پاکستان میں سوشل میڈیا پر ’کم عمری‘ میں شادی کرنے والے جوڑے کی دھوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین میں شادی کی صحیح عمر سے متعلق ایک بحث اُس وقت چھڑ گئی جب گذشتہ روز ایک شادی شدہ جوڑے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر میں بظاہر یہ جوڑا کم عمر معلوم ہوتا ہے اور اس پر بحث چھڑ گئی۔

البتہ متعدد صارفین نے جہاں اس جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا وہیں دیگر صارفین نے کم عمری میں شادی کرنے سے متعلق مسائل کا بھی تذکرہ کیا۔

شادی کے بندھن میں بندھنے والے اسد کی بہن زرپاش خان نے سوشل میڈیا پر اس بات کی وضاحت کی کہ میاں بیوی کو شادی کرنے کے لیے گھر والوں کی جانب سے کسی قسم کی زور زبردستی نہیں کی گئی اور دونوں اپنے فیصلے پر بے حد خوش ہیں۔ تاہم انھوں بے ان کی عمریں واضح نہیں کیں۔

شادی کی آخر کوئی صحیح عمر ہوتی بھی ہے؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین اس موضوع پر تقسیم دکھائی دیے کہ آخر شادی کرنے کی صحیح عمر ہے کیا۔

ایک ٹوئٹر صارف نے مزاحیہ انداز میں پوسٹ کیا کہ جس عمر میں اسد اور نمرہ کی شادی ہوئی ہے اُس عمر میں تو وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کس شعبے کا انتخاب کریں۔

 

اس نو بیاہتہ جوڑے کی عمر سے متعلق بحث نے صارفین کو اس تجسس میں بھی مبتلا کردیا کہ آخر پاکستان میں کم عمر کی شادی سے متعلق قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے گذشتہ سال کم عمری کی شادی سے متعلق ایک بل منظور کیا تھا جس کے مطابق لڑکی کی شادی کی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

البتہ قومی اسمبلی میں پیش ہونے پر اس بل کو مذہبی جماعتوں سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اس بل کو قائمہ کمیٹی میں بھجوا دیا گیا اور تاحال اس بل پر کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی ہے۔

‘جیو اور جینے دو’

پاکستانی معاشرے میں جہاں مذہبی اعتبار سے بیشتر لوگ اس بات پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ شادی جلد ہوجانی چاہیے وہیں بہت سے لوگوں کے نزدیک ایک شخض کا صاحب استطاعت ہونا بھی لازمی ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ اگر کوئی بھی شخض صاحب اسطاعت ہے تو کم عمر میں شادی کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

 

پاکستان میں تجارتی برادری میں بالخصوص یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شادی کم عمر میں کردیتے ہیں جس کے بعد اُن کے بچے اپنے خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

البتہ ایک صارف کے لیے صاحب اسطاعت ہونا یا اس جوڑے سے متعلق کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس کو متنازعہ بنایا جائے۔

 

مریم نامی ایک صارف نے اس جوڑے پر ہونے والی تنقید کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا فرق پڑتا ہے اگر لڑکے کی عمر لڑکی سے کم ہے یا یہ جوڑا اپنے اخراجات کی دیکھ بال کیسے کرے گا۔

مریم نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے صارفین کو ایک مفت مشورہ بھی دے ڈالا جس میں نو بیاہتہ جوڑے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘جیو اور جینے دو، سکون سے اور خوش رہنے دو‘۔

‘کنوارے ہی مریں گے ہم’

ان تصاویر پر جہاں کم عمری کی شادی سے متعلق بحث جاری ہے وہیں متعدد صارفین نے اپنی شادی نہ ہونے کے دکھ کا بھی اظہار کیا ہے۔

عبداللہ نامی ایک صارف نے کہا کہ ‘کنوارے ہی مریں گے ہم۔’ انھوں نے اسد اور نمرہ کو شادی کی مبارکباد تو دی مگر ساتھ ہی اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اُن کے والدین بھی اس سے سبق حاصل کریں اور اُن کی جلد شادی کردیں۔

ایک اور صارف نے بھی ملتے جلتے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے والدین کو اس جوڑے کی تصاویر متعدد بار دھکائیں صرف اس امید سے کہ شاید انھیں بھی اس سے کوئی اشارہ مل جائے۔

’وہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھیں گے‘

دولہے کی بہن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر جوڑے کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ میرے بھائی اور بھابھی شادی کے بعد بہت خوش ہیں اور وہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھیں گے۔

یہ ردعمل سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے جواب میں سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس عمر میں شادی ہونے سے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات پڑیں گے۔ زرپاش خان کی اپنے بھائی اور بھابھی کے مستقبل میں تعلیم سے متعلق بات نے دیگر صارفین کو مثبت طور پر متاثر کیا۔

ایک صارف نے ان کا تعلیم جاری رکھنے کے فیصلے کو اپنی ٹویٹ میں شامل کیا اور ساتھ ہی ساتھ اس جوڑے کو ازدواجی زندگی کی شروعات کرنے پر مبارکباد بھی دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12732 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp