مولانا فضل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اے این پی سے الگ ہو کر نیا 6 جماعتی اتحاد بنا لیا


جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی، اے این پی اور ن لیگ کے ساتھ مشاورتی عمل ختم کرتے ہوئے علیحدہ اتحاد بنا لیا ہے جس کے تحت رواں ماہ 23 فروری سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مفاہمتی پرواز کو دیکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد سے عملاً علیحدگی اختیار کر لی۔ جے یو آئی نے 3 اپوزیشن جماعتوں سے سیاسی قطع تعلق کا حتمی فیصلہ کرلیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں نیا سیاسی الائنس قائم کردیا گیا ہے۔ 6 جماعتی اپوزیشن الائنس نے ماہ فروری کے وسط سے حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیت علما اسلام کے سربراہ نے پیپلزپارٹی، ن لیگ، اے این پی کے ساتھ مشاورتی عمل بھی ختم کردیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے نئے 6 جماعتی اپوزیشن اتحاد میں جے یو آئی، نیشنل پارٹی، جمعیت اہلحدیث، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی شامل ہیں، اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی اورجمعیت علمائے پاکستان بھی شامل ہوں گی۔

23 فروری کو کراچی سے فضل الرحمان حکومت مخالف تحریک کا آغاز کریں گے۔ اسی روز کراچی میں 6 اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ جلسہ ہو گا جبکہ 13 مارچ کو مینار پاکستان لاہور میں جے یو آئی کے تحت جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS