بھارت ہمارا شیطان ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کی ہر خدائی کو ہمیشہ کسی شیطان سے خطرہ رہا ہے کیوں کہ شیطان واحد مخلوق ہے جو سجدے کا انکاری ٹھہری تھی۔ اور خدائی میں پلنے والی مخلوق کو ہمیشہ اپنے بھلے کا سبب خدا اور برے کی وجہ شیطان کو ٹھہرانا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے کافی فائدے ہیں انسان اپنی محرومیوں کا گلا شکوہ نہیں کرتا۔ وہ اور بات ہے کہ کبھی بھی مخلوق کو درست شیطان سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔

جوزف اسٹالن سوویت یونین کی اشتراکی جماعت کے جنرل سیکرٹری تھے۔ طبقاتی جدوجہد یا عروف عام لیفٹ کے مشہور لیڈر مانے جاتے ہیں۔ 1924 میں لینن کی وفات کے بعد وہ سوویت اتحاد کے سربراہ بنے۔

اسٹالن نے مکمل زیر تسلط معیشت کا تصور پیش کیا اور تیز تر صنعت کاری اور اقتصادی تجمیع (Collectivization) کے عمل کا آغاز کیا۔ زرعی شعبے میں یک دم تبدیلی نے اشیائے خور و نوش کے پیداواری عمل کو تہ و بالا کر ڈالا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قحط پھیلا جس میں 1932 کا قیامت خیز سوویت قحط بھی شامل ہے جسے یوکرین میں Holodomor کہا جاتا ہے۔

1930 کی دہائی کے اواخر میں اسٹالن نے عظیم صفائی (Great Purge) کا آغاز کیا۔ جسے عظیم دہشت (Great Terror) بھی کہا جاتا ہے۔ جو اشتراکی جماعت کو ان افراد سے پاک صاف کرنے کی مہم تھی جو بد عنوانی، دہشت گردی یا غداری کے مرتکب تھے۔ ایسے اعمال نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار بھی کرتے رہے ہیں لیکن یہ بحث پھر کبھی صحیح آج کا زیر موضوع کچھ اور ہے۔

اسٹالن نے اس مہم کو عسکری حلقوں اور سوویت معاشرے کے دیگر شعبوں تک توسیع دی۔ اس مہم کا نشانہ بننے والے افراد کو عام طور پر قتل کر دیا جاتا یا جبری مشقت کے کیمپوں (گولاک) میں قید کر دیا جاتا یا پھر وہ جلاوطنی کا سامنا کرتے۔ آنے والے سالوں میں ایسے لاکھوں لوگ قتل جبری ہجرت کا نشانہ بنائے گئے۔

جوزف اسٹالن سے بہت سی حیرت انگیز باتیں منسوب ہیں۔ وہ نہایت تیز طبعیت کے مالک اور چڑچڑے رہتے اور کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی نکتے کی وضاحت کرنے کے لئے کوئی بھی عمل کر کہ دکھا دیتے تھے۔ جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

زندگی کے ایک حصے میں اسٹالن کافی اضطراب کا شکار ہوگئے۔ اسے ان باتوں کا پچھتاوا محسوس ہونے لگا اور اسے نیند کم آنے لگی۔ رات کو اسے محسوس ہوتا کہ ان لوگوں کی روحیں اسے تنگ کر رہی ہیں۔ اسٹالن ملحد ہونے کے ناتے کسی معافی تلافی پر یقین نہیں رکھتا تھا نا ہی کسی ایسی قوت کی موجودگی کو تسلیم کرتا تھا جس کے سامنے گڑگڑا کر ذہنی سکون حاصل کیا جا سکے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ یہ مسئلا کسی سائکولوجسٹ سے شیئر کیا جائے۔

وہ ایک دن سائکولوجسٹ کے پاس گیا اسے اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ڈاکٹر ہونے کے ناتے وہ اس کیفیت کو سمجھ گیا اور سوال کرنے کی جسارت کرنے لگا۔ ڈاکٹر نے اسٹالن سے کہا کہ تم خدا کو مانتے ہو؟ اسٹالن نے جواب دیا کہ نہیں۔

ڈاکٹر نے کہا ٹھیک ہے۔

پھر ڈاکٹر نے اسٹالن سے سوال کیا کہ آپ شیطان کو مانتے ہیں؟

اسٹالن غصے میں آگیا اور ڈاکٹر سے بولا عجیب بے وقوف ہو تم! جب خدا کو نہیں مانتا تو شیطان کو کیسے مانوں گا؟

ڈاکٹر نے اسٹالن کو سمجھایا کہ دیکھیں آپ خدا کو مانیں یا نا مانیں لیکن آپ کو شیطان کو ماننا پڑے گا، کیونکہ مذہب کے پیروکاروں کے لئے سب سے بڑا تحفہ شیطان ہے۔ بڑے سے بڑا گناہ کر کے شیطان کے گلے میں ڈال کر آپ ذہنی اذیت سے آزاد ہوجاؤ۔ شیطان کا کوئی بھی وجود نہیں ہے۔ شیطان ایک Satisfaction ہے۔ آپ اپنے برے اعمال کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرانے کے سوا نہیں جی سکتے

اسٹالن نے بڑا قہقہہ لگایا، اور بولا آج سے میرا شیطان امریکا ہے۔

مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بھارت ہمارا شیطان ہے۔ جسے ہم اپنے مخصوص دنوں میں کنکر مارنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے جیسے آبادی بڑھتی جا رہی ہے ہمارے پاس کنکر مارنے والے حاجیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ جنہوں نے کبھی اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کی جسارت نہیں کی۔ اس صورت میں مملکت اللہ داد نے شیطان بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب ہمارے شیطانوں میں افغانستان نامی شیطان کا اضافہ ہوگیا ہے جس پر کافی آبادی مطمئن ہے۔ ہماری ضروریات کے مد نظر ہماری عظیم ریاست نے ایران نامی تیسرے شیطان کو بھی تراشنا شروع کر دیا ہے لیکن وہاں پھر کچھ آبادی کو اعتراضات ہیں۔ اس صورت میں ہمیں آزادی ہے کہ ہم ایران کو شیطان مانیں یا نا مانیں لیکن ہمیں مملکت خدا داد کی طرف سے کوئی زبردستی نہیں ہے۔ البتہ اس وقت ہمارے ریاستی بیانیے میں دو شیطان کمپلسری ہیں۔ جن میں سے ایک بھارت اور دوسرا افغانستان ہے۔

ان دو ریاستی شیطانوں کو کنکر نا مارنے والے اس مملکت خدا داد میں غدار کہلاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھی مملکت خدا داد کی یونیورسٹیوں میں غداری کے سرٹیفیکیٹ سے نوازا جاتا ہے جو اس بارے میں سوال کرتے ہیں۔ ہمیں 73 سالوں میں حقیقی شیطانوں کا تعارف نہیں کرویا گیا جو ہمارے برے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں کبھی پوجا گیا تو کبھی ان کے اور ان کی اولادوں کے ترانے پڑے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کہ ہم پست سے پست ہو گئے۔ لیکن آج بھی ان دو شیطانوں کو کنکر مارنا ہمارا ریاستی فریضہ ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ ہمارے کسی برے اعمال کے یہ ذمہ دار نہیں ہیں لیکن پھر بھی ببانگ دہل ہمیں کہنا ہوگا کہ بھارت ہمارا شیطان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *