاعروں میں بہت کم آنا جانا تھا البتہ سوشل میڈیا کے ذریعہ وہ اپنا کلام تواتر سے شیئر کیا کرتے تھے۔ ان کی مشق سخن طالب علمی کے دور سے جاری تھی۔ علی گڑھ میں شہریار کی رہنمائی اور فرحت احساس، آشفتہ چنگیزی اور مہتاب حیدر نقوی جیسے سخنوروں کی رفاقت نے شعری طبیعت میں امنگیں بھر دیں۔ نوجوانی میں عبید صاحب کے کلام پر رومانیت کا رنگ نظر آتا رہا۔

شام ڈھلے آنکھوں میں آنسو لانا مت

میں جلدی لوٹ آؤں گا گھبرانا مت

رم جھم کرتی بادل جیسی آنکھیں یاد آتی ہیں

دیکھو اگر کوئی دامن کھینچے، عزم سفر مت کرنا

اک یاد وہ ہوتی ہے سہانی نہیں ہوتی

اور اس پہ ستم یہ کہ بھلانی نہیں ہوتی

عمر جیسے جیسے پختہ ہوئی عبید صاحب کی شاعری کے ڈسکورس میں بھی ایک شفٹ نظر آنے لگا۔ انہوں نے زندگی کی حقیقت کو بڑے ڈھنگ سے شعروں میں بدل دیا۔

کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی

زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی

عمر رواں کے روز تقاضے نئے نئے

جو کام رہ گیا وہ کبھی ہو نہیں سکا

سنے گا کون اب یہ داستانیں

حقیقت خود حکایت ہو گئی ہے

ان دنوں محکوم کرتے ہیں اسی پر گفتگو

کس لئے پیدا ہوئے تھے اور کیا کرنے لگے

عبید صاحب کی زندگی، ان کی شخصیت کی طرح دھوپ چھاؤں سے عبارت رہی۔ ہر چند کہ وہ حوادث کا رنگ اپنے چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے لیکن جب وہ اس طرح کے اشعار شیئر کرتے تو بہت کچھ سمجھ میں آ جاتا تھا۔

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

کسی نے کہا ہے کہ اپنی پسند کی زندگی جینے کی ایک قیمت ہوتی ہے جو نناوے بار نہیں دینی پڑتی لیکن ایک بار دینی پڑتی ہے۔ عبید صاحب نہ یہ قیمت کئی بار دی۔ وہ اپنی طبیعت سے سمجھوتہ کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ ان کے موقف یا عمل کے بارے میں دنیا کیا سوچے گی اس کی انہیں زیادہ پرواہ نہیں تھی اسی لئے انہوں نے دوست بھی بنائے اور لوگوں کو اپنے خلاف بھی خوب کیا۔ اپنی شرطوں پر زندگی بسر کرنے کا ان کا یہ رنگ بہت سوں کو باغیانہ مزاج معلوم ہوا اور بہت سے اسے لا ابالی پن سے تعبیر کرتے رہے۔

عبید صاحب کی زندگی میں وصال کے بعد ہجر کے موسم آئے۔ انہوں نے بڑے حوصلے سے بدلتے موسموں کو قبول کیا۔ میرا ان سے آخری رابطہ اس وقت ہوا جب میں نے ان کے پتے پر ڈاک سے اپنی کتاب بھیجی۔ چند دن بعد ان کا ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں انہوں نے کتاب کے لئے مبارکباد دی اور پڑھ کر رائے دینے کا وعدہ کیا۔ اس واقعہ کے دو ماہ بعد مجھے خبر ملی کہ عبید صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی عمر ایسی نہیں تھی کہ یوں چلے جانے کا اندیشہ ہو اس لئے یقین نہیں آیا۔ میں نے اپنے پروفیسر، متین احمد صاحب کو فون کیا تو انہوں نے سانحہ کی تصدیق کی۔

برسوں تک یوں ہوا کہ روز صبح ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر کی گاڑی انہیں لانے کے لئے جامعہ سے غازی آباد جایا کرتی اور شام میں انہیں گھر چھوڑ آتی۔ انتقال کے اگلے روز 10 جنوری کو عبید صاحب کو ان کے گھر سے گاڑی میں تدفین کے لئے اس قبرستان میں لایا گیا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس سے ایک دم متصل ہے۔ برسوں تک گھر سے جامعہ آنے جانے والے عبید صاحب اُس روز جامعہ آئے لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ اب وہ شام کو گھر واپس نہیں جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 99 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *