چودھری برادران اور چوہے بلی کا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چودھری برادران کا پاکستان کی سیاست میں بہت اہم کردار ہے، چودھری خاندان کی وضع داری کے سب ہی معترف ہیں جس سے دوستی یا تعلق بناتے ہیں اسے آخر دم تک نبھاتے ہیں، یہ اعزاز پاکستان کے کسی اور سیاسی خاندان کو حاصل نہیں ہے، سیاست میں جب چودھری برادران شریف خاندان کے دوست تھے تو اسے آخر تک نبھایا مگر جب وہ اپنی جان بچا کر مشرف دور میں ملک چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کو بے یارومددگار چھوڑ گئے تو اس بے وفائی پر پھر چودھری برادران نے اپنا راستہ الگ کرلیا اگر شریف خاندان مشرف کے سامنے ڈٹ جاتا تو چودھری برادران شریف خاندان سے کندھا سے کندھا ملا کر کھڑے رہتے۔

چودھری شجاعت حسین صلح جو اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے انسان ہیں، ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہے ”مٹی پاؤ تے روٹی (کھانا) کھاؤ“۔ اس جملے میں بہت بڑی تھیوری ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ دشمن کے سامنے بیٹھے ہیں اور گلے شکوے ہورہے ہیں تو بات توڑ نہیں پہنچے گی اس کا چودھری شجاعت نے سادہ اور جٹکا حل نکالا ہے، ”مٹی پاؤ تے روٹی کھاؤ“ روٹی (کھانا) ایک ایسی چیز ہے کہ اگر کسی شخص میں ضمیر کی ذرا سی بھی رمق باقی ہو تو وہ اس کا کھانا کھانے کے بعد اس کی محبت کے بوجھ تلے دب جائے گا اور کھانے کے بعد اس کے گلے شکوے قدرتی طور پر ختم ہوجائیں گے اور وہ بلابحث بات ختم کردے گا اور آپ کو گلے لگا لے گا۔

چودھری پرویز الٰہی تو مجھے ویسے ہی بہت پسند ہیں اس کی ایک وجہ تو ان کی خوبصورت مسکراہٹ ہے اور دوسرا وہ میرے سمیت لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے صحافیوں کے محسن بھی ہیں جنہوں نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں صحافیوں کے لئے کالونیاں بنائیں اور ہر صحافی کو 10 مرلے کا پلاٹ دیا، یہ ایک ایسا احسان ہے جس کا بدلہ ہم صحافی زندگی بھر نہیں اتار سکتے کیونکہ میڈیا مالکان تو ایسی جونکیں ہیں جنہوں نے عمر بھر کارکنوں کا خون ہی چوسا ہے اور اپنے اربوں روپے کے اثاثے بنا لئے ہیں مگر کارکنوں کو کچھ نہیں دیا۔

آج کل کی سیاست میں چودھری برادران چھائے ہوئے ہیں، ان کی اتنی اہمیت ہے کہ ایک دن میں وفاقی اور پنجاب حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں مگر جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ چودھری برادران جن کے ساتھ کھڑے ہوں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے چاہے ان کا اپنا ہی نقصان ہوجائے، شریف خاندان بدقسمت تھا جو کہ ایسے دوستوں کو دور کردیا، ملکی سیاست کو جس طرح چودھری برادران سمجھتے ہیں اس طرح کوئی اور نہیں سمجھتا۔

چودھری پروزی الٰہی آٹھ سال پنجاب اسمبلی کے سپیکر رہے، ان کی خواہش تھی کہ شریف خاندان نے پنجاب پر بہت سال حکومت کرلی ہے اب ان کو بھی موقع دیا جائے مگر شریف خاندان کہاں یہ برداشت کرتا کہ ان کی سلطنت شریفیہ میں کوئی اور حصہ دار بنے۔

1995 ءمیں پنجاب میں پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت تھی، مخدوم الطاف احمد پنجاب کے سینئر وزیر تھے، مرحوم پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے تھے جبکہ پرویز الٰہی ن لیگ کے ساتھ تھے، اس وقت مخدوم الطاف احمد نے چودھری پرویز الٰہی کو راضی کرلیا کہ وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مل جائیں، مگر بڑے بھائی چودھری شجاعت نہ مانے اور وضع داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شریف برادران کو نہیں چھوڑا، چودھری پرویزالٰہی کی بات اس وقت درست ثابت ہوگئی جب شریف خاندان پرویز مشرف سے ڈیل کر کے رات کے اندھیرے میں خاندان سمیت ملک سے بھاگ گئے (جیسے آج کل بھاگے ہوئے ہیں)، اس بات کا چودھری برادران کو رنج تھا جس پر انہوں نے پرویز مشرف سے ہاتھ ملا لیا، اس کے بعد چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے، چودھری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کا دور پنجاب کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے، آج بھی ان کے منصوبوں سے پنجاب کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔

حالات بدلتے رہے، پیپلزپارٹی کی حکومت آگئی تو چودھری برادران پیپلزپارٹی کے اتحادی بن گئے اور پرویز الٰہی نے نائب وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا اور یہ ساتھ انہوں نے مکمل طور پر نبھایا، پھر تبدیلی کا سونامی چلا تو سونامی انتخابات میں مطلوبہ سیٹیں نہ لے سکا ان حالات میں ایک بار پھر چودھری برادران کی اہمیت اور ضرورت بڑھ گئی اور وہ تحریک انصاف کے اتحادی بن گئے۔

اب کی بار سیاسی صورتحال بہت دلچسپ ہے، وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت چند ووٹوں پر کھڑی ہیں، آج اگر ق لیگ اتحاد سے نکل جائے تو تحریک انصاف کی حکومتیں بوسیدہ عمارت کی طرح دھڑم سے نیچے گر جائیں، عمران حکومت سے ان کو بہت گلے شکوے ہیں جس کا وہ وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتے رہتے ہیں، چودھری برادران سیاست کے پتے کھیلنا خوب جانتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہی رہیں گے اور یہ بھی باور کراتے ہیں کہ ن لیگ والے بھی ان سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ اچھا دوست وہی ہوتا ہے جو کہ اپنے دوست کو اس کی خامیوں کے بارے میں آگاہ کرتا رہے، چودھری برادران مسلسل عمران حکومت کو ان کی خامیوں اور غلطیوں کے بارے میں آگاہ کرتے رہتے ہیں مگر کیا کیا جائے خان صاحب نے حکومت کو بھی کرکٹ گراؤنڈ ہی سمجھ رکھا ہے اور اپنی من مانی کررہے ہیں، ان کو ادارک ہی نہیں کہ حالات کس قدر بگڑ رہے ہیں اور چودھری برادران ان کو بروقت متنبہ کررہے ہیں، اب خان صاحب کی عقل میں نہ کچھ آئے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود چودھری برادران اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کا آخر تک ساتھ دیں گے۔

ن لیگ کی حالت اس وقت قصائی کے پھٹے کے نیچے بیٹھے اس بلے کی مانند ہے کہ اوپر سے کوئی چھچھڑا یا گوشت کا ٹکڑا گرے اور وہ اس پر جمپٹ پڑے، چوھردی برادران کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ روازنہ بول کر ن لیگ کو چھچھڑا ہوا میں لہرا کر دکھاتے ہیں جس پر ن لیگ کے منہ میں بار بار پانی آتا ہے، کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی ن لیگ سے چوہے بلی کا کھیل کھیل رہے ہیں، جس میں بلی چوہے پکڑ کر اسے کھیلتی ہے اور نہ تو بلی چوہے کو چھوڑتی ہے اور نہ ہی کھاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *