یوم یکجہتی اور آزادی کا سفر!
یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت کیا ہے؟ کیا صرف یوم یکجہتی کشمیر منا کر کشمیر کی آزادی کا سفر، جس کی تاریخ لاکھوں شہیدوں کے خون، سے لکھی ہوئی ہے طے کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو اِس بات کا عزم کیا جاتا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر سرکاری طور پر پہلی دفعہ 1990 میں قاضی حسین کی اپیل پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف نے اخبار میں اشتہار کے ذریعے عوام سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کشمیر منانے کا مطالبہ کیا۔
بعدازاں اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا۔
5 فروری 1990 کو پاکستان بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی منایا گیا ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا اور مظلوم کشمیریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ جگہ جگہ مظلوم کشمیری عوام کے لئے دعاوں کا اہتمام کیا گیا۔
کیا ہی اچھا ہوتا اُس وقت یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کے بجائے 11 فروری یوم شہادت کشمیری رہنما مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر منایا جاتا جموں کشمیر میں لبریشن فرنٹ اور آزادکشمیر میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تحریک اُس وقت عروج پر تھی، اُس دن اظہار یکجہتی سے اس تحریک کو مزید تقویت ملتی، اور اب تک لاکھوں کشمیری بے گھر ہونے، لاکھوں مائیں بیوہ ہونے، لاکھوں بچے یتیم ہونے، سے بچ جاتے، لاکھوں بچیوں کی عزتیں پامال ہونے سے بچ جاتیں۔
پاکستانی عوام کی کشمیریوں سے محبت اور عقیدت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا لیکن قائد اعظم کے بعد کسی حکمران سے کشمیر کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا یہی وجہ ہے کہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہش کے عین مطابق حل کی طرف جانا چاہیے اس ضمن میں کشمیری قیادت کو اپنا سفارتی، قانونی اور آئینی حق دے دینا چائیے تاکہ وہ اس مسئلے کو International Court of Justice میں لے جائیں، اس سے پہلے مسئلہ کشمیراقوام متحدہ میں پاکستان اور انڈیا کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا، جو کشمیری عوام کے حق میں سودمند ثابت نہ ہو سکا، یہ وہ واحد حل ہے جس سے کشمیری آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔
کشمیر ثقافتی، اور تہذیبی لحاظ سے اپنی ایک حیثیت رکھتا ہے، کشمیر کی اپنی پہچان اور تایخ ہے، اس میں کوئی دورائے نہیں کشمیری قوم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی، تحریک پاکستان میں کشمیری بزرگوں کا اہم کردار رہا۔ ہر مشکل گھڑی میں کشمیریوں کی نظریں پاکستان پر ہوتیں ہیں، موجودہ حکومت کا کردار کشمیر کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزاء نہیں۔
یہ بات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی ہم دنیا کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ کشمیر اسلام اور کفر کی جنگ نہیں آزادی اور حق خودارادیت کو اسلام اور کفر کی جنگ قرار دینا کہاں کی انصافی ہے۔
کشمیر کی جنگ پاکستان کے بقاء کی جنگ ہے حالات اس بات کا تقاضا کرتے کہ ہمیں یوم یکجہتی کشمیر سے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔


