علم و عمل کی تصویر، نامور تعلیمدان۔ پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نامور تعلیمدان اور مثالی مُعلّم، پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو تھے تو سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں ریاضی کے اُستاد، مگر اُن کا شمار بجا طور پر اُن اساتذہ میں ہوتا تھا، جو طلبہ و طالبات کی کردار سازی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمّہ داریوں کا اہم حصّہ سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے مذکُورہ مادرِعلمی سے فارغ التحصیل ہونے والا ہر طالب یا طالبہ نہ صرف پروفیسر دھونئرُو کے نام، بلکہ اُن کے اعلیٰ کردار اور اوصاف کو نہ صرف جانتا ہے، بلکہ اُس کا معترف بھی ہے، چاہے وہ اُس یُونیورسٹی کے کسی بھی شعبے سے متعلق رہا ہو۔

اپنے خاندان، اور متعلقین کے لیے تو ہر کسی کا کردار مثبت رہتا ہی ہے، مگر اپنے گاؤں، اور اُس کے آس پاس کے علاقوں اور وہاں کے باشندوں کے لیے رہنمائی، تعلیمی آگہی اور اچھے کاموں کی تبلیغ اور اچھی روایات و اقدار کو عام کرنے کے حوالے سے جتنی کوششیں پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو نے کیں، اُتنی کوششیں کرنے والا ایک فرد بھی ہر شہر اور دیہات میں، ہر دور میں ہو تو اس معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

28 فروری 1944 ء کو ضلع نوشہروفیروز میں بِھریا۔ ٹھارو شاہ لنک روڈ سے مُلحقہ واقع اپنے آبائی گاؤں، ’گوٹھ عُمردھونئرُو‘ میں حاجی خان دھونئرُو کے گھر میں جنم لینے والے، محمّد حسن کا شمار، بچپن ہی سے ذہین نونہالوں میں ہوتا تھا۔ والدِ محترم نے اُن کی رسمی، شعُوری خواہ اخلاقی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور اپنے بچّے کو مُستقبل کا قابل معمار بنانے کے لیے بہت سے گھرانوں کی روایات کے برعکس کام کاج یا کاروبار میں مصرُوف کرنے کے بجائے، پانچ برس کی عمر میں پاس ہی میں واقع ”دالی“ نامی قصبے کے سرکاری پرائمری اسکُول میں داخل کرایا۔

یہ سال 1949 ء کی بات ہے، جہاں سے وہ 1954 ء میں پرائمری تعلیم کامیابی کے ساتھ مکمّل کرنے کے بعد، معرُوف عوامی سندھی گلوکار، ماسٹر چندر کے آبائی قصبے ’ٹھارُوشاہ‘ میں قائم گورنمنٹ ہائی اسکُول میں داخل کرائے گئے، جہاں سے میٹرک نمایاں نمبروں میں پاس کر کے، وہ نہ صرف اپنے خاندان کے ہم عمروں، بلکہ اپنے علاقے اور اُس کے گردونواح کے اُن چند نوجوانوں میں شمار ہوگئے، جنہوں نے دس سالہ تعلیمی سفر کامیابی اور مُستقل مزاجی سے مکمل کیا ہو، کیونکہ اس دور تک تعلیمی شعور اتنا عام نہیں ہوا تھا، خاص طور پر اس نو زائدہ ملک کے دیہی علاقوں میں نہ صرف معیاری تعلیمی ادارے کم تھے، بلکہ والدین میں بھی اپنے بچّوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا رُجحان ابھی اتنا عام نہیں ہواتھا۔

میٹرک کرنے کے بعد دھونئرُو صاحب، سیکنڈری تعلیم کی غرض سے نوابشاہ پہنچے (اُن دنوں تک موجُودہ نوشہروفیروز نے ابھی ضلع کی حیثیت حاصل نہیں کی تھی اوریہ علاقہ نوابشاہ ضلع کی حُدُود میں آتا تھا۔ ) نوابشاہ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں اُنہوں نے چار سال مُسلسل علم کے چشمے سے گُھونٹ پیے، جہاں سے انہوں نے 1973 ء میں حیدرآباد بورڈ سے انٹر، اور اسی کالج کے توسط سے، جامعہ سندھ جامشورو سے 1975 ء میں گریجوئیشن کیا۔

جس کے بعد بھی اُن کی علمی پیاس نہیں بُجھی اوراپنے پسندیدہ مضمُون ریاضی ہی میں مزید مہارت حاصل کرنے کے لیے، وہ براہِ راست یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے شعبہء ریاضی میں داخلہ لے کر ماسٹرس کے طالب العلم بن گئے، جہاں سے اپنی محنت، لگن اور عرق ریزی کے نتیجے میں، انہُوں نے 1978 ء میں ’خالص ریاضی‘ (پیور میتھیمیٹکس) میں ”ماسٹر آف سائنس“ (ایم ایس سی) کی ڈگری حاصل کی۔ پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو، سندھ یونیورسٹی جامشورو میں طلبہ سیاست میں بھی خاصے سرگرم رہے، اور انہوں نے صدر ایُّوب کی جانب سے نافذ کیے جانے والے ون یُونٹ کے خلاف چلنے والی سیاسی تحریک میں بہت سرگرمی کے ساتھ حصّہ لیا۔

جب اسی تحریک کے تحت سندھ بھر کے ریلوے اسٹیشنز پر، راتو رات ہر اسٹیشن کا نام، پہلے سے لکھے ہوئے سائنز پر چُونے اور سفید رنگ کے آئل پینٹ کے ساتھ مِٹا کر سندھی میں وہی نام تحریر کرنے کی تحریک چلی، تو یہ خطرناک کام کرنے والے طلبہ کے جَتھوں میں نوجوان، مُحمّد حسن دھونئرُو بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ حسن علی عبدالرحمٰن، غلام مصطفیٰ شاہ اور شیخ ایاز جیسی اہم شخصیات کی جامعہ سندھ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے سیاسی کشمکش والے ادوار میں پروفیسر دھونئرُو کی مختلف سیاسی تحریکوں میں شرکت اور سرگرمی اُن کی حیات کے اہم ابواب ہیں۔

70 ء کی دہائی کے اواخر کے تعلیمی کم رُجحان والے اُس دور میں ریاضی جیسے مشکل سمجھے جانے والے مضمُون میں ماسٹرز کرنے والے انتہائی کم طلبا و طالبات میں شمار ہونے والے، محمّد حسن دھونئرُو کی تعلیمی قابلیت کی بنا پر اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور پوسٹ گریجوئیشن کے فوراً بعد اُسی برس 25 جُون 1978 ء کو، وہ سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں ریاضی کے لیکچرر مُقرر ہوئے۔ یہ پاکستان میں طویل مارشل لاء کے سیاہ دور کا آغاز تھا۔

اس مادرِ علمی کے ساتھ اُن کا یہ تعلق، 28 فروری 2004 ء کو، پروفیسر کی حیثیت سے اُن کی ریٹائرمنٹ، بلکہ اُن کی وفات تک جُڑا رہا۔ 2004 ء سے 2014 ء تک وہ بعد از ریٹائرمینٹ بھی اسی مادرِ علمی میں اپنے ڈپارٹمنٹ میں ’اعزازی اُستاد‘ کی حیثیت سے پڑھاتے رہے اور فارغ بیٹھنے سے کام کرنے کو ترجیح دی۔ اس یُونیورسٹی کے ساتھ اُن کی یہی وابستگی تھی، جس وجہ سے وہ ٹنڈو جام جیسے زرخیز مٹی والے شہر میں مُستقل طور پر سکوُنت پذیر ہوئے۔ یہی وہ شہر تھا، جہاں قیام کی وجہ سے نہ صرف پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو کی اپنی اولاد بلکہ اُن کے رشتہ داروں اور متعلقین کے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُن ہی کی رہنمائی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

ہر چھوٹے بڑے کی تعظیم و احترام کرنے والے اور ہرخاص و عام کو اہمیت دینے والے، پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو نہ صرف اپنے پڑوسیوں، شہر اور ادارے کے لوگوں کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرنے کا کام تمام عمر احسن طریقے سے انجام دیتے رہے، بلکہ اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ دیگر نوجوانوں کے لئے ایک ’رول ماڈل‘ کا مقام رکھتے تھے۔ طلبہ کو اپنا مضمُون، آسان ترین انداز میں سمجھانے کا ہنر رکھنے والے، پروفیسر دھونئرُو، انتہائی برجستہ مقرر بھی تھے۔

جب وہ بولتے، سامعین کو اپنے سحر میں مُبتلا کر دیتے تھے۔ جس بزم میں وہ موجُود ہوتے، اپنی جامع گفتگُو، نَپے تُلے الفاظ، جُملوں اور عام فہم اندازِبیان کی وجہ سے مرکزِ توجّہ وہی رہتے تھے۔ کسی بھی موضوع پر بات کرتے ہوئے، سب حاضرینِ مجلس کو اُس موضوع کے حوالے سے بات کرنے کا موقع دیتے (چاہے شریکِ مجلس کی عمر، تجربہ یا علمی حیثیت کچھ بھی ہو) اور ہر کسی کے نقطہء نظر کا احترام کرتے ہوئے، پھر اپنی رائے مثالوں کے ساتھ سمجھا کر سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتے۔ اُن کی بات میں اگر کبھی طوالت ہوتی بھی تو وہ اُن کی شیریں بیانی کی وجہ سے کسی پر گراں نہیں گُزرتی تھی۔

ایسے ہی میٹھے بول بولتے ہوئے، علم اور عمل کے پیکر، یہ عظیم انسان، مثالی استاد اور نامور تعلیمدان، پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو، 9 محرم الحرام 1439 ہجری، بمطابق 30 ستمبر 2017 ء کی شام، 73 برس کی عمر پا کر، ہم سے بچھڑ کر اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے اور اُنہیں وفات کے اگلے روز 10 محرم الحرام 1439 ہجری، یکم اکتُوبر 2017 ء کو دوپہر 12 بجے کے قریب اپنے آبائی گاؤں، ’گوٹھ عُمر دھونئرُو‘ ، ضلع نوشہروفیروز، سندھ کے چھوٹے سے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

دعا ہے کہ دُنیا میں اللہ کے بندوں سے پیار کرنے والے پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو کی رُوح کو پروردگار جنت الفردوس میں اپنے قُرب اور رحمت سے نوازیں اور ہمارے معاشرے کو ہمیشہ ایسے مثالی استاد ملتے رہیں۔ (آمین! )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *